Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کی اسرائیل ۔ فلسطین پائیدار امن کیلئے ثالثی کی پیشکش

ٹرمپ کی اسرائیل ۔ فلسطین پائیدار امن کیلئے ثالثی کی پیشکش

محمود عباس کی وائیٹ ہاؤس میں میزبانی ایک اعزاز ، فلسطینی معیشت کو مستحکم کرنا اور دولت اسلامیہ کا خاتمہ اہم ذمہ داریاں
واشنگٹن ۔ 4 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام): امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلسطین اور اسرائیل کے مابین پائیدار امن کے قیام کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے ۔ یاد رہے کہ اس وقت صدر فلسطین محمود عباس وائیٹ ہاوس میں صدر ٹرمپ کے مہمان ہیں ۔ اپنی پہلی ملاقات کے دوران ٹرمپ اور عباس نے مشرقی وسطیٰ کی امن پیشرفت کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے امریکہ اور فلسطین کے تعلقات کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی بات چیت کی ۔ وائیٹ ہاوس سے جاری ایک بیان میں یہ بات کہی گئی جس کے مطابق دونوں قائدین نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہونے کا اعادہ کیا ۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شخصی طور پر بھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن قائم ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہیں تو اس کے باوجود بھی کامیابی کا سہرہ ہمارے سر نہیں بلکہ اسرائیل اور فلسطین کے سر بندھنا چاہئے کیوں کہ قیام امن صرف اور صرف دونوں ممالک کے درمیان راست بات چیت کے بعد ہی قائم ہوسکے گا ۔ ٹرمپ نے اس موقع پر محمود عباس کے اس جذبہ کی تعریف کی جہاں انہوں نے ( عباس ) کہا تھا کہ بات چیت کے جو بھی نتائج برآمد ہوں گے وہ اس کو خندہ پیشانی سے قبول کریں گے ۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان قیام امن کے لیے ثالث کے فرائض انجام دینے بھی تیار ہیں کیوں کہ دونوں ممالک راست بات چیت کے ذریعہ ہی اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں ۔

کوئی تیسرا ملک ان پر اپنی کوئی رائے عائد نہیں کرسکتا ۔ دونوں قائدین کے درمیان ایک ایسا موضوع بھی زیر بحث آیا جس کے تحت دونوں نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی کہ دونوں ممالک ایسا سازگار ماحول پیدا کریں جس کے تحت اس بات چیت کو بہ آسانی مکمل کی جاسکے ۔ وائیٹ ہاوس کے بیان کے مطابق دونوں قائدین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے امریکہ اور فلسطینی حکام کو مشترکہ طور پر سامنے آنا چاہئے ۔ فلسطینی سیکوریٹی فورسیس کی تشکیل کے لیے بھی دونوں قائدین نے امریکہ ۔ فلسطین کی شراکت داری کی ضرورت پر تفصیلی بات چیت کی ۔ اگر سیکوریٹی فورسیس طاقتور ہوگی تو تشدد اور دہشت گردی کا قلع قمع بہ آسانی کیا جاسکتا ہے جس کے بعد فلسطین میں امن کا بول بالا ہوگا اور اس طرح فلسطینی حکومت کے اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات میں بھی خوشگواری کا عنصر شامل ہوگا جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں بھی ہوگا ۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں جانب سے ایسی کوئی حرکت نہیں ہونی چاہئے جو ایکدوسرے کو تشدد پر ابھارے ۔ اشتعال انگیزی کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا اور اس کی وجہ سے دہشت گردی کا صفایا کیا جاسکتا ہے ۔ وائیٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والے فلسطینی شہریوں جو اس وقت اسرائیلی جیلوں میں ہیں اور ان کے رشتہ داروں کے لیے رقومات کی ادائیگی کے سلسلہ میں تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس تنازعہ کی جلد سے جلد یکسوئی ہونی چاہئے ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے محمود عباس کی وائیٹ ہاوس میں میزبانی کو ایک اعزاز قرار دیا اور کہا کہ اس ملاقات کے بعد اب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کوئی نہ کوئی غیر معمولی بات ضرور ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT