Friday , July 28 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ نے سعودی عرب سے روابط کی حامل اپنی 4 کمپنیوں کو بند کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے روابط کی حامل اپنی 4 کمپنیوں کو بند کردیا

واشنگٹن 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی منتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انتخابات کے بعد اپنی چند کمپنیوں کو بند کردیا ہے جن میں چار ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کے سعودی عرب کے تجارتی اداروں سے ان کے روابط کا اندازہ ہوتا ہے۔ کارپوریٹ رجسٹریشنس کے مطابق سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی یہ چار کمپنیاں ان جملہ 9 کمپنیوں میں شامل ہیں جنھیں انتخابات کے بعد سے ٹرمپ نے منسوخ یا ختم کردیا ہے۔ ٹرمپ نے بحیثیت صدر امریکہ امکانی مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لئے اپنی تجارتی سرگرمیوں میں تبدیلی لائی ہے۔ ٹرمپ آرگنائزیشنس کے نمائندہ ایلن گارٹن نے چار کمپنیوں کو بند کرنے کا فیصلہ معمول کی کارروائی قرار دیا اور اسے اپنے گھر کی صفائی سے تعبیر کیا۔ انھوں نے کہاکہ اب سعودی عرب میں ٹرمپ کا کوئی تجارتی وینچر نہیں ہے۔

 

انتخابات میں روس نے ٹرمپ کا ساتھ دیا تھا
سی آئی اے کا تجزیہ، ٹرمپ کی صدارتی ٹیم نے دعویٰ مسترد کردیا

واشنگٹن، 10 دسمبر(سیاست ڈاٹ کام)امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے نے کہا کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس نے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی مدد کی تھی۔انٹیلی جنس ایجنسی کے حکام نے اس کا انکشاف کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس شخص کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا روس کی حکومت کے ساتھ تعلق تھا۔اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن اور اس کی تشہیری مہم کے چیئرمین سمیت دیگر کے ہزاروں ای میل کو ہیک کیا اور اسے وکی لیکس سے اشتراک کیا تھا۔حکام نے کہا کہ اس معاملے میں ملوث شخص خفیہ محکمہ ہی سے وابستہ ہے اور اس نے محترمہ ہلیری کو الیکشن میں نقصان پہنچانے کے لئے ٹرمپ کی مدد کی تھی۔ایک سینئر افسر نے کہا کہ انٹیلی جنس تحقیقات میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ روس محترمہ کلنٹن کے خلاف ٹرمپ کی مدد کر رہا تھا۔تاہم اس معاملے میں ٹرمپ کی ٹیم نے کوئی رد عمل نہیں کیاہے ۔وہیں ٹرمپ نے بھی خفیہ محکمہ کے ان الزامات کا مسلسل تردید کی ہے کہ روس نے امریکہ کے خفیہ ڈیٹا کو ہیک کیا ہے ۔انہوں نے اس ہفتے ایک میگزین سے کہا ‘میں اس پر یقین نہیں کرتا ہوں کہ روس نے امریکی انتخابات میں کوئی دخل دی ہے ۔ہیک روس بھی کر سکتا ہے اور چین بھی کر سکتا ہے ۔ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی اپنے ملک میں ہی اس کام کو کر رہا ہو‘۔ تاہم ٹرمپ کی صدارتی ٹیم نے میڈیا کی اِس رپورٹ کو مسترد کردیا۔ ٹیم نے کہاکہ یہ وہی لوگ ہیں جو پہلے بھی کہا کرتے تھے کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ انتخابی عمل اب پورا ہوچکا ہے اور تاریخ کا یہ سب سے اہم بڑا انتخاب تھا۔ اب وقت ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور امریکہ کو پھر ایک بار ایک عظیم ملک میں تبدیل کریں۔ ٹرمپ نے جاریہ ہفتہ اِن الزامات کو مسترد کردیا تھا۔ انھوں نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ وہ اِس بات پر یقین نہیں کرتے کہ انتخابی عمل میں مداخلت کی گئی۔ جہاں تک ہیکنگ کا تعلق ہے یہ روس بھی ہوسکتا ہے، چین بھی ہوسکتا ہے یا پھر اپنے ہی ملک کے نیو جرسی کا کوئی شہری بھی ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT