Friday , September 22 2017
Home / اداریہ / ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب

ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب

صیاد نے کس ہشیاری سے اک رنگیں پھندا ڈالا ہے
ہر شخص یہی کہہ کر خوش ہے اب کوئی اسیردام نہیں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے اولین بیرونی دورہ پر سعودی عرب پہونچے اور اس دورہ کے موقع پر انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی ۔ اس دورہ کے موقع پر دونوںملکوں کے مابین 380 بلین ڈالرس کے معاہدات ہوئے جن میں اسلحہ کی خریدی اور دفاعی ساز و سامان کی فراہمی بھی شامل ہے ۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے ٹرمپ کے طیارہ تک پہونچ کر ان کااستقبال کیا ۔ یہ امریکی صدر کیلئے اعزاز کی بات ہی کہی جاسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ بھی ڈونالڈ ٹرمپ کو سعودی عرب کاباوقار سیول ایوارڈ بھی دیا گیا ۔ ویسے تو سعودی عرب اور امریکہ کے مابین ایک طویل عرصہ سے قریبی اور گہرے تعلقات ہیں۔ خلیج میں امریکہ سعودی عرب کے ساتھ روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے تاہم اس بار ٹرمپ کے اس دورہ کو اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جبکہ ایران میں حسن روحانی دوسری معیاد کیلئے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ جس دن حسن روحانی کے صدارتی انتخاب کے نتائج سامنے آئے اسی دن ٹرمپ سعودی عرب پہونچے ۔ حالیہ عرصہ میں سعودی عرب اور امریکہ کے مابین تعلقات میں قدرے سرد مہری بلکہ یہ کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا کہ معمولی سی کشیدگی بھی پیدا ہوگئی تھی ۔ اس کشیدگی کی وجہ سے خطہ کی صورتحال پر بھی اس کا اثر ہو رہا تھا تاہم سفارتی کوششوں کی کامیابی کانتیجہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اولین بیرونی دورہ میں سب سے پہلے سعودی عرب پہونچے ۔ دونوںملکوں کے مابین قدیم دفاعی تعلقات ہیں اور ان تعلقات کو ہمہ جہتی بنانے اور ان میں مزید استحکام پیدا کرنے اور اسے وسعت دینے کیلئے ٹرمپ کا یہ دورہ اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کے علاوہ امریکہ علاقہ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے تئیں بھی بہت زیادہ فکرمند ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے سعودی عرب کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اس دورہ کے موقع پر دونوںملکوں کے مابین 380 بلین ڈالرس مالیتی معاہدات ہوئے ہیں جن سے سعودی عرب کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں استحکام پیدا کرنے میں مدد ملے گی ۔ وائیٹ ہاوز کا بھی کہنا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ علاقہ میںایران کی وجہ سے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کیلئے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاملتیں کی گئی ہیں۔
خلیج اور مشرق وسطی میں جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب اور امریکہ کے مابین تعلقات کی اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ شام میں حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں۔یمن میں حالات سدھرنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ساتھ ہی اسرائیل اپنے جارحانہ تیور اور ناپاک عزائم کو بھی آگے بڑھانے میںکوئی کسر باقی رکھنا نہیںچاہتا ۔ امریکہ علاقہ میںایران کے اثر و رسوخ کو کم سے کم کرنے کا تہئیہ کرچکا ہے ۔ دیگر عرب ممالک میں بھی امریکہ اپنے اثرات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اس صورت میں اسے یقینی طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی فکر لاحق ہوئی تھی ۔ حالیہ عرصہ میں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں جو سرد مہری کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی وہ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دورہ کے نتیجہ دور ہوجائیگی اور ان دونوں ملکوں کے مابین ایک بار پھر تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوجائیگی ۔ سعودی عرب میں بھی جو داخلی حالات ہیں ان سے نمٹنے میں بھی اسے امریکہ کے ساتھ تعلقات مدد ملنے کا ادعا کیا جا رہا ہے لیکن ایک بات کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کیلئے علاقہ کے مفادات کو اور خود سعودی عرب کے مفادات پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ سعودی عرب یا علاقہ کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ کرینگے تاہم اس تعلق سے مملکت کے حکمت عملی تیار کرنے والے ماہرین اور پالیسی سازوں کو چوکس اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی مشکل یا پریشانی سے بچا جاسکے۔
امریکہ کے تعلق سے یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ وہ علاقہ میں اپنا تسلط مزید مستحکم کرنے یا دوسرے ممالک پر اثر انداز ہونے کیلئے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا استعمال کرے گا ۔ ایسے میں سعودی حکومت کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے ضرور امریکہ سے تعاون کرے لیکن اسے امریکہ کی انتہائی باریک بینی سے تیار کی جانے والی حکمت عملی کے جال میں نہیں پھنسنا چاہئے ۔ سعودی عرب سے عالم اسلام کی امیدیں وابستہ ہیں اور مملکت تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کیلئے مرکزی اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ انتہائی مقدس سرزمین ہے ۔ اس بات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے سعودی عرب کو امریکہ کے ساتھ سارے عالم اسلام کی نمائندگی کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ اسلام کے تعلق سے غلط فہمیوں کو دور کرنے کے معاملہ میں بھی سعودی عرب ‘ امریکہ پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور اس سلسلہ میں پہل کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT