Saturday , April 29 2017
Home / اداریہ / ٹاملناڈو پر بی جے پی کی نظر

ٹاملناڈو پر بی جے پی کی نظر

محفل ناز میں جانا ہے ضروری میرا
دل اس امید پہ کھویا ہے کہ پانا ہے تمہیں
ٹاملناڈو پر بی جے پی کی نظر
ٹاملناڈو میں سیاسی بحران کو ہوا دینے والے حالات پیدا کرکے ایک غیرجمہوری ماحول کو بڑھاوا دیا جاتا ہے تو یہ بغاوت، غداری اور پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اقتدار حاصل کرنے کے ماضی کے سیاسی واقعات کی یاد تازہ ہوگی۔ جنوبی ہند کی اس ریاست میں گذشتہ ماہ سے حکومت مناسب طریقہ سے کام نہیں کررہی ہے۔ ایک مستحکم حکومت فراہم کرنے کیلئے دستوری اتھاریٹی کو ہی غیرجانبدارانہ رول ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات نوٹ کی جارہی ہیکہ گورنر ودیا ساگر راؤ تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کرنے کے باوجود انا ڈی ایم کے لیڈر ششی کلا کو حلف دلانے تیار نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ششی کلا کے خلاف رشوت ستانی کا کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے اور جب تک سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ نہیں آتا ٹاملناڈو میں سیاسی بحران یوں ہی برقرار رہے گا۔ سپریم کورٹ اپنا فیصلہ آئندہ ہفتہ تک سنانے کا امکان ہے۔ ایسے میں ششی کلا کی کارگذار چیف منسٹر او پنیراسیلوم کے ساتھ اقتدار کی چھیناچھپٹی کی کوشش فضول ہی ہوگی۔ سابق چیف منسٹر جیہ للیتا کے ساتھ غیرمحسوب اثاثہ جات کیس میں ششی کلا بھی ایک ملزم ہیں۔ ماضی میں مختلف ریاستوں میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بعض رہنمایانہ اصول بھی موجود ہیں اور ان کا اطلاق ٹاملناڈو پر بھی ہوسکتا ہے لیکن اس معاملہ میں ایسا معلوم ہوتا ہیکہ مرکز کی نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت ٹاملناڈو میں اپنے سیاسی وزن کو بڑھانے کا موقع پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے وہ ٹاملناڈو کے فلمی ستاروں خاص کر سوپراسٹار رجنی کانت کو سرگرم سیاست میں قدم رکھنے کی ترغیب بھی دیتے نظر آرہی ہے۔ ٹاملناڈو پر گذشتہ کئی دہوں سے فلمی شخصیتوں کی ہی حکمرانی رہی ہے۔ اب اگر رجنی کانت یا کمل ہاسن اس سیاسی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔ اس بحران کو طویل مدت کیلئے بھی جاری رکھا جانا مناسب نہیں ہوگا۔ جب اروناچل پردیش میں اسی طرح کا سیاسی بحران پیدا ہوا تھا تو انٹلیجنس بیورو نے کہا تھا کہ چین سے تعلق رکھنے والے بعض عناصر اس بحران کو بھڑکانے کا کام کریں گے۔ ٹاملناڈو میں جیہ للیتا کی موت کے باعث جو بحران پیدا ہوا ہے اس کا فائدہ کوئی اور دوسری طاقت اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ ریاستی انٹلیجنس یونٹ میں انسپکٹر جنرل پولیس کے ایس ستیہ مورتی کے تعلق سے کہا جارہا ہیکہ وہ ہفتہ سے ہی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہیں۔ حکومت کی مشیر شیلا بالکرشنن نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ چیف منسٹر کے سکریٹریٹ نے این وینکٹ رامن اور اے رام لنگم بھی رخصت پر ہیں۔ بیوریوکریسی کی بڑھتی عدم تعاون کی پالیسی خطرناک ہوسکتی ہے خاص کر سرحدی ریاست میں انٹلیجنس کا اہم رول ہوتا ہے۔ ٹاملناڈو کے کئی مسائل ہیں جہاں اس کی سرحدوں کا تعلق ہے یہاں بیشمار اسمگلنگ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہاں منشیات کی منتقلی کا ٹرانزٹ پوائنٹ بھی ہے جہاں سے اسمگلرس سری لنکا اور جنوب مشرقی ایشیاء کو منشیات کی آسانی سے منتقلی کی آئے دن رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ سری لنکا میں خانہ جنگی کے خاتمہ کے بعد براہ چینائی ملک میں ہیرائن کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ این سی پی میں موجود عہدیداروں کا کہنا ہیکہ ہیرائن کی اسمگلنگ کیلئے ٹاملناڈو ریاست کو ایک ٹرانزٹ مقام کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں سے سنگاپور، تھائی لینڈ اور ملائیشیا کیلئے منشیات کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ لہٰذا سیاسی بحران کا برقرار رہنا کسی بھی لحاظ سے ریاست اور ملک کیلئے مناسب نہیں۔ گورنر کو دستوری اصولوں کے مطابق فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹاملناڈو کے معاملہ میں بومائی کیس میں سپریم کورٹ نے جو فریم ورک وضع کیا ہے قابل عمل ہوسکتا ہے۔ فلم اداکاروں کے غلبہ والے ٹاملناڈو کی سیاست میں سیاستدانوں کی اہمیت صرف سیاسی کرمچاری کے طور پر رہ جاتی ہے۔ اس لئے گذشتہ چند دنوں سے او پنیرسیلوم کا رول دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہیکہ ٹاملناڈو کو ایک اور فلمی شخصیت کی ضرورت ہے۔ رجنی کانت اپنی ریاست کے سیاسی بحران کو دیکھ کر سرگرم سیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کرتے ہیں تو پھر بی جے پی کیلئے جنوبی ہند کی اس اہم ریاست میں کھاتہ کھولنے اور سیاسی ساکھ مضبوط بنانے کا موقع مل جائے گا۔ رجنی کانت اور وزیراعظم مودی کی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہیکہ گورنر ودیا ساگر راؤ تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کرنے کے باوجود ششی کلا کو یہ موقع دینے سے اس لئے گریز کررہے ہیں کہ مرکز سے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا اشارہ ملنے کا وہ انتظار کررہے ہوں۔
سبسیڈی والا راشن اور آدھار
حکومت نے غذائی سلامتی کے تحت راشن کے حصول کے خواہاں ضرورتمند شہریوں کیلئے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ سبسیڈی سے استفادہ کرنا چاہتے ہوں تو آدھار نمبر پیش کریں۔ حکومت جب سے آدھار متعارف کیا ہے سبسیڈی سے مستفید ہونے والے عوام کو کئی شعبوں میں فوائد سے محروم کرنے کی بھی مہم شروع کردی ہے۔ یہ 12 ہندسی شہری کا شناختی نمبرہمہ مقصدی بن گیا ہے۔ پکوان گیس کے حصول کیلئے سبسیڈی ہو یا قومی روزگار ضامن اسکیم سے استفادہ کرنا ہے تو آدھار سے مربوط کیا گیا ہے۔ اب وزارت غذا کے فیصلہ کے بعد غریبوںکو راشن حاصل کرنے کیلئے اپنا آدھار نمبر دینا لازمی ہوگا۔ نیشنل فوڈ سیکوریٹی ایکٹ کے تحت حکومت سبسیڈی حاصل کرنے والوں کو آسان اور بہتر سرویس دینا چاہتی ہے اور اس کام کو شفاف طریقہ سے انجام دینے کا ارادہ رکھتی ہے مگر آدھار رکھنے کے باوجود غریبوں کو سبسیڈی والا اناج نہیں ملتا ہے۔ راشن شاپ پر دھاندلیوں کی شکایات عام ہیں۔ متعلقہ محکمہ اس دھاندلی کو روکنے میں ناکام ہے۔ حکومت ملک کے 800 ملین قومی فوڈ سیکوریٹی ایکٹ کے استفادہ کنندگان میں سے کتنے ضرورتمندوں کی ضرورت کو پورا کرنے میں کامیاب ہورہی ہے اس کا اگر ریکارڈ باقاعدہ طور پر جانچ کرے تو راشن شاپس کی دھاندلیوں کا پتہ چلا کر خاطیوں کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ جو لوگ آدھار رکھتے ہیں راشن شاپ سے اپنے حصہ کا اناج حاصل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔ اہلیت رکھنے والے ہر شہری کیلئے ضروری ہیکہ وہ آدھار نمبر حاصل کرلے مگر سپریم کورٹ نے اسے سبسیڈی والے مقاصد کیلئے آدھار کے استعمال کو منتقل لازمی قرار نہ دینے کا عبوری حکم بھی جاری کیا ہے۔ اب ایسے میں وزارت اغذیہ کا فیصلہ کتنے ضرورتمندوں کو راشن سے محروم کرے گا اور سبسیڈی سے کون استفادہ کرے گا یہ ایک سراب سے کم نہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT