Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ اپنی کمپنیوں کی طرح امریکہ کو بھی دیوالیہ کردیں گے

ٹرمپ اپنی کمپنیوں کی طرح امریکہ کو بھی دیوالیہ کردیں گے

کیا جوئے خانے چلانے والا شخص نقصان اٹھا سکتا ہے؟ ہلاری کے ٹرمپ پر بے باک تبصرے

واشنگٹن ۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ڈیموکریٹک امکانی صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن اور ری پبلکن امکانی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان انتخابی مہم کے دوران جس سردجنگ کو شروع کیا گیا تھا لگتا ہے وہ نومبر میں ہی ختم ہوگی۔ تازہ ترین واقعہ میںہلاری نے ٹرمپ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر موصوف صدر بن گئے تو امریکہ دیوالیہ ہوجائے گا جس طرح ٹرمپ کی کمپنیاں دیوالیہ ہوچکی ہیں کیونکہ ٹرمپ نے معاشیات کیلئے اپنا جو ’’پکوان‘‘ تیار کیا ہے وہ کم تنخواہوں، کم ملازمتوں اور زائد قرضہ جات پر مشتمل ہے۔ 68 سالہ ہلاری نے کہا کہ اگر عوام خود اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ سوچیں کہ کوئی بھی ایسا شخص جو بڑے بڑے جوئے خانے چلاتا ہے اسے خسارہ کس طرح ہوسکتا ہے؟ بات صرف یہاں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ انہیں (ہلاری) روزانہ ایسی خبریں ملتی ہیں جہاں عوام کا ایک طبقہ صرف اس تصور سے لرزہ براندام ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ جب امریکہ کے صدر بنیں گے تو لاکھوں تارکین وطن کا کیا ہوگا جو اس وقت امریکہ میں برسرروزگار ہیں۔ 2016ء انٹرنیشنل کنونشن آف دی سرویس ایمپلائز انٹرنیشنل یونین کے ایک اجلاس سے ڈیٹرائیٹ میں خطاب کرتے ہوئے ہلاری نے یہ بات کہی۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں وہ امیگریشن اصلاحات متعارف کروائیں گی اور یہ اصلاحات کوئی ایک دو سال میں نہیں بلکہ اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں ابتدائی 100 ایام میں متعارف کروائے جائیں گے۔ اس طرح سبکدوش ہونے والے صدر بارک اوباماکی عاملہ کو برقرار رکھتے ہوئے تمام خاندانوں کو یکجا رکھا جائے گا۔

انہوں نے ایک بار پھر انتباہ دیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کی صورت میں 11 ملین افراد کو امریکہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا اور اس طرح سخت محنتی اور جفاکش خاندان منتشر ہوجائیں گے۔ لہٰذا ہمیں اس نظریئے کو مسترد کرنا ہے۔ ہمیں ان محنتی امریکی خاندانوں کی تائید میں کھڑا ہونا ہے جو امریکہ کی معیشت کو مستحکم کرتے ہیں۔ ٹرمپ تمام اسکولس، کالجس، ملازمتوں کے مقامات اور مکانات کو ایک ’’ڈپورٹیشن فورس‘‘ روانہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہاں موجود بچوں، ماں باپ اور دادا، دادیوں کو نکال باہر کیا جاسکے۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ جو بچے امریکہ میں پیدا ہوئے انہیں پیدائشی حق سے بھی محروم رکھا جائے گا یعنی پیدائش کے ساتھ ہی شہریت کا حق باقی نہیں رہے گا اور جب ٹرمپ تارکین وطن کو عصمت ریزی کرنے والے اور قاتلوں سے تعبیر کرتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ کالرا کی فیملیز کی طرح بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے پر امریکہ کس نوعیت کا ملک ہوگا، اس کے بارے میں ابھی کوئی پیش قیاسی نہیں کی جاسکتی لیکن اندازے ضرور لگائے جاسکتے ہیں وہ بھی ٹرمپ کی اناپ شناپ بکواس کی بنیاد پر۔ اس کے باوجود ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بیوقوف یا احمق نہیں ہیں۔ اب تک ٹرمپ کے بارے میں جو کچھ میں نے اوپر کہا ہے کیا وہ باتیں کوئی دانشور اور سمجھدار شخص کرسکتا ہے؟۔

TOPPOPULARRECENT