Wednesday , September 20 2017
Home / اداریہ / ٹرمپ بھی جنگ کے شوقین

ٹرمپ بھی جنگ کے شوقین

موت آنا شامِ غم مشکل نہ تھا
کچھ توجہ آپ کی درکار تھی
ٹرمپ بھی جنگ کے شوقین
امریکہ نے افغانستان کی پہاڑیوں پر سب سے طاقتور غیر نیوکلئیر بم برسادیا ہے ۔ یہ کارروائی اچانک ہی کی گئی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے باغیوں کا خاتمہ کرنے کیلئے یہ کارروائی کی گئی ہے ۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے برسائے گئے اس سب سے بڑے بم کے نتیجہ میں داعش کے 36 لڑاکے ہلاک ہوگئے ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس بم کی وجہ سے عام شہریوں کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے ۔ یہ بھی واضح نہیں کیا جا رہا ہے کہ اس بم کی وجہ سے علاقہ میں کتنی تباہی مچائی گئی ہے اور بم اندازی کے جو نشانے مقرر کئے گئے تھے ان کی کس حد تک تکمیل ہوسکی ہے ۔ امریکہ نے بھلے ہی کسی بھی مقصد سے یہ کارروائی کی ہو لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان کی جو صورتحال ہے وہ اس طرح کی بم اندازی اور ہلاکت خیز حملوں کے ذریعہ بہتر نہیں ہوسکتی ۔ اس کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی اور حقیقی جذبہ اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ یہ تاثر عام ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کسی بھی مسئلہ میں باریک بینی سے سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کے عادی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی بھی کارروائی کے فیصلوں کے اثرات کو ذہن میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک بڑے تاجر کیلئے ہوسکتا ہے کہ یہ طریقہ کار اس کے مطابق ہو لیکن دنیا کے ایک بڑے اور اہم ملک کے صدر کی حیثیت میں ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ طریقہ کار قابل قبول نہیں ہوسکتا ۔ کسی بھی بڑی یا معمولی کارروائی سے قبل اس کے اثرات اور حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن افغانستان میں جو بم برسائے گئے ہیں اس تعلق سے تو یہ بھی قطعیت سے نہیں کہا جاسکتا کہ بم حملہ کا حکم انہوں نے دیا بھی تھا یا نہیں۔ جب ٹرمپ سے اس حملے کے بعد اس تعلق سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنے روایتی انداز میں اسے گول مول کردیا اور کوئی راست جواب دینے سے گریز ہی کیا ہے ۔ اس سے یہ شبہات تقویت پاتے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ ابھی اہم امور سے متعلق فیصلوں میں بھی اپنی گرفت بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ جو بم افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے ضلع اچین میں گرایا گیا ہے وہ اب تک امریکہ کی جانب سے کسی بھی جنگ میں استعمال کئے گئے تمام بموں سے بڑا تھا اور اس کے اثرات بھی زیادہ ہونگے ۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے صدر امریکہ منتخب ہونے سے قبل کہا تھا کہ وہ جنگ میں بہت ماہر ہیں۔ وہ جنگ کو پسند کرتے ہیں۔ اس سے ان کی ذہنیت کا انداز ہ ہوتا ہے ۔ ان کے صدر بننے کے بعد سے امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے انتظامیہ نے شام میں فضائی حملے کئے اور وہاں 59 ٹام ہاک میزائیل داغے گئے ۔ ان سے جو تباہی مچی ہے اس کی داستان بھی کافی طویل ہے ۔ شام کے بعد اب افغانستان کو نشانہ پر لایا گیا ہے اور یہاں اب تک کا سب سے بھاری بم گرایا گیا ہے ۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ فوج نے اس بم کے استعمال سے قبل تمام امکانات کا جائزہ لیا ہے اور عام شہریوں کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے ہر طرح کی احتیاط برتی گئی ہے لیکن دیگر ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے اس بم حملے میں عام شہری بھی زد میں آئے ہیں اور ابھی سے اس تباہی کا اندازہ لگانا مشکل ہے جو اس بم کے گرائے جانے کی وجہ سے آئی ہے ۔ آئی ایس کے تخریب کاروں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ساری دنیا حمایت کرتی ہے لیکن اس کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی اور اقوام متحدہ کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دہشت گردی سے آج ساری دنیا پریشان ہے لیکن اس سے نمٹنے کیلئے تشدد کا سہارا نہیں لیا جاسکتا ۔ جہاں تک ممکن ہوسکے جنگ سے بچنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ عام شہریوں کو اس کی مشکلات اور مصائب سے بچایا جاسکے لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عام شہریوں کی مشکلات کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
امریکہ تقریبا ہر فضائی حملے کے وقت کہتا ہے کہ مخالفین کو ختم کرنے کیلئے اس کے حملے بہت ضروری ہوگئے تھے ۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس نے جہاں کہیں بھی حملے کئے ہیں وہاں مخالفین کو ختم نہیں کیا جاسکا ہے اور نہ امن قائم ہوسکا ہے بلکہ اس کے حملوں کی وجہ سے دنیا بھر میں بے چینی میں اضافہ ہوا ہے ۔ ویتنام کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جہاں بے تحاشہ فوجی طاقت استعمال کرنے کے باوجود امریکہ کو کوئی کامیابی نہیں مل سکی تھی ۔ اب بھی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے حملے کرنے کی بجائے بین الاقوامی برادری کو ساتھ لیتے ہوئے ایسی حکمت عملی بنائے کہ داعش جیسے گروپس کا خاتمہ بھی ہو اور عام شہریوں کا نقصان بھی نہ ہونے پائے ۔

TOPPOPULARRECENT