Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / ٹاملناڈو میں چیف منسٹر بننے کا خواب بکھر گیا

ٹاملناڈو میں چیف منسٹر بننے کا خواب بکھر گیا

غضنفر علی خان
جنوبی ریاست ٹاملناڈو میں ہم یشہ ایسے سیاسی لیڈر عروج حاصل کرتے رہے جن کا فلمی پس منظر تھا ۔ چنانچہ ایم جی رامچندرن ٹامل فلمی دنیا میں سے سیاست میں داخل ہوئے تھے جہاں تک آنجہانی سابق چیف منسٹر جیہ للیتا کی بات ہے ، ان کا بھی فلمی کیریئر شاندار رہا ہے ۔ بالآخر فلمی دنیا کو ترک کرکے ایم جی رامچندرن کے ساتھ ہوگئیں اور سیاسی زندگی شروع ہوئی ۔ ٹاملناڈو کے ایک اور سابق چیف منسٹر ایم کروناندھی بھی ٹامل فلمی دنیا میں اسکرین پلے رائٹرکی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ایک لیڈر جو عوامی مقبولیت کی حد کو پہنچ کیا تھا وہ آنجہانی اناذرا رائے تھے جن کی طبعی موت ہوگئی ۔ لوگوں نے خودکشی کی تھی ۔ موجودہ حکمراں انا ڈی ایم کے انہیں کے نام پرقائم کی گئی تھی۔ یہ سب لیڈر اگرچہ کہ ہمیشہ مقامی رہے کبھی ان میں سے کسی نے قومی سیاست میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی لیکن اپنی ہی ریاست میں ان کی عوامی مقبولیت غیر معمولی تھی ۔ ٹامل عوام کا عام طور پر یہ رجحان رہا ہے کہ انہیں اپنے لیڈر سے بے انتہا محبت ہوتی ہے جو بسا اوقات hero-worship کی شکل اختیار کرتی رہی۔

اس پس منظر میں اگر ٹاملناڈو کی چیف منسٹر بننے کی ششی کلا کی خواہش کا اگر جائزہ لیاجائے تو وہ کہیں بھی موزوں نظر نہیں آتیں ۔ نہ تو خود انہوں نے کبھی سیاسی زندگی گزاری اور نہ کبھی فلمی دنیا سے وابستہ رہیں۔ حالانکہ ریاست کی چیف منسٹر بننے کی کوشش سے پہلے انہیں ان باتوں پر غور کرلینا چاہئے تھا ۔ ششی کلا کی قابلیت صرف یہی تھی کہ وہ آنجہانی جیہ للیتا کی سہیلی تھیں۔ انہیں کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے اور نہ کبھی تھا ۔ البتہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ آنجہانی جیہ للیتا کی بہت قریب تھیں۔ ان کے گھر اور ان کے کاروبار کی نگرانی کرتی تھیں اور جیہ للیتا بھی ان پر اٹوٹ اعتماد کرتی تھیں۔ سوال یہ ہیکہ کسی شخص کا کسی مقبول عام لیڈر سے قریب ہونا اس کو ایسے لیڈر کا جانشین بنانے کیلئے کافی ہے ۔ اگر سیاست داں اور چیف منسٹر بننے کیلئے صرف شخصی تعلقات اور قربت ہی کافی ہے تو سیاسی میدان میں ایسے کئی لوگ پیدا ہوجائیں گے جو میڈم ششی کلا کی طرح ہی ہوں گے کیونکہ ہر مقبول عام لیڈر کے اطراف ایسے چند وفادار لوگ ضرورت ہوتے ہیں جو ان کے مرنے کے بعد جانشین ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ششی کلا یہ بھی بھول گئیں کہ ان کے خلاف معروف ذرائع کے تناسب سے بہت زیادہ دولت ہے۔ Disproportionate دولت کیلئے ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا تھا ۔ چیف منسٹر بننے کی کوشش سے پہلے ہی ان کو اندازہ ہونا چاہئے تھا کہ ان کی بے حساب کمائی کیلئے انہیں عدالت ضرور سزا دے گی اور یہی ہوا۔ سپریم کورٹ نے انہیں چار سال کی قید کی سزا دی۔ ان پر کروڑہا روپیہ جمع کرنے کا سنگین الزام تھا ۔ وہ کبھی یہ نہ بتاسکیں کہ آخر یہ بے حساب دولت ان کے پاس کہاں سے آئی ہے ۔ کیا یہ دولت انہوں نے آنجہانی جیہ للیتا سے اپنے قریبی تعلقات کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہوئے حاصل کی تھی ؟ وہ خود کسی دولت مند گھرانے سے تعلق نہیں رکھتیں۔ ان کو یہ خطرہ ہمیشہ ہی درپیش تھا کہ عدالت انہیں اپنے انجام تک پہنچائے گی ۔ قانون کی چکی آہستہ پیستی ہے لیکن باریک پیستی ہے ۔ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں اور خواہ کوئی ملزم کچھ عرصہ تک قانون کی گرفت سے بچا رہے بالآخر قانون کے ہاتھ اس کے گریباں تک پہنچ ہی جاتے ہیں ۔ ششی کلا ان تمام اندیشوں سے اگر واقف ہوتیں تو کبھی چیف منسٹر کے عہدہ کا خواب نہیں دیکھتیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آنجہانی جیہ للیتا کی دوست یا سہیلی ہونے کے با وجود انہوں نے کبھی روز مرہ کی سیاست میں حصہ نہیں لیا ، انہیں سیاسی نشیب و فراز کا کوئی اندازہ ہی نہیں تھا ۔ جیہ للیتا کی موت کے بعد چند دن تک وہ خاموش رہیں لیکن ابھی جیہ للیتا کے قبر کی مٹی بھی سوکھنے نہ پائی تھی کہ انہوں نے خود کو جانشین کی حیثیت سے پیش کرنا شروع کردیا ۔ جیہ للیتا کی موت کے بعد پارٹی نے کارگزار چیف منسٹر کی حیثیت سے او پنیرا سیلوم کو نامزد کیا تھا ۔ اس وقت تک بھی ششی کلا کا دور دور تک کوئی ذکر نہں تھا ، پھر اچانک انہوں نے اپنی سرگرمیاں بڑھادی اور اپنا دعویٰ پیش کردیا ۔ گورنر ٹاملناڈو ودیا ساگر راؤ کے ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا ۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ گورنر موصوف اپنے عہدہ کی دستوری ذمہ داری پوری کرنے سے زیادہ مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کے مشوروں پر کام کر رہے تھے۔ ششی کلا نے انا ڈی ایم کے پارٹی کے 130 منتخبہ ارکان اسمبلی کو ٹاملناڈو کی ایک تفریح گاہ میں چھپالیا تھا تاکہ کارگزار چیف منسٹر او پنیرا سلوم ایم ا یل ایز کو بہکا نہ سکیں لیکن اس کھیل میں بھی ششی کلا ناکام رہیں۔ رفتہ رفتہ ان کی بظاہر حمایت کرنے والے ایم ایل ایز کارگزار چیف منسٹر کے کیمپ میں شامل ہوتے رہے ۔ ششی کلا سخت پریشان تھیں، انہیں اندازہ ہورہا تھا کہ تفریح گاہ سے ایم ایل ایز کو باہر نکالنا ان کے سیاسی حریف کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہے اور ا یسا ہی ہوا۔ کارگزار چیف منسٹر اکثریت کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے نظر آئے اور ششی کلا پر عدالت کے فیصلہ کی مار بھی اسی دوران پڑی ۔ آج وہ جیل میں زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں رہا ۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا ہے کہ ششی کلا 10 سال تک انتخابات نہیں لڑ سکتیں، یہ دوہرا فیصلہ کہ 4 سال جیل میں رہیں اور 10 سال تک چناؤ میں حصہ نہ لیں۔ ہر طرح سے ششی کلا کے اپنے سیاسی کیریئر پر کاری ضرب ہے جو انہیں کبھی دوبارہ سیاست میں قدم رکھنے نہیں دے گی ۔ ٹاملناڈو کی سیاست کا ایک اور پہلو یہ بھی ہیکہ یہاں اخلاقی اصولوں کا زیادہ پاس و لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ سیاست میں لاکھ گندگی سہی لیکن ایک نکتہ پر آکر بعض سیاست داں اخلاقی حدوں میں رہنے ہی کو ترجیح اور اپنی بقا کا سامان سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن ششی کلا سے ایسی کوئی امیدنہیں کی جاسکتی۔

TOPPOPULARRECENT