Saturday , May 27 2017
Home / دنیا / ٹرمپ کو دھکہ ، آرمی سکریٹری کیلئے نامزد سنیٹر دستبردار

ٹرمپ کو دھکہ ، آرمی سکریٹری کیلئے نامزد سنیٹر دستبردار

واشنگٹن ۔6 مئی ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈؤنالڈ ٹرمپ کو آج ایک بار اور منہ کی کھانی پڑی کیونکہ آرمی سیکریٹری کیلئے انھوں نے اپنے جس پسندیدہ شخص کو نامزد کیا تھا اُس نے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ ٹرمپ کو قانون سازوں نے بتایا کہ آرمی سیکریٹری کے اہم عہدہ کیلئے جس شخص کی نامزدگی عمل میں آئی ہے اُس کے ماضی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو مسلمانوں ، ہیجڑوں اور لاتینوس کے تئیں اُن کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔ یاد رہے کہ ٹینیسی کے ری پبلکن سینیٹر مارک گرین نے کل این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ اُن کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے جس کے بعد وہ آرمی سیکریٹری کے عہدہ پر فائز ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور اپنی نامزدگی سے دستبردار ہورہے ہیں۔ جو لوگ اُن پر کیچڑ اُچھال رہے ہیں وہ صرف اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ایسا کررہے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ مارک گرین آرمی سیکریٹری کے عہدہ کیلئے ٹرمپ کی دوسری پسند تھے کیونکہ ٹرمپ کے سب سے پسندیدہ امیدوار ونینٹ وائیولا جو خود بھی ایک کروڑ پتی شخص ہیں نے فروری میں یہ کہہ کر اپنی نامزدگی واپس لے لی تھی کہ وہ بعض مالیاتی وجوہات اور بعض ناگزیر حالات کے تحت آرمی سیکریٹری کے عہدہ پر فائز ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ دوسری طرف یو ایس سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے سربراہ چک شومر نے یہ تک کہہ دیا کہ مارک گرین کو سرے سے نامزد ہی نہیں کیا جانا چاہئے تھا کیونکہ ہیجڑوں کے تعلق سے اُن کے نظریات غیرمعمولی تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہیجڑہ پیدا ہونا یا ہیجڑا بن جانا کسی بیماری کی طرح ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کے خلاف بھی دلآزار بیانات دیئے تھے لہذا ایسے آدمی کا (مارک گرین) آرمی سیکریٹری بننا انتہائی غیرمناسب بات ہوتی ۔
اب ٹرمپ کیلئے ہرروز نئے امتحان جیسا ہے کیونکہ وہ سیاسی پس منظر سے نہیں آئے ہیں۔ بنیادی طورپر وہ ایک تاجر ہیں اور ہر چیز کو کاروباری نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی انتظامیہ میں سابق اور موجودہ جنرلس کو کلیدی عہدوں پر فائز کیا ہے تاہم پنٹگان میں سیاسی طورپر اہم تقررات کیلئے انھیں مشکلات کا سامنا ہے جیسے بحریہ اور فضائیہ کے سکریٹریز کی جائیدادیں بھی مخلوعہ ہیں وہیں دیگر اہم دفاتر میں بھی سینئر افسران کے عہدہ پر ہنوز کسی کو فائز نہیں کیا گیا ہے۔ اب یہ ٹرمپ کی مجبوری ہے یا کوئی تکنیکی رکاوٹ ، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیونکہ ان مخلوعہ جائیدادوں کو بھی پُر کرنے کیلئے کوئی خاص پیشرفت نظر نہیں آرہی ہے ۔ محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مخلوعہ جائیدادوں کو پُر کرنے میں جو تاخیر ہورہی ہے اُس کے پس پشت   کئی وجوہات ہیں جن میں ڈیموکریٹس اور   ری پبلکنس کے درمیان کانگریس میں پائی جانے والی چپقلش سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ پارٹی میں پائے جانے والے داخلی اختلافات بھی ان وجوہات میں سے ایک ہیں۔ یاد رہے کہ ٹرمپ کے H-1B ویزہ کے حکمنامہ پر دستخط کے بعد بھی ساری دنیا میں اُن کے خلاف احتجاج شروع ہوگئے تھے ۔ میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے موقف پر وہ ہنوز اٹل ہیں اور اب تک یہی کہہ رہے ہیں کہ بلند اور طویل ترین دیوار کی تعمیر کے مصارف میکسیکو سے وصول کئے جائیں گے جبکہ میکسیکو مصارف برداشت کرنے تیار نہیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں وائیٹ ہاؤس میں اپنی کارکردگی کے 100 دن مکمل کئے ہیں لیکن ان 100 دنوں کوحوصلہ افزا یا اطمینان بخش نہیں کہا جاسکتا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT