Friday , July 28 2017
Home / Top Stories / ٹرانزیشن ٹیم میں اختلافات کی رپورٹس ٹرمپ نے مسترد کردی

ٹرانزیشن ٹیم میں اختلافات کی رپورٹس ٹرمپ نے مسترد کردی

کابینی تقررات پر غوروخوض کا عمل جاری ، نومنتخبہ نائب صدر مائیک پنس ٹرانزیشن ٹیم کے نئے سربراہ

واشنگٹن۔ 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ان رپورٹس کو مسترد کردیا جہاں یہ کہا جارہا ہے کہ ان کی ٹرانزیشن ٹیم میں موجود مشیران کے درمیان کابینہ کے اہم قلمدانوں کو لے کر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے لئے قابل، باصلاحیت اور بارسوخ شخصیات کی تقرری کا عمل انتہائی منظم طریقہ سے جاری ہے۔ اپنے ٹوئیٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ یوں تو کئی ناموں پر غوروخوض کیا جارہا ہے تاہم قرعہ کس کے نام نکلے گا، اس کے بارے میں صرف انہیں (ٹرمپ) پتہ ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ کا ٹوئیٹ ایک ایسے وقت آیا ہے جب میڈیا میں یہ خبریں گشت کررہی تھیں کہ ٹرمپ کی ٹرانزیشن ٹیم میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ 70 سالہ ٹرمپ کے تاریخی صدارتی انتخابات جیتنے کے ایک ہفتہ بعد بھی اب تک کابینہ کے لئے کسی بھی شخصیت کے نام کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ اب تک انہوں نے صرف ری پبلیکن نیشنل کمیٹی کے صدرنشین رینس پرائبس کو اپنے چیف آف اسٹاف اور اپنے کیمپین سی ای او اسٹیفین بیانن کو اپنا حکمت عملی ساز مقرر کیا ہے

جبکہ سی این این کی اطلاع کے مطابق ٹرمپ کے داماد اور قریبی مشیر جارڈ کوشنر ٹرانزیشن ٹیم کے ساتھ اختلافات کے عروج پر ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ نے نیوجرسی گورنر کریس کرسٹی کو تبدیل کرتے ہوئے نومنتخبہ نائب صدر مائیک پنس کو ٹرانزیشن ٹیم کا سربراہ مقرر کردیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ جس وقت کوشنر کے والد پرٹیکس چوری کا مقدمہ چلاتے ہوئے جیل کی سزا سنائی گئی تھی، اس وقت کرسٹی نیوجرسی کی اٹارنی جنرل تھیں۔ یہ 2004ء کی بات ہے۔ ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق نومنتخبہ نائب صدر مائیک پنس نے ٹرانزیشن ٹیم سے تمام دلالوں کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ ان میں سابق کانگریسی مائیک راجرس بھی شامل ہیں جبکہ کچھ دن پہلے ہی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدہ کیلئے ان کے نام پر غور کیا جارہا تھا تاہم اب انہیں صدر کی ٹرانزیشن ٹیم کی قومی سلامتی یونٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حالانکہ خود راجرس کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے خود ٹرانزیشن ٹیم سے دستبرداری اختیار کی ہے۔

پیر کے روز انہیں بذریعہ فون یہ اطلاع دی گئی تھی کہ انہیں ٹرانزیشن ٹیم سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ذریعہ نے بتایا کہ دراصل کرسٹی سے وابستہ ٹرانزیشن ٹیم کے ارکان کو ہٹایا جارہا ہے جبکہ خود کرسٹی کچھ عرصہ قبل تک ٹرانزیشن ٹیم کی سربراہ تھیں جن کی جگہ پر اب پنس کو مقرر کیا گیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر راجرس نے کہا کہ سیاست میں کبھی کبھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں کبھی کچھ لوگ منتخب کئے جاتے ہیں اور کچھ لوگ مسترد کردیئے جاتے ہیں۔ فی الحال جن لوگوں کو باہر کا راستہ دکھایا گیا ہے، ان کے روابط کریس کرسٹی سے تھے جس کا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑا۔ پنس نے کل وائیٹ ہاؤز میں اقتدار کی منتقلی کیلئے کچھ کاغذی کام کاج کو قطعیت دی تاکہ تمام کام بخوبی انجام دیئے جاسکیں۔ اسی دوران وائٹ ہاؤز کے ترجمان برانڈی ہوفائین نے بتایا کہ ٹرانزیشن ٹیم کو اب اوباما انتظامیہ کو ان افراد کے ناموں کی فہرست پیش کرنی ہوگی جنہیں حکومت میں ٹرانزیشن کے عمل کی نمائندگی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT