Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / ٹاملناڈو کے طرز پر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے حکومت عہد کی پابند

ٹاملناڈو کے طرز پر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے حکومت عہد کی پابند

آئندہ بجٹ سیشن میں بل کی پیشکشی کا اعلان، اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے جامع ایکشن پلان پر عمل آوری: چیف منسٹر

٭ ہائی ٹیک سٹی کے قریب اسلامک سنٹر کا قیام
٭ فلک نما جونیر و ڈگری کالج کیلئے 10کروڑ روپئے
٭ انیس الغرباء کے لئے ہمہ منزلہ عمارت کی تعمیر
٭ ارد و کو ترقی دینے جامع حکمت عملی ،کے سی آرکے تیقنات

حیدرآباد۔/18جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ریاست کے اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانوں کی فلاح و بہبود بشمول مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی بہر صورت فراہمی کو یقینی بنانے ، ہائی ٹیک سٹی کے اطراف و اکناف میں ایک عالیشان اسلامک سنٹر قائم کرنے، ریاست بھر کی تما م مساجد کے پیش اماموں و مؤذنین کے ماہانہ مشاہرہ کو ایک ہزار روپئے سے بڑھا کر 1500 روپئے کرنے ، اردو ٹیچرس کے تقررات کیلئے علحدہ ڈی ایس سی منعقد کرنے، کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے میں 4فیصد تحفظات فراہم کرنے جیسے اعلانات و تیقنات کی بوچھار کردی۔ آج یہاں ایوان میں اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے روبہ عمل لائی جانے والی اسکیمات پر ہوئے مختصر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست کے مسلمانوں کو خوش کردیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ مسلم تحفظات کا بل آئندہ بجٹ سیشن میں پیش کیا جائے گا اور حکومت ٹاملناڈو کی طرز پر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے عہد کی پابند ہے ۔ اقلیتی بہبود پر تلنگانہ اسمبلی میں چیف منسٹر نے آج تفصیلی بیان دیا جس میں مسلم تحفظات کے بشمول اقلیتوں کی بھلائی کیلئے شروع کی گئی مختلف اسکیمات کا حوالہ دیا گیا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ سدھیر کمیشن نے مسلمانوں کی سماجی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ریاست بھر کا دورہ کیا اور حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی ۔ سدھیر کمیشن کی رپورٹ کو حکومت نے بی سی کمیشن کے حوالے کرتے ہوئے پسماندہ مسلمانوں کو آبادی کے اعتبار سے تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں رائے طلب کی ہے۔ بی سی کمیشن  میں مختلف گروپس کی رائے حاصل کر رہا ہے اور ان تفصیلات کی بنیاد پر وہ اپنی رائے دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے مجموعی تحفظات کو 50 فیصد سے زائد نہ کرنے سے متعلق شرط میں رعایت کی ضرورت ہے ۔ حکومت ٹاملناڈو نے 45/94 قانون متعارف کیا اور پارلیمنٹ کی منظوری کے ذریعہ اضافی تحفظات کو دستور کے 9 ویں شیڈول میں شامل کیا گیا ۔ انہوں نے اس بات کا بھی تیقن دیا کہ ایسی اوقاتی اراضیات  جو سابق حکومتوں کی جانب سے بڑی بڑی کمپنیوں کے حوالے کردی گئیں اور اب فی الوقت استعمال میں نہیں ہیں ان کی نشاندہی کرکے دوبارہ ان اراضیات کو حاصل کرکے وقف بورڈ کے حوالے کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات کرنے کے وہ پابند ہیں جس کی وجہ سے اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ گذشتہ طویل عرصہ سے اقلیتوں کے ساتھ اناانصافیاں ہوتی رہی ہیں اور ان ناانصافیوں کا ہر سیاسی جماعت اعتراف کررہی ہے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان اسمبلی میں شستہ اردو زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے کرم سے اور اللہ کے فضل سے اقلیتی اقامتی اسکولس میں مسلم لڑکے و لڑکیاں بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کرکے بہت ترقی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرنے کیلئے حکومت ریاستی وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات دینے کے اقدامات کرے گی اور آئندہ اسمبلی بجٹ سیشن میں وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاور ( اختیارات ) دینے سے متعلق بل پیش کرکے منظوری حاصل کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے نیٹ (NEET) امتحان اردو زبان میں تحریر کرنے کی اجازت دینے کی خواہش کرتے ہوئے وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرنے اور مرکزی وزیر اقلیتی بہبود مسٹر مختار عباس نقوی سے بات کرنے، ریاست میں مسلم کسانوں ( زراعت پیشہ ) کو ایس سی، ایس ٹی کے خطوط پر مسلمانوں کو گرین ہاوزس کیلئے 95 فیصد سبسیڈی دینے، ایس سی ایس ٹی کے خطوط پر مسلم اقلیتی بے روزگاروں کو مختلف نوعیت کے قرضہ جات فراہم کرنے اور گاڑیاں فراہم کرنے کا واضح تیقن دیا۔ انہوں نے فلک نما جونیر و ڈگری کالج کی عمارت کی تعمیر کیلئے 10کروڑ روپئے منظور کرنے، شادی مبارک اسکیم کے تحت زیر التواء تمام درخواستوں کی مارچ تک یکسوئی کرکے رقومات جاری کرنے کا واضح تیقن دیا۔

انہوں نے اسلامک سنٹر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں شاندار اسلامک سنٹر پایا جاتا ہے اور اسی طرح حیدرآباد میں ہائی ٹیک سٹی کے آس پاس میں وسیع اراضی پر اسلامک سنٹر کا قیام عمل میں لانے کیلئے عالیشان عمارت تعمیر کرنے اور آئندہ انتخابات سے قبل اسلامک سنٹر کی عمارت کے تعمیری کاموں کو مکمل کرکے افتتاح کرنے کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ اس اسلامک سنٹر میں ایک شاندار کنونشن سنٹر بھی تعمیر کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے پرزور الفاظ میں کہا کہ شہر کے ہائی ٹیک سٹی علاقہ میں اسلامک سنٹر قائم کیا جائے گا تو شہر حیدرآباد کی شان میں مزید اضافہ ہوگا۔مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انیس الغرباء کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارہ میں مقیم یتیم و نادار لڑکے اور لڑکیوں کیلئے حکومت خود ماں باپ بننا چاہیئے لہذا حکومت نے اس ادارہ کیلئے نہ صرف اراضی فراہم کی ہے بلکہ بہت جلد اس اراضی پر ہمہ منزلہ عمارت تعمیر کرنے کیلئے اقدامات کرے گی اور اس کے لئے کل شام یعنی 19جنوری کی شام تک درکار 31کروڑ روپئے منظور کرکے جی او کی اجرائی عمل میں لانے کا اعلان کیا ۔ ریاست میں اردو میڈیم سیلف فینانس جونیر و ڈگری کالجوں کا تذکرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ فی الوقت ریاست میں 17 جونیر کالجس اور 4 ڈگری کالجس پائے جاتے ہیں اور ان تمام کالجوں کے مصارف کا بوجھ طلباء اور ان کے والدین پر ڈالنے کے بجائے اب حکومت خود برداشت کرتے ہوئے آئندہ مارچ سے حکومت کی جانب سے رقومات جاری کرنے کا چیف منسٹر نے اعلان کیا۔ انہوں نے اردو اکیڈیمی کی کارکردگی کو مزید فعال بنانے کیلئے ایک علحدہ نئی مستقل عمارت تعمیر کرنے کا تیقن دیا۔ ریاست میں اردو زبان کی ترقی کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ اردو ایک اچھی اور میٹھی زبان ہے اور اس کی ترقی و ترویج کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

 

لہذا حکومت ریاست کے تمام 31 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف فراہم کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کیلئے موثر اقدامات کرنے کا بھی تیقن دیا اور کہا کہ بہت جلد ریاست میں اردو زبان کی ترقی کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے اور عمل آوری کیلئے اقدامات کرنے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے اردو جاننے والے ارکان اسمبلی کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اہم اجلاس طلب کریں گے۔ چیف منسٹر نے کریم نگر ٹاؤن سے قریب کے مقام پر واقع وقف اراضی کی غیر مجاز فروختگی کے مسئلہ پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مجاز طور پر فروخت کی گئی اراضی معاملہ میں مبینہ غفلت و لاپرواہی برتنے اور اس معاملت میں ملوث پائے جانے والے کسی بھی رتبہ کے حامل عہدیدار کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے اور خدمات سے معطل کرنے کا بھی ایوان میں اعلان کیا اور کہا کہ اس اراضی کو دوبارہ حاصل کرنے کے اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ میں مختص کی جانے والی رقومات کو خرچ کرنے کی شکایتوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماہ مارچ کے اختتام تک سال 2016-17 کے بجٹ میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختص کردہ رقومات کے منجملہ 800 تا 900کروڑ روپئے خرچ کرنے کو یقینی بنانے کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے اقلیتی اقامتی اسکولوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں حلقہ جات اسمبلی و دیگر مقامات پر اقلیتی آبادی کے تناسب سے اقامتی اسکولس قائم کئے جائیں گے بالخصوص حیدرآباد میں 40 اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔

 

 

اسمبلی میں چیف منسٹر کی شعر گوئی
حیدرآباد۔/18جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان میں اقلیتوں کی فلاح و بہبودی اسکیمات پر عمل آوری کے موضوع پر ہوئے مباحث کا جواب دیتے ہوئے شستہ اردو زبان میں نہ صرف اظہار خیال کیا بلکہ موقع کی مناسبت سے اشعار کہتے ہوئے ایوان کو قہقہہ زار بنادیا۔ جس پر ارکان کی جانب سے اپنی میزیں تھپتھپاتے ہوئے زبردست مسرت و ستائش کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران موضوع اور وقت کی مناسبت سے درج ذیل اشعار کہے:
ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
گناہ خود کرے لعنت کرے شیطان پر
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
میں اپنے فن کی بلندی سے کام لے لوں گا
مجھے مقام دو نہ دو اپنا مقام لے لوں گا
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہرتقدیر سے پہلے
خدا بندہ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ہواؤں سے کہہ دو کہ اپنی اوقات میں رہیں
ہم پَروں سے نہیں حوصلوں سے اُڑا کرتے ہیں

 

 

TOPPOPULARRECENT