Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کیخلاف شکاگو کے بعد کنساس میں احتجاجی مظاہروں کی لہر

ٹرمپ کیخلاف شکاگو کے بعد کنساس میں احتجاجی مظاہروں کی لہر

اوہائیو میں ایک برہم شخص اسٹیج پر چڑھ گیا ، خفیہ سرویس ایجنٹوں نے ٹرمپ کو محاصرہ میں لے لیا ، حملہ آور شخص آئی ایس آئی ایس کا حامی ، ریپبلیکن امیدوار کا ردعمل

٭ ’’ایسے افراد کو جیل جانا چاہئے تاکہ ان کی زندگی برباد ہوجائے ‘‘
٭ عدالت نے گرفتار شخص کو رہا کردیا
٭ کنساس میں تقریر کے دوران برہم خاتون کا مظاہرہ

واشنگٹن۔13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی ریاست اوہائیو میں ایک ریالی سے ڈونالڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران ایک برہم احتجاجی نے شہ نشین پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن صدارتی انتخابات کیلئے ریپبلیکن پارٹی کے امیدواروں میں سرفہرست ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے جلسوں میں گڑبڑ اور افراتفری کے اس تازہ ترین واقعہ کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص غالباً آئی ایس آئی ایس کا حامی ہوسکتا ہے۔ اوہائیو کے شہر ڈے ٹن میں یہ تازہ ترین واقعہ پیش آیا جس سے ایک دن قبل شکاگو میں ٹرمپ کو سکیورٹی پر لاحق تشویشناک کے سبب اپنی ریالی منسوخ کرنا پڑا تھا جب سینکڑوں احتجاجی ان کے جلسہ کے مقام پر جمع ہوکر نفرت پر مبنی سیاست کے خلاف برہمی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران ٹرمپ کے حامیوں سے ان کی ہاتھا پائی بھی ہوگئی تھی۔ رئیل اسٹیٹ کے ارب پتی تاجر سے سیاست داں بننے والے ٹرمپ کے خلاف یہ اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا۔ بعدازاں ٹرمپ نے کنساس کے شہر مسوری میں آج کہا کہ ’’اس (احتجاجی) کو جیل جانا چاہئے۔ یہ شخص غالباً آئی ایس آئی ایس کا حامی ہوگا۔ انہیں (عدالت کو) چاہئے کہ اس کو جیل بھیج دیں۔

ہماری عدالتوں کو مزید سخت اور اسمارٹ ہونا چاہئے‘‘۔ ٹرمپ دراصل صبح میں پیش آئے واقعہ کا حوالہ دے رہے تھے جس میں ایک شخص نے چھلانگ لگاکر اسٹیج پر پہونچنے کی کوشش کی جو غالباً انہیں ضرر پہونچانے کے مقصد سے آگے بڑھ رہا تھا لیکن اس سے پہلے ہی خفیہ ادارہ کے اہلکاروں نے ٹرمپ کو اپنے محاصرہ میں لیتے ہوئے اس شخص کو پکڑ لیا تھا۔ اوہائیو کے حکام نے اس شخص کی شناخت کرلی اور اس کے خلاف اسٹیج پر چڑھ جانے کا الزام عائد کیا۔ ماؤنٹ گمری کاؤنٹی کے شریف فل پلمر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فیر بورن کے تھاس ڈیماسیو پر ضبط شکنی اور سنسنی پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کنساس میں جہاں کل ٹرمپ کی تین آخری ریالیاں مقرر تھیں، احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور انہوں نے خبردار کیا کہ وہ احتجاجیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ان افراد کو جیلوں میں رہنا چاہئے جہاں ان کی زندگیاں برباد ہوجائیں گی‘‘۔ ٹرمپ کی اس وارننگ کے باوجود کنساس میں ہی ریالی سے ان کے خطاب کے دوران ایک خاتون نے احتجاج شروع کردیا جس پر ٹرمپ نے وہاں موجود پولیس سے کہا کہ ’’اس کو گرفتار کیجئے‘‘۔ اس ارب پتی رئیل اسٹیٹ تاجر نے کہا کہ ڈمے ٹن میں انہیں ضرر پہونچانے کی کوشش کرنے والے آئی ایس آئی ایس کا حصہ ہیں یا اس کے حامی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کی طرف سے انٹرنیٹ پر تلاش کردہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس ضمن میں ان کے پاس امریکی پرچم نذرآتش کرنے کے علاوہ دیگر کئی ثبوت موجود ہیں۔ اس دوران ٹرمپ کے جلسہ میں احتجاج کرنے والے ایک شخص کو عدالت نے رہا کردیا تاہم ٹرمپ نے اس کو جیل سے رہا کئے جانے کی مخالفت کی اور دعویٰ کیا کہ اس قسم کے خطرناک افراد کو جیل میں رہنا چاہئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ (شخص) ملک سے محبت نہیں کرتا‘‘۔ ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ وہ قانون کی پابندی کریں گے اور کہا کہ وہ ’’وائر بورڈنگ‘‘ کے حامی ہیں۔ اس سے کام چلے گا۔ ٹرمپ نے اپنے مداحوں کے نعروں کے درمیان کہا کہ ’’میں عدم تشدد کا حامی شخص ہوں، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا ہے‘‘۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کنساس میں ٹرمپ کے اکثر جلسے احتجاجی مظاہروں کی نذر ہوگئے جہاں ایک کے بعد دیگر کئی مقامات پر احتجاجیوں نے مظاہروں کے دوران ٹرمپ کے خلاف نعرہ بازی کی۔

تشدد کو معاف نہیں کروں گا
٭٭ ڈونالڈ ٹرمپ نے تشدد کو معاف کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ریالیوں میں ان کے حامیوں کی حرکتوں کیلئے وہ ذمہ دار نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا جو کچھ ہوا وہ شرمناک ہے اور وہ ہر ایک کی تشویش کا احساس کرتے ہیں ۔ وہ تشدد کو معاف نہیں کریں گے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ریالیوں میں احتجاجی اشتعال انگیزی کررہے ہیں ۔

 

27% مسلمان انتہائی دہشت گردٹرمپ کا ریمارک
واشنگٹن ۔ /13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ریپبلکن صدارتی دوڑ میں سب سے آگے رہنے والے ڈونالڈ ٹرمپ نے مخالف مسلم موقف جاری رکھتے ہوئے آج ایک اور متنازعہ بیان دیا ہے کہ ایک چوتھائی سے زائد مسلمان ’’انتہائی دہشت گرد‘‘ ہیں ۔ فاکس نیوز سنڈے پر جب ان سے کہا گیا کہ 1.6 بلین مسلمانوں کے منجملہ 1,00,000 سے بھی کم جہادی کاز کیلئے لڑرہے ہیں ۔ ٹرمپ نے کہا کہ دہشت گرد مسلمان 27 فیصد ہے اور 35 فیصد تک جنگ میں شامل ہوسکتے ہیں ، یہ نفرت بہت زیادہ ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ آپ یہ مانتے ہیں کہ 1.5 بلین میں صرف 1,00,000 جہادی ہیں ۔ جس نے بھی یہ سروے کیا وہ غلط ہے ۔ آپ نے ہیئو پول پر نظر کیوں نہیں ڈالی جو حال ہی میں سامنے آیا تھا ۔ تقریباً 27 فیصد مسلمان بالکل دہشت گرد ہیں ۔ 69 سالہ ٹرمپ یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے خلاف متنازعہ ریمارکس کرتے آرہے ہیں ۔ اس سے پہلے انہوں نے کہا کہ اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے ۔ لہذا امریکہ سے نفرت کرنے والوں کو اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

TOPPOPULARRECENT