Thursday , June 29 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کا سوال : ایران سے پابندی ہٹانا امریکہ کی سلامتی کے مفاد میں ہے یا نہیں

ٹرمپ کا سوال : ایران سے پابندی ہٹانا امریکہ کی سلامتی کے مفاد میں ہے یا نہیں

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان نیوکلیئر معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد جسے مسترد نہیں کیا جاسکتا
واشنگٹن۔19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی ایجنسی کو یہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے کہ جامع مشترکہ منصوبہ جے سی پی او اے  کے تحت ایران پر سے ہٹائی گئی پابندی ملک کی سلامتی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ویانا میں جولائی 2015 میں تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے تاریخی نیوکلیئرمعاہدے کے مطابق پابندی ہٹانے سے متعلق قدم اٹھایا گیا تھا۔ مسٹر ٹرمپ نے اس معاہدے کو بدترین قرار دیا تھا۔وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ایک بیان میں کہا کہ ایران پر سے بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کی منسوخی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بارے میں کانگریس کو مطلع کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے قومی سیکورٹی ایجنسی کی قیادت میں بین ایجنسی جانچ کا حکم دیا ہے ۔ اس دوران زبردست غور خوض کیا جائے گا کہ ایران پر لگائی گئی پابندی ملک کی سلامتی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدے کے دائرے میں نیوکلیئرپروگراموں پر تو عمل کر رہا ہے لیکن بہت سے ذرائع کے ذریعے ‘اسپانسرڈ دہشت گردی’ میں ان کا کردار اہم ہے جس پر بحث کی ضرورت ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایران پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کی سمت میں قدم اٹھانے کے لئے حکومت کو حکم دیا تھا۔ معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری ملنے کے 90 دنوں کے بعد مسٹر اوباما نے یہ حکم دیا تھا۔ امریکہ کے وزیر، توانائی، تجارت اور آمدنی بھیجے گئے میمورنڈم میں مسٹر اوباما نے کہا تھا کہ پابندیوں کے سلسلے میں امریکی وعدوں کو مؤثر بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنے کا میں حکم دیتا ہوں۔امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ یہ ہم سب کے لئے اہم دن ہے اور ایران کا نیوکلیئر صرف پرامن کاموں کے لئے ہو اس بات کو یقینی بنانے کے عمل میں اہم پہلا قدم ہے ۔دوسری طرف ایران کی جانب سے امریکی صدارتی انتخابات میں مسٹر ٹرمپ کی جیت کے بعد رد عمل آیا تھا ۔دنیا کے چھ طاقتور ممالک کے ساتھ ہونے والے نیوکلیئر معاہدے کی اگر خلاف ورزی کی گئی تو وہ دیگر متبادل پر غور کر سکتا ہے ۔ کیونکہ نو منتخب صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مخالف ہیں۔ایران نے کہا تھا کہ نیوکلیئر معاہدے کے مطابق ملک نے پالیسیوں کو نافذ کیا ہے جبکہ امریکہ اور وہاں کا موجودہ انتظامیہ اپنے وعدے کے مطابق کام نہیں کر رہے ہیں۔ ہم امریکہ کے نو منتخب صدر سے احترام کی امید کرتے ہیں۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان نیوکلیئر معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا ایک باب ہے اور اسے صرف ایک حکومت کے فیصلے سے مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT