Friday , May 26 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ سعودی عرب سے اپنے پہلے بیرونی دورہ کا آغاز کریں گے

ٹرمپ سعودی عرب سے اپنے پہلے بیرونی دورہ کا آغاز کریں گے

واشنگٹن ۔6 مئی ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب تک یعنی وائیٹ ہاؤس میں اپنے 100 دن مکمل کرنے کے باوجود کسی سرکاری دورہ پر بیرون ملک روانہ نہیں ہوئے ہیں لیکن اب وہ سعودی عرب کا دورہ کرتے ہوئے اپنے بیرونی دوروں کا آغاز کرنا چاہتے ہیں جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ بھی عالم اسلام سے بہتر روابط کے خواہاں ہیں کیونکہ مسلمانوں کے تعلق سے اُن کی انتخابی مہمات کے دوران ہی یہ پتہ چل گیا تھا کہ وہ مسلم مخالف ہیں تاہم اب یہ خود اُن کیلئے بھی ناگزیر ہوگیا ہے کیونکہ اگر شدت پسند دہشت گردی کا مکمل صفایا کرنا ہے تو ٹرمپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اُس کیلئے مسلم ممالک کو اعتماد میں لئے بغیر یہ کام انجام نہیں دیا جاسکتا ۔ دریں اثناء پاکستانی نژاد امریکی شہری ساجد طرار جو ٹرمپ کے زبردست مداح ہیں ، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے نہیں بلکہ دہشت گردوں کے دشمن ہیں اور موصوف عالم اسلام کے ساتھ تعلق استوار کرنا چاہتے ہیں ۔ مسٹر طرار ’’مسلم امریکنس فار ٹرمپ ‘‘کے بانی ہیں اور انھیں ڈونالڈ ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں صدر کے ’’نیشنل پریرس ڈے ‘‘ کے خطاب کے موقع پر مدعو کیا تھا ۔ اُسی خطاب کے دوران ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے پہلے سرکاری بیرونی دورہ کا آغاز سعودی عرب سے کریں گے۔ مسٹر طرار نے کہاکہ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کا دورہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں ۔ اُس کے بعد موصوف اسرائیل جائیں گے ۔ حالانکہ ٹرمپ اگر چاہتے تو اپنے پہلے بیرونی دورہ پر اسرائیل کیلئے بھی روانہ ہوسکتے تھے ۔ ٹرمپ کی ترجیحات میں اس وقت دولت اسلامیہ کا مکمل خاتمہ ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں خوشگوار تبدیلیاں آسکیں۔ طرار نے ایک چبھتی ہوئی بات یہ کہی کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مسلم ممالک اُتنی سنجیدگی کا اظہار نہیں کررہے ہیں جتنا کہ اُن سے توقع کی جارہی ہے ۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ تنازعہ ، یمن میں تنازعہ ۔ یہ تمام حالات سعودی عرب کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ یاد رہے کہ ٹرمپ جاریہ ماہ سعودی عربیہ کے بعد اسرائیل اور ویٹکن کا دورہ کریں گے جبکہ دورہ کا خاتمہ بروسلز کے دورہ سے ہوگا جہاں وہ 25 مئی کو ناٹو کا بھی دورہ کریں گے جس کے بعد سیسلی میں G7 اجلاس میں شرکت بھی اُن کے پروگرام میں شامل ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT