Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹاملناڈو کے خطوط پر تحفظات، کوئی نیا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا

ٹاملناڈو کے خطوط پر تحفظات، کوئی نیا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا

تلنگانہ اسمبلی میں تحفظات بل کی پیشکشی کے موقع پر چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کا خطاب
حیدرآباد 16 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ریاست کے اقلیتی طبقات (مسلمانوں ) کو معاشی پسماندگی کی بنیاد پر 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے سے متعلق بل کو آج منعقدہ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے موقع پر ایوان میں پیش کیا اور بل پر مباحث کا آغاز ہونے سے قبل کے چندرشیکھر راؤ نے 12 فیصد تحفظات بل کے خدوخال سے واقف کرواتے ہوئے کہاکہ 12 فیصد تحفظات مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ معاشی پسماندگی کی بنیاد پر ہی فراہم کئے جارہے ہیں۔ انھوں نے واضح طور پر کہاکہ بعض گوشوں میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے تعلق سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں اُنھوں نے پرزور الفاظ میں کہاکہ جب وہ علیحدہ ریاست تلنگانہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا، تب کسی ایک کو بھی علیحدہ ریاست تلنگانہ حاصل ہونے کا بھروسہ نہیں تھا اور ان کا مذاق بھی اُڑایا تھا۔ لیکن انھوں نے عزم مصمم کے ساتھ جدوجہد کرکے علیحدہ ریاست تلنگانہ کسی خون خرابے کے بغیر حاصل کر دکھائی۔ اسی طرح وہ 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے تعلق سے بھی پُرامید ہیں کہ وہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرپائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ انھوں نے آج ان تحفظات کے تعلق سے بات نہیں کررہے ہیں بلکہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران کئی جلسوں سے مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو علیحدہ ریاست تلنگانہ حاصل ہونے پر 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اور بعدازاں انتخابات کے موقع پر اپنے انتخابی منشور میں بھی باقاعدہ طور پر ٹی آر ایس کے برسر اقتدار آنے پر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور اپنے انتخابی وعدے کے مطابق ہی حکومت نے مسلمانوں کے لئے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے مقصد سے سدھیر کمیشن سے رپورٹ حاصل کی اور پھر بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے بی سی کمیشن سے رپورٹ حاصل کرنے کے بعد ہی اس رپورٹ کا جائزہ لے کر بل مرتب کیا گیا۔ جس کو آج ایوان میں پیش کیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ہم کوئی نیا طریقہ کار اختیار نہیں کررہے ہیں بلکہ ٹاملناڈو کے خطوط پر ہی اقدامات کررہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ملک کی کسی دوسری ریاست میں مسلمانوں کو معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کئے جاتے ہیں تو اسی خطوط پر ہم کو بھی تحفظات فراہم ہوں گے۔ انھوں نے کہاکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے کوئی قانونی رکاوٹوں کے حائل ہونے کا بھی انھیں خدشہ دکھائی نہیں دیتا۔ کیوں کہ پسماندہ طبقات کے تحفظات میں کوئی کمی نہیں کی جارہی ہے بلکہ ان کے (بی سی) تحفظات میں بھی اضافہ کے لئے آئندہ چھ ماہ میں حکومت اقدامات کرے گی اور ساتھ ہی ساتھ دلت طبقات کے تحفظات میں اضافہ کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ درج فہرست قبائیل طبقہ کے تحفظات میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس طرح کسی طبقات کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی جارہی ہے۔ جبکہ حکومت کو سدھیر کمیشن اور بی سی کمیشن سے حقائق پر مبنی رپورٹس وصول ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں ایس سی کمیشن تشکیل دے کر رپورٹ کی وصولی کے فوری بعد ایس سی طبقہ کے تحفظات میں ایک فیصد کا اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں فراہم کردہ تحفظات میں اضافہ کی شدید ضرورت ہے۔ انھوں نے کہاکہ دستور ہند میں صرف 50 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی پابندی کا کہیں تذکرہ نہیں ہے بلکہ آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ملک کی مختلف ریاستوں بالخصوص جھارکھنڈ میں 60 فیصد، ٹاملناڈو میں 69 فیصد، مہاراشٹرا میں 52 فیصد تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے مرکزی حکومت سے مذکورہ ریاستوں میں فراہم کئے جانے والے تحفظات کے پیش نظر ریاست تلنگانہ میں فراہم کئے جانے والے 12 فیصد تحفظات بل کو دستور ہند کے 9 ویں شیڈول میں رکھ کر ریاست تلنگانہ میں 12 فیصد تحفظات بل کی منظوری دینے کی اپیل کی۔ چیف منسٹر نے تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے پرزور خواہش کی کہ وہ تحفظات کی فراہمی کے مسائل کی یکسوئی کے لئے تحفظات کی فراہمی کی ذمہ داری ریاستوں کو حوالہ کریں۔ چندرشیکھر راؤ نے ایوان کو اس بات کا تیقن دیا کہ وہ ہم خیال دیگر ریاستوں کے چیف منسٹروں سے تحفظات کی فراہمی پر بات کریں گے اور 23 اپریل کو دہلی میں منعقد ہونے والے نیتی آیوگ اجلاس کے موقع پر وہ اور دیگر چیف منسٹروں کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے حقائق سے واقف کرواتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کی ذمہ داری ریاستوں کو سپرد کرنے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ اس طرح ریاست کے اقلیتوں کو فراہم کئے جانے والے 12 فیصد تحفظات کو بہ آسانی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انھوں نے بعض سیاسی جماعتوں (بالخصوص بی جے پی) کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ غیر ضروری طور پر تحفظات فراہمی کی مخالفت کررہی ہے۔ کے چندرشیکھرر اؤ نے واضح طور پر کہاکہ وہ پہلے مرکزی حکومت سے رجوع ہوں گے اور اگر مرکزی حکومت 12 فیصد تحفظات فراہمی بل کی منظوری نہ دینے کی صورت میں ٹاملناڈو و دیگر ریاستوں کی بنیاد بناتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے سے بھی گریز نہیں کریں گے بلکہ سپریم کورٹ میں اپنا ادعا پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کے لئے منظوری دینے کی ہدایت دلوائیں گے۔ انھوں نے مزید کہاکہ خود بی جے پی زیرقیادت راجستھان حکومت نے بھی تحفظات میں اضافہ کرنے کی قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت کو روانہ کرچکی ہے۔ چندرشیکھر راؤ نے واضح طور پر کہاکہ کسی سیاسی جماعت کو اقلیتوں کے لئے 12 فیصد تحفظات فراہم ہونے کا بھروسہ نہ ہوگا لیکن انھیں مکمل بھروسہ ہے اور کہاکہ جدوجہد کرنے پر ہر چیز ممکن ہوسکے گی اور وہ یہی جدوجہد کرنے جارہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT