Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ اور پوتن کی تاریخی ملاقات ، روس کی انتخابات میں مداخلت کی تردید

ٹرمپ اور پوتن کی تاریخی ملاقات ، روس کی انتخابات میں مداخلت کی تردید

 

ہمبرگ ۔8 جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے ملاقات کرکے بیحد مطمئن اور خوش ہیں کیونکہ G-20 چوٹی کانفرنس کے دوران انھوں نے یوں تو کئی عالمی قائدین سے ملاقات کی لیکن اُن کے چہرے کے تاثرات اور جسمانی زبان کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو انھوں نے سب سے زیادہ اطمینان پوتن سے ملاقات کے بعد ہی ظاہر کیا حالانکہ دیگر عالمی قائدین سے ملاقات کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے کیونکہ وہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے اور صدر چین ژی جن پنگ سے ملاقات کرکے اپنے اس دوسرے تاریخی دورہ کو اختتام پذیر کریں گے ۔ ٹرمپ نے بالآخر لب کشائی کرتے ہوئے پوتن کے بارے میں کہاکہ اُن سے (پوتن) ملاقات کو ہم اس تاریخی دورہ کا نچوڑ کہہ سکتے ہیں۔ پوتن اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات بھی ہوئی اور ٹرمپ نے پھر اُسی راگ کو الاپنا شروع کردیا جس نے انھیں امریکہ میں پریشان کر رکھا تھا ۔ ہر طرف سے دباؤ کے بعد اب ٹرمپ نے بھی 2016 ء کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے موضوع کو اُٹھایا اور ساتھ ہی ساتھ شام میں جنگ بندی سے متعلق ایک معاہدہ پر امریکہ اور روس کی دستخط کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا جس کا منصوبہ انھوں نے جرمنی کے سفر کے دوران ہی بنالیا تھا ۔ ٹرمپ کے بارے میں یہ توقعات کی جارہی تھیں کہ وہ عالمی دہشت گردی سے مقابلہ اور شمالی کوریا کے بالسٹک میزائیل لانچنگ کے حساس موضوعات ضرور اُٹھائیں گے اور انھوں نے ان موضوعات کو اُٹھایا بھی لیکن جس طرح کی تفصیلی بات چیت اور تبادلہ خیال کی توقع کی جارہی تھی ویسا کچھ نہیں ہوا ۔ یاد رہے کہ ہمبرگ میں G-20 چوٹی کانفرنس کے دوران گلوبلائزیشن کے حامی احتجاجیوں نے پرتشدد مظاہرے بھی کئے تھے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوئے تھے لیکن پولیس نے بھی انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج کے اثرات G-20 چوٹی کانفرنس پر مرتب ہونے نہیں دیئے ۔ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اُن کے ( مے ) ساتھ خصوصی تعلقات اس لئے ہیں کہ ہم کچھ ہی دنوں میں تجارتی معاہدہ کرنے والے ہیں جو بہت ہی مستحکم اور اہمیت کا حامل ہوگا ۔ انھوں نے کہاکہ تھریسا مے بھی سیاسی بصیرت کی حامل شخصیت ہیں۔انھیں برطانوی عوام ایسے تمام مواقع فراہم کرے جس کے ذریعہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں۔ یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہے کہ تھریسا مے ایسی پہلی بیرون ملک سربراہ تھیں جنھوں نے وائیٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی جس کے بعد ٹرمپ نے بھی اُن سے لندن کا دورہ کرنے کا وعدہ کیا تھا ور کہا کہ جیسے ہی تمام تفصیلات اور تیاریوں کو قطعیت دی جائیگی وہ لندن کا دورہ ضرور کریں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ کے امکانات میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ بریگزیٹ سے اخراج کے بعد برطانیہ کو امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے ۔ ٹرمپ نے برطانیہ کے یوروپی یونین سے اخراج کی تائید کی تھی ۔ ٹرمپ نے آج جن عالمی قائدین سے ملاقات کی اُن میں وزیراعظم جاپان شینزوابے ، صدر انڈونیشیاء جوکہویڈوڈو اور سنگاپور کے وزیراعظم لی سین لونگ شامل ہیں۔ٹرمپ نے خاتون انٹرپرینرس کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں بھی شرکت کی جو ایک ایسا پراجکٹ ہے جس کی روح رواں ٹرمپ کی دختر ایوانکا ٹرمپ ہیں جو اس وقت وائیٹ ہاؤس میں اپنے والد کے سینئر مشیر کی حیثیت سے بھی کام کررہی ہیں۔ اس تقریب میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بھی شرکت کی ۔ اپنی مختصر سی تقریر میں ٹرمپ نے دُنیا بھر میں خاتون تاجرین کی ترقی اور فروغ کے لئے اُن کی دختر کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی ستائش کی۔
جس وقت ٹرمپ نے پوتن سے ملاقات کی تھی ۔ اُس وقت امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ بات چیت کے دوران کچھ ہنسی مذاق بھی ہوا تاہم اس بات سے روس نے انکار کیا کہ امریکی صدارتی انتخابات میں اُس نے مبینہ مداخلت کی تھی ۔ روسی وزیر خارجہ سرگی لاروف نے کہاکہ ٹرمپ خود بھی صدر موصوف پوتن کے اُس استدلال کو قبول کرچکے ہیں کہ روس نے امریکی صدارتی انتخابات میں کوئی مداخلت نہیں کی تھی جیسا کہ عام طورپر باور کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT