Sunday , September 24 2017
Home / دنیا / ٹرمپ انتظامیہ میں ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کے تقررات کے اشارے

ٹرمپ انتظامیہ میں ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کے تقررات کے اشارے

منتخبہ صدر نے ہمیشہ بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو ترجیح دی ہے: ہرمیت کورڈھلون
واشنگٹن ۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ ریپبلکن ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں وہیں اب قیاس آرائیوں کا لامتناہی سلسلہ بھی شروع ہوگیا جہاں ٹرمپ انتظامیہ کا کون کون حصہ ہوگا اس پر بھی چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ریپبلکن کے ایک سینئر قائد کا کہنا ہیکہ منتخبہ صدر کی یہ تاریخ رہی ہیکہ وہ ہمیشہ بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد کا انتخاب کرتے ہیں۔ آئندہ سال 20 جنوری سے اپنی نئی حکومت کی تشکیل دینے اور اس ٹیم کا انتخاب کرنے میں وہ یقینا بہترین صلاحیتوں کو ہی ترجیح دیں گے جو امریکی انتظامیہ کو چلانے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ اس موقع پر ریپبلکن کی قومی کمیٹی کی اہم خاتون ہرمیت کورڈھلون نے بھی یہ اشارہ دیا ہیکہ ٹرمپ بہترین صلاحیتوںکے حامل افراد کا انتخاب کریں گے۔ ریپبلکن پارٹی میں ہرمیت کور ڈھلون کا کافی دبدبہ ہے اور پارٹی میں وہ اعلیٰ عہدہ پر فائز ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں میں سے ایک ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن وہ پہلے صدر تھے جنہوں نے اپنے انتظامیہ میں کسی ہندوستانی نژاد امریکی کو مقرر کیا تھا جبکہ سبکدوش ہونے والے صدر بارک اوباما کو اپنے انتظامیہ میں ایک دو نہیں بلکہ 75 ہندوستانی نژاد امریکیوں کی تقرری کا اعزاز حاصل ہے

جو ایک ریکارڈ ہے۔ فی الحال ٹرمپ ٹرانزیشن ٹیم نے جس کی قیادت نیوجرسی گورنر کریس کرسٹی کرتی ہیں، نے اب تک تقرری کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی اشارے نہیں دیئے ہیں البتہ ٹرمپ نے اپنی کامیابی کے بعد جو تقریر کی تھی اس میں انہوں نے واضح طور پر یہ کہا تھا کہ امریکی  انتظامیہ کو چلانے کیلئے وہ بہترین صلاحیتوں کے حامل اشخاص کو مقرر کریں گے۔ دوسری طرف پیو کی جانب سے کئے گئے حالیہ سروے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہندوستانی انجینئرس اور میڈیکل ڈاکٹرس کی تعداد سب سے زیادہ ہے جبکہ سلیکان ویلی میں بھی اسٹارٹ اپس کی سب سے زیادہ تعداد کی ابتداء کرنے میں بھی یہی لوگ ذمہ دار ہیں۔ ڈھلون نے کہاکہ گذشتہ شب ڈونالڈ ٹرمپ کی تاریخی فتح نے امریکہ میں نئے مواقع کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے جس سے نہ صرف امریکی شہری بلکہ ہندوستانی نژاد امریکی شہری بھی استفادہ کرسکیں گے۔ دریں اثناء معروف ہندوستانی نژاد امریکی ریپبلکن اشوک ماگو جن کا تعلق ٹیکساس سے ہے، نے کہا کہ ٹرمپ کی کامیابی نہ صرف ہندوستان کیلئے بلکہ ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کیلئے بھی سودمند ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ قانونی طور پر امیگریشن کے حامی ہیں اور غیرقانونی طور پر امریکہ منتقل ہونے والوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ علاوہ ازیں ٹرمپ انتہاء پسند اسلام کے بھی سخت مخالف ہیں جیسا کہ ہندوستان بھی انتہاء پسند اسلام کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ لہٰذا یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہیکہ ٹرمپ کے دور میں ہند ۔ امریکہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ مسٹر ماگو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے تمام ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹی وفاداریوں سے قطع نظر، منتخبہ صدر ٹرمپ کی تائید میں آگے آئیں اور امریکہ کو ایک بار پھر عظیم بنانے میں اپنا بھرپور تعاون پیش کریں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت امریکہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کیونکہ یہ جیت ہی تاریخی نوعیت کی ہے۔ انہوں نے امریکہ میں سیاسی نظام کو ہی تبدیل کرکے رکھ دیا کیونکہ ہلاری کلنٹن کے سامنے سیاسی میدان میں ان کا موقف ایک نووارد جیسا ہی تھا جنہیں کوئی سیاسی تجربہ نہیں تھا لیکن عوام سے جس نوعیت کے وعدے انہوں نے کئے (جنہیں اناپ شناپ باتوں سے تعبیر کیا گیا تھا) اس نے شاید لمحۂ آخر میں امریکی ووٹرس کی سوچ کو بدل دیا اور ٹرمپ جیت گئے۔ وہ ایک بہترین صدر ثابت ہوں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT