Wednesday , July 26 2017
Home / اداریہ / ٹاملناڈو کا بحران

ٹاملناڈو کا بحران

کچھ نہ کچھ حُسن تقافل کی تلافی ہوگی
مُسکراکر بھی کبھی اشک بہانا ہے ہمیں
ٹاملناڈو کا بحران
ملک میں ایک خاص کلچر اور روایات کی امین سمجھی جانے والی ریاست ٹاملناڈو میں ان دنوں سیاسی بحران کی کیفیت شدت اختیار کرگئی ہے ۔ یہاں سیاسی عدم استحکام کی کیفیت بھی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ وہاں کوئی با اختیار چیف منسٹر نہیں ہے جو ریاست کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے فوری اہمیت کے حامل فیصلے کرسکے ۔ او پنیر سیلوم نے اپنے عہدہ سے استعفی پیش کرنے کے بعد دوبارہ اپنی خواہشات کے مطابق وزارت اعلی کی کرسی حاصل کرنے کی تگ و دو شروع کردی ہے تو دوسری جانب آنجہانی جئے للیتا کی قریبی رفیق رہنے والی ششی کلا بھی اپنے سیاسی عزائم کے ساتھ میدان میں اتر گئی ہیں۔ انہوں نے اس معاملہ میں انتہائی جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ جس طرح سے جئے للیتا کی موت اور آخری رسومات کے بعد وہ پارٹی کی عبوری جنرل سکریٹری بن گئی ہیں اور پھر جس تیزی کے ساتھ وہ وزارت اعلی کی کرسی پر فائز ہونا چاہتی ہیں اس کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کے پیش نظر بھی ریاست یا ریاست کے عوام کا مفاد نہیں بلکہ سیاسی اقتدار اور کرسی کی خواہش ہی ہے ۔ سیاسی رسہ کشی کے اس وقفہ میں اب جئے للیتا کی موت کے تعلق سے بھی سوال پیدا کئے جا رہے ہیں اور موجودہ کارگذار چیف منسٹر پنیر سیلوم نے جئے للیتا کی موت کی تحقیقات کراونے کا ارادہ بھی ظاہر کردیا ہے ۔ پنیر سیلوم اپنے اقتدار کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ انہیں درکار تعداد میں ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہونے کے اشارے تو نہیں مل رہے ہیں لیکن ارکان پارلیمنٹ کی خاطر خواہ تعداد ان کی تائید میں آگے آر ہی ہے ۔ اس سے بھی کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ ریاست میں حکومت کی تشکیل میں ارکان پارلیمنٹ کا کوئی رول نہیں ہوتا اور وہ مرکز میں اپنا رول ادا کرتے ہیں اس کے باوجود وہ پنیر سیلوم کی تائید کر رہے ہیں جبکہ ریاست میں حکومت کی تشکیل میں کلیدی رول رکھنے والے ارکان اسمبلی اس معاملہ میں خاموش ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ارکان اسمبلی کو ایک ریسارٹ میں عملا قید میں رکھا گیا ہے ۔ ہندوستانی سیاست میں ایسا ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی لیڈر نے وزارت اعلی کی کرسی حاصل کرنے کیلئے ارکان اسمبلی کو ہوٹلوں میں یا پھر فارم ہاوز پر نظربند رکھا تھا ۔
ششی کلا وزارت اعلی کی کرسی حاصل کرنے کیلئے ان ارکان اسمبلی کو ریسارٹ میں رکھی ہوئی ہیں اور پنیر سیلوم کسی نہ کسی طرح ان تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اقتدار کیلئے اور کرسی کے لالچ کیلئے ہو رہا ہے ۔ اس سارے عمل میں جمہوری روایات کی جو دھجیاں اڑ رہی ہیں اس کی کسی کو فکر نہیں ہے ۔ جس طرح سے ششی کلا نے پارٹی اور حکومت پر کنٹرول حاصل کرنے جلد بازی دکھائی ہے وہ بھی قابل غور ہے ۔ حالانکہ ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ کا فیصلہ ہونے والا ہے اور اگر اس میں انہیں سزا ہوتی ہے تو پھر وہ اس کرسی پر فائز نہیں ہوسکتیں۔ اس فیصلے کیلئے محض چند دن کا وقت باقی ہے ایسے میں ان کی جلد بازی محض اقتدار کی ہوس کے اور کچھ نہیں ہے ۔ ششی کلا جس طرح سے پارٹی کی عبوری جنرل سکریٹری بن بیٹھی ہیں اس پر بھی اعتراض کئے جا رہے ہیں۔ خود الیکشن کمیشن نے ششی کلا کے اس انتخاب پر سوال اٹھایا ہے کیونکہ پارٹی میں اس طرح کا کوئی عہدہ پہلے سے نہیں تھا ۔ یہ محض ششی کلا کو کنٹرول سونپنے کی کوشش تھی اور اس کیلئے خود پارٹی کے اصولوں اور قوانین سے کھلواڑ کیا گیا تھا ۔ یہ اعتراض چونکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کیا جا رہا ہے اس لئے اس کی اہمیت بھی زیادہ ہے ۔ کمیشن کی جانب سے عموما سیاسی جماعتوں کے داخلی معاملات اور قائدین کے انتخاب میں کوئی مداخلت نہیں کی جاتی لیکن جب ٹاملناڈو میں اقتدار کیلئے اصولوں کو خیرباد کہدیا گیا تو کمیشن خاموش نہیں رہ سکا ۔ اقتدار کیلئے کسی بھی حد کو پار کرنے کے جو اشارے یہاں مل رہے ہیں حالانکہ وہ پہلی مرتبہ نہیں ہیں لیکن یہ قابل افسوس ضرور ہیں۔
ٹاملناڈو ملک کی وہ ریاست ہے جو صنعتی ترقی کے معاملہ میں ملک میں پانچواں مقام رکھتی ہے ۔ وہاں کا ایک خاص کلچر ہے ۔ وہاں کی خاص روایات ہیں اور ریاست کے عوام اپنے کلچر اور روایات کے پاسدار ہیں تاہم اقتدار کیلئے کسی بھی روایت یا کلچر کا تک خیال نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ قوانین اور اصولوں کی پرواہ کی جا رہی ہے ۔ ایسے میں اس جمہوری جذبہ کی نفی ہوتی ہے جس کے تحت ریاست کے عوام نے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے آل انڈیا انا ڈی ایم کے کو ووٹ دے کر دوبارہ اقتدار سونپا تھا ۔ جو بحران پیدا ہوا ہے وہ ریاست میں قیادت کے فقدان کو بھی ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی پہلو سامنے آیا ہے کہ مشکل کے وقت میں قیادت کی کمی کس طرح سے حالات کومتاثر کرسکتی ہے ۔ ریاست میں جئے للیتا کا مقام تو کوئی نہیں لے سکتا لیکن محض اقتدار کیلئے ان کی جانشینی حاصل کرنے کی جدوجہد ریاست کے کلچر اور رویات کی نفی کرنے لگی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT