Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ افغانستان کو امریکی فوجیوں کا قبرستان بنانا چاہتے ہیں : طالبان

ٹرمپ افغانستان کو امریکی فوجیوں کا قبرستان بنانا چاہتے ہیں : طالبان

 

ٹرمپ کی نئی افغانستان پالیسی میں کچھ بھی نیا نہیں
ہم اپنا دفاع خود کرسکتے ہیں
امریکہ اور افغانستان میں دو دو صدور نے دو میعادیں
ختم کرلیں لیکن جنگ ختم نہیں کرسکے

کابل ۔ 22 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : طالبان نے آج امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ کوئی نئی پالیسی نہیں ہے ‘ ۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کو بھیجنے کی راہ ہموار کردی ہے ۔ افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی میں کچھ بھی نیا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے بھی ٹرمپ کے فیصلہ پر باقاعدہ بیان جاری کیا جائے گا ۔ ٹرمپ نے ابتداء میں تو یہی کہا تھا کہ وہ افغانستان میں جاری طویل جنگ کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں جہاں امریکہ نے اپنی تمام تر توانائیاں جھونک دی ہیں لیکن اب وہ اپنے موقف پر قائم نہیں ہیں ۔ ٹرمپ نے البتہ یہ ضرور کہا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کا اچانک تخلیہ سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوجائیں گے ۔ دوسری طرف طالبان کے ایک سینئیر کمانڈر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ بھی امریکہ کے سابق صدور خاص طور پر جارج بش کی طرح جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ موصوف صرف امریکی فوجیوں کی قیمتی جانیں تلف کررہے ہیں ۔ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں ۔ ٹرمپ کی نئی پالیسی سے کچھ بھی نہیں بدلے گا ۔ سینئیر کمانڈر نے ایک نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کئی برسوں سے یہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ہم خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ آخری سانس تک جنگ لڑتے رہے ہیں گے ۔

امریکی صدر کے فیصلہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت بھی امریکہ کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہے ۔ ٹرمپ کے بیان جاری کرنے کے فوری بعد طالبان نے بھی اپنے ارادوں کو ظاہر کردیا ہے کہ وہ کابل میں واقع امریکی سفارت خانے کو راکٹ کا نشانہ بنائیں گے بلکہ پیر کو ایک راکٹ داغا بھی گیا تھا جو ایک کھیت میں جاگرا جس سے کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ٹرمپ نے افغانستان میں زائد امریکی فوج بھیجنے کا فیصلہ ضرور کیا ہے لیکن فوجیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جب کہ وائیٹ ہاؤس کے سینئیر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں ٹرمپ نے اپنے وزیر دفاع کو پہلے ہی اختیارات سونپ دئیے ہیں کہ وہ افغانستان میں 3900 زائد امریکی فوجیوں کو تعینات کریں ۔ ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکہ کے لیے قبرستان بن جائے گا ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ذبیح اللہ نے کہا کہ اگر امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوج کو واپس نہیں بلایا تو افغانستان امریکی فوجیوں کا قبرستان بن جائے گا ۔ 21 ویں صدی امریکہ جیسے سوپر پاور ملک کے لیے منحوس ثابت ہوگی ۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کو اپنی فوج کا تخلیہ کروانے کی حکمت عملی پر غور کرنا چاہئے ناکہ جنگ جاری رکھنے کی ۔ مجاہد نے کہا کہ جب تک امریکہ کا ایک بھی فوجی افغانستان کی سرزمین پر موجود ہے ، ہم اپنا جہاد جاری رکھیں گے ۔ امریکہ کو سوچنا چاہئے کہ سابق سوویت یونین کی فوج کو بھی طالبان نے نکال باہر کیا تھا کیا یہ سبق امریکہ کے لیے کافی نہیں ۔ 16 سال سے جو ملک افغانستان میں جنگ لڑ رہا ہے اور اس دوران امریکہ میں دو دو صدور نے اپنی دو دو میعادیں پوری کرلیں لیکن افغانستان کا بال بھی بیکانہ کرسکے تو پھر ایسی جنگ لڑنے سے کیا فائدہ جس کے نتائج برآمد نہ ہوسکتے ہوں ۔ یہ تو صرف انسانی جانوں سے کھلواڑ کا نام ہے جب کہ افغانستان میں بھی سابق صدر حامد کرزئی نے کوئی اصلاحی کام نہیں کیا اور موجودہ صدر اشرف غنی بھی امریکہ کے ہی پٹھو معلوم ہوتے ہیں ۔ ٹرمپ کے اطراف اب ایسے لوگ ہیں جو انہیں غلط فیصلے کرنے پر مجبور کررہے ہیں ۔ خصوصی طور پر اسلام کے نام کی دہائی دیتے ہوئے اس وقت ٹرمپ سے کچھ بھی کروایا جاسکتا ہے چاہے وہ چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی ہو یا سارے امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب ہو ۔

TOPPOPULARRECENT