Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ اور اوباما میں دلچسپ نوک جھونک…

ٹرمپ اور اوباما میں دلچسپ نوک جھونک…

’آپ خوش نصیب ہیں کہ میں نے 2012 ء میں مقابلہ نہیں کیا‘
ورنہ آپ دوسری میعاد کیلئے منتخب نہ ہوتے، امریکی صدر کودولت مند صنعتکار کاجواب
واشنگٹن ۔ 17 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدر بارک اوباما کی جانب سے متنازعہ ریپبلیکن صدارتی دعویدار ڈونالڈ ٹرمپ کو مبہم انداز میں دیئے گئے اس مشورہ پر کہ’’ امریکہ کا صدر ہونا کسی ریالیٹی شو سے کہیں زیادہ دشوار ہوتا ہے اور امریکی عوام ان کو منتخب کرنے کے معاملہ میں بہت زیادہ محتاط اور حساس ہیں‘‘69 سالہ ارب پتی رئیل اسٹیٹ بزنسمین و صنعت کار ٹرمپ نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ (اوباما) خوش نصیب ہیں کہ گزشتہ صدارتی انتخابات میں میں نے مقابلہ نہیں کیا، جب ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے رومنی مقابلہ کر رہے تھے ورنہ آپ دوسری میعاد کیلئے صدر منتخب نہ ہوتے اور ایک میعاد کے صدر ہی ہوسکتے تھے‘‘۔ ٹرمپ نے اوباما کی پیش قیاسی کو اپنے بارے میں تعریف و ستائش سے تعبیر کیا اور کہا کہ اوباما نے ہمیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ان کی جانب سے ہمارے بارے میں ایسا کہنا ستائش کے مترادف ہے۔

ٹرمپ صدر نہیں بن سکتے : اوباما
واشنگٹن۔ 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے آج ری پبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ان کے جانشین نہیں ہوسکتے کیونکہ ملک کا صدر ہونا اور اپنے فرائض منصبی کی تکمیل کرنا کسی ٹی وی ریالٹی شو کی میزبانی کرنے سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہے اور وہ (اوباما) نہیں سمجھتے کہ امریکی عوام اتنے غیرسنجیدہ ہیں کہ وہ ٹرمپ کو صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز کردیں گے۔ سنی لینڈس، کیلیفورنیا میں اپنی طرز کی پہلی یو ایس۔آسیان کانفرنس میں شرکت کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہ ان کا (اوباما) یہ پورا پورا اعتماد ہے کہ ٹرمپ صدر کے عہدہ پر فائز نہیں ہوسکتے کیونکہ انہیں امریکی عوام پر بھی پورا پورا اعتماد ہے۔ صدر کا عہدہ ایک ذمہ داری والا عہدہ ہے، جس کے لئے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی ٹی وی ریالٹی شو کی میزبانی پروموش یا مارکیٹنگ نہیں ہے۔ اوباما کی تنقید کا جوابی وار کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اوباما بے حد خوش قسمت ہیں کہ 2012ء میں انہوں نے (ٹرمپ) مقابلہ نہیں کیا، ورنہ اوباما صرف ایک میعاد تک محدود ہوجانے جنوبی کیرولینا میں ایک ریالی کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ بات کہی۔ بہرحال اوباما نے  صرف ٹرمپ کو ہی نہیں بلکہ ری پبلیکن کے دیگر امیدواروں کو بھی ہدفِ تنقید بنایا۔

 

ریپبلکن ووٹرس میں ٹرمپ کو سبقت
واشنگٹن۔ 17 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو ملک گیر سطح پر پارٹی رائے دہندگان کی غیرمعمولی سبقت حاصل ہوئی ہے۔ امریکی تازہ اوپنین پول کے مطابق ریئیل اسٹیٹ شعبہ سے وابستہ ٹرمپ نے 39 فیصد ریپبلکن ووٹرس کی تائید حاصل کی جو اب تک کہ سب سے زیادہ مجموعی تعداد ہے۔ ان کے بعد سینیٹر مارکو روبیو (فلوریڈا) کو 19 فیصد اور سینیٹر ٹیڈ کروز (ٹیکساس) کو 18 فیصد ووٹرس کی تائید حاصل ہے۔ ڈیموکریٹک دوڑ میں سابق سکریٹری آف اسٹیٹ ہلاری کلنٹن کو 44 فیصد کی تائید حاصل ہے۔

ہوشیار! چین بھی بوئنگ کا پلانٹ قائم کر رہا ہے : ڈونالڈ ٹرمپ
نارتھ آگستا (یو ایس)۔ 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوبی کیرولینا کے ووٹرس کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے ایک ایسے نکتے کی طرف ان کی توجہ مبذول کروائی جسے شاید انہوں نے انتخابی ہتھکنڈہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ انہوں نے رائے دہندوں (ووٹرس) سے چوکس ہوجانے کیلئے کہا اور بتایا کہ طیارہ بنانے والی کمپنی بوئنگ اب اپنا پلانٹ چین میں قائم کررہی ہے۔ اگر وہ (ٹرمپ) صدر کے عہدہ پر فائز ہوتے تو ایسا ہرگز ہونے نہ دیتے۔ ٹرمپ نے انتباہ دیا کہ تمام ووٹرس ہوشیار ہوجائیں کیونکہ چین بھی بوئنگ کا پلانٹ قائم کرنے جارہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ آرڈرس حاصل کرے۔ جنوبی کیرولینا میں بھی بوئنگ کا ایک بڑا پلانٹ موجود ہے اور اگر اس کمپنی نے چین میںپلانٹ قائم کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا ہے تو پھر جنوبی کیرولینا کو خدا حافظ۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر وہ (ٹرمپ) صدر ہوتے تو ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ بیان دیتے وقت اپنی تاجرانہ مہارت کا زبردست استعمال کیا۔ نارتھ آگستا میں ایک ریالی کے دوران انہوں نے یہ بات کہی۔ عام طور پر انتخابی مہمات کے دوران تجارت و صنعت کی بات نہیں کی جاتی تاہم ہفتہ کو منعقد شدنی ری پبلیکن پرائمری سے قبل جو اپنی نوعیت کی ریاست بھر میں تیسری پرائمری ہوگی، سے قبل انہوں نے یہ مسئلہ چھیڑ کر اپنی نامزدگی کیلئے درکار طویل راستہ پر گامزن ہونے کا اشارہ دے دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT