Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ انکساری پر مجبور ، پہلی بار ممکنہ شکست کا اعتراف

ٹرمپ انکساری پر مجبور ، پہلی بار ممکنہ شکست کا اعتراف

نیشنل پولس میں ہلاری کی بڑھتی سبقت سے ریپبلکن امیدوار خائف ۔ خود پارٹی میں بھی مخالفت میں اضافہ

آرلینڈو ۔ 12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اکثر و بیشتر شیخی کی باتیں کرنے والے ارب پتی کی جانب سے انکساری کے انوکھے مظاہرے میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہیکہ ان کی صدارتی مہم کو چیلنجس درپیش ہے اور ہوسکتا ہے آخر میں وہ کچھ پیچھے رہ جائے۔ ریپبلکن صدارتی امیدوار انتخابات کے نقطہ نظر سے کلیدی ریاست فلوریڈا میں مہم چلا رہے ہیں اور انہیں یوٹا میں زبردست چلینج پیش آیا۔ اسی روز انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی بیباکی اور سیاسی چالوں سے عدم واقفیت انہیں الیکشن میں مہنگی پڑ سکتے ہیں۔ اگر امریکی عوام ان کے بیباکانہ انداز کو مسترد کردیتے ہیں تو انہیں مسئلہ ہوسکتا ہے۔ ریپبلکن پرائمری میں 16 چیلنجرس کو شکست دینے کے بعد ٹرمپ کو اب مشکلات پیش آرہی ہے جبکہ ان کی ایک انتخابی مہم جنرل الیکشن کے قطعی دور میں داخل ہورہی ہے۔ قومی سطح کے پولس میں ڈیموکریٹ ہلاری کلنٹن کی ٹرمپ کے مقابل سبقت حالیہ دنوں میں بڑھ گئی ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی میں ٹرمپ کے ساتھیوں کی ایسی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے جنہوں نے اعلان کردیا کہ وہ خود اپنی پارٹی کے نامزد امیدوار کی تائید نہیں کریں گے۔ ٹرمپ کے رویہ میں بھی اب نمایاں تبدیلی آ گئی ہے۔

ایک ماہ قبل ریپبلکن نیشنل کنونشن میں انہوں نے پرشور ہجوم کو بتایا تھا کہ ہم بڑے فرق سے جیتنے والے ہیں لیکن اب اعدادوشمار کے معاملہ میں انہوں نے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے سی این بی سی کو بتایا کہ آخر میںمیری پالیسی اور میرا انداز کام کرے گا یا پھر مجھے طویل چھٹی پر جانا پڑے گا۔ اس دوران 70 سے زائد بااثر ری پبلکنس نے ایک مکتوب پر دستخط کرتے ہوئے پارٹی سے ٹرمپ کی صدارتی مہم کیلئے رقم خرچ کرنے سے باز آجانے کی اپیل کی ہے اور اس کے بجائے نومبر میں کانگریس کے الیکشن میں یہ رقم لگانے پر زور دیا ہے۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی چیرمین رینس پریبس کو موسومہ مکتوب کے مسودہ میں کہا گیا کہ ہماری دانست میں ڈونالڈ ٹرمپ کی انتشار پسندی، لاپرواہی اور نااہلیت نیز ریکارڈ توڑ غیرمقبولیت سے اس الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی زبردست کامیابی کی راہ ہموار ہوتی جارہی ہے۔ مکتوب میں کہا گیا کہ پارٹی فنڈ کو فوری طور پر سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے الیکشنس میں خرچ کیلئے مختص کیا جائے۔ یہ فیصلہ کچھ مشکل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے امکانات دن بدن موہوم ہوتے جارہے ہیں۔

اس مکتوب میں ٹرمپ کی مختلف حرکتوں کا حوالہ دیا گیا جو دستخط کنندگان کی دانست میں تمام پارٹیوں کی لاکھوں ووٹروں کو بدظن کرتے ہیں۔ مکتوب میں کہا گیا کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور ان کی انتخابی مہم نے لاکھوں ووٹروں کو برہم کیا اور ان کا مذاق اڑایا ہے، جن میں معذور، خواتین، مسلمان، تارکین وطن اور اقلیتیں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے عاملانہ رجحانات کا بھی خطرناک اشارہ دیا ہے جیسا کہ انہوں نے کسی مکمل مذہب پر ملک میں پابندی عائد کرتے ہوئے یہ دھمکی دی ہے۔ ان کے عزائم میں یہ بھی ہیکہ قیدیوں کو زدوکوب کے ذریعہ ملٹری کو قانون توڑنے کی اجازت دے دی جائے، مشتبہ دہشت گردوں کے خاندانوں کو ختم کردیا جائے، قانون کے پابند مسلم شہریوں پر نظر رکھی جائے اور عاملانہ احکام کو بروئے کار لاتے ہوئے غیرقانونی یا غیردستوری اقدامات پر عملدرآمد کرایا جائے۔ ابھی تک اس مکتوب پر پارٹی کے سابق اسٹاف ممبرس اور عہدیداروں میں سے متعدد نے دستخط کردیئے ہیں۔ اس مکتوب کو گشت کرایا جارہا ہے اور آئندہ ہفتے پریبس کو بھیجا جائے گا۔
میں حق گو ہوں : ٹرمپ
اس دوران ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے خود کو حق گو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پالیسی جاری رکھیں گے چاہے اس کیلئے نومبر کے عام انتخابات میں شکست کا جوکھم کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ 70 سالہ ٹرمپ نے سی این بی سی نیوز کو بتایا کہ میں جو کچھ کہتا ہوں سچ کہتا ہوں ۔میں حق گو ہوں اور اسی کیلئے کوشاں رہتا ہوں۔ اگر 90 یوم کی مہم کے بعد میں درکار تائید جٹانے میں ناکام ہوجاتا ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ میں اچھی زندگی گذار لوں گا۔

TOPPOPULARRECENT