Wednesday , September 20 2017
Home / اداریہ / ٹاملناڈو میں نئی حکومت کا حلف

ٹاملناڈو میں نئی حکومت کا حلف

دشواریاں بھی راہ کی حائل نہ ہوسکیں
ہم جارہے ہیں منزلِ دشوار کی طرف
ٹاملناڈو میں نئی حکومت کا حلف
ٹاملناڈو میں بالآخر بحران کی کیفیت ختم ہوگئی ۔ ریاست گذشتہ دو مہینوں سے ملک بھر کے عوام کی توجہ کا مرکز رہی اور سرخیوں میںاس کا چرچا رہا ۔ پہلے تو جئے للیتا کے انتقال کی وجہ سے سارے ملک کی توجہ اس ریاست کو حاصل رہی پھر بعد میں وی کے ششی کلا کے پارٹی جنرل سکریٹری کی حیثیت سے انتخاب اور پھر چیف منسٹر بننے کیلئے ان کی خواہش کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر رہی تھیں۔ آنجہانی جئے للیتا کے انتہائی با اعتماد سمجھے جانے والے پنیرا سیلوم نے پہلے تو ششی کلا کے انتخاب کی حمایت کی تھی اور بحیثیت چیف منسٹر استعفی بھی پیش کردیا تھا تاہم بعد میں اچانک انہوں نے ششی کلا کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور چیف منسٹر کی حیثیت سے برقرار رہنے کی جدوجہد کی ۔ ششی کلا بھی لمحہ آخر تک شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوئیں۔ حالانکہ انہیںسپریم کورٹ کی جانب سے غیر محسوب اثاثہ جات کے مقدمہ میں خاطی قرار دیتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا ہے لیکن انہوں نے جئے للیتا کی طرح پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ۔ انہوں نے پہلے تو ارکان اسمبلی کی تائید حاصل کی ‘ انہیں ایک ریسارٹ منتقل کیا اور پنیرا سیلوم کی بغاوت کو خاطر میں لائے بغیر کسی شاطر سیاسی لیڈر کی طرح لمحہ آخر تک صورتحال کا جائزہ لیتی رہیں اور حالات کو اپنے بس میں رکھنے کی حتی المقدور کوشش کی ۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کو ریسارٹ میںعملا قید کردیا تھا ۔ ارکان اسمبلی کو ان کے افراد خاندان سے ملاقات کیلئے تک بھی مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ پھر جب عدالت کا فیصلہ ان کے خلاف آگیا اور انہیں سزا سنادی گئی تو انہوں نے فوری حرکت میں آتے ہوئے پنیرا سیلوم کو پارٹی سے خارج کردیا اور پلانی سامی کو قائد مقننہ مقرر کرتے ہوئے چیف منسٹر کی حیثیت سے ان کی حلف برداری کی راہ ہموار کردی ۔ پلانی سامی بھی ششی کلا کیلئے اسی حیثیت کے حامل ہیں جو جئے للیتا کیلئے پنیرا سیلوم تھے ۔ پنیرا سیلوم ہمیشہ خود کو جئے للیتا کا ایک معمولی خدمت گذار قرار دیا کرتے تھے اور پلانی سامی بھی ششی کلا کیلئے اسی طرح کے جذبات رکھتے ہیں۔ یہ شخصیت پرستی کی مثالیں ہیں ۔ حالانکہ شخصیت پرستی ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی ہے لیکن ٹاملناڈو کی طرح کی مثال شائد ہی دوسری ریاستوں میں مل سکے ۔
سیاسی اتھل پتھل ‘ بالا دستی کا حصول ‘ پارٹی اور حکومت پر کنٹرول ‘ اپنے عزائم کی تکمیل کی جدوجہد جیسے واقعات کے بعد اب جبکہ ریاست میں ایک باضابطہ حکومت قائم ہوگئی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں پیش آئے واقعات کو پس پشت ڈالتے ہوئے آگے بڑھنے پر توجہ دی جائے ۔ حکمرانی پر توجہ دی جائے ۔ شخصیت پرستی اور وفاداری ثابت کرنے کے مواقع اور بھی ہوسکتے ہیں اور ان سے فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے لیکن اب عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوششوں کی ضرورت ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست میں حکمرانی پر توجہ دی جائے ۔ عوام کو درپیش مسائل کی یکسوئی کی کوششیں کی جائیں ۔جو حالات گذشتہ دو ماہ کے دوران دگرگوں ہوگئے تھے انہیں بہتر بنایا جائے ۔ ریاست میں نظم و نسق کو دوبارہ سرگرم اور متحرک کیا جائے ۔ لا اینڈ آرڈر مشنری پر گرفت بنائی جائے ۔ جو کام رکے پڑے ہیں اور ٹھپ ہوگئے تھے انہیں دوبارہ بحال کیا جائے ۔ سرکاری اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے ۔ جو پراجیکٹس ٹھپ ہوگئے ہیں ان پر پیشرفت کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ اس کے علاوہ بھی حکومت کے درجنوں کام ہوتے ہیں جو گذشتہ دو ماہ کے دوران تعطل کا شکار ہوکر رہ گئے تھے ان سب پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی موقع پرستی اور ذاتی مفادات کی تکمیل سے پرے ہوکر اب حکومت کے استحکام پر پارٹی کے ارکان اسمبلی کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ریاست کے عوام نے اس پارٹی کو جن امیدوں کے ساتھ دوبارہ اقتدار سونپا تھا ان امیدوں اور توقعات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے ۔
یہ کہا جاسکتا ہے کہ پلانی سامی ریاست کے چیف منسٹر تو بن گئے ہیں لیکن ان کا یہ نیا سفر کوئی آسان نہیں ہوگا ۔ انہیں تجربہ کی کمی کا مسئلہ بھی رہے گا اور پارٹی کے ارکان اسمبلی سے بھی ہر وقت خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ پنیراسیلوم یا ان کے حامی کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں جاری رکھیں گے ۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اس صورتحال سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں اس صورت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی کے تمام سینئر قائدین اپنے تجربہ کو بروئے کار لائیں اور پلانی سامی کی رہنمائی کریں تاکہ ریاست میں واقعی عوامی حکومت کی موجودگی کا احساس کیا جاسکے اور حکمرانی پر توجہ کرتے ہوئے ترقیاتی سفر پر گامزن ہوا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT