Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کی جج کے فیصلے کے خلاف اپیل

ٹرمپ کی جج کے فیصلے کے خلاف اپیل

واشنگٹن ۔ /5 فبرور ی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے محکمہ انصاف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے لوگوں پر سفری پابندی لگانے کے فیصلے کو معطل کرنے والے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔اس اپیل کا مقصد جمعے کو دیے جانے والے فیصلے کو پلٹنا ہے جسے واشنگٹن ریاست کے ایک وفاقی جج نے صادر کیا تھا۔ متاثر ممالک سے تعلق رکھنے والے امریکی ویزا کے حامل افراد امریکہ واپس جانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ انھیں خوف ہے کہ امریکہ میں داخلے کا یہ راستہ ان پر بند نہ ہو جائے۔ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے ایک انتظامی حکم نامے کے تحت سات ملکوں کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی لگا دی تھی جس کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور امریکی ہوائی اڈوں پر افراتفری نظر آئی۔ واشنگٹن، میامی اور امریکہ کے دوسرے شہروں کے علاوہ یورپ کے بعض شہروں میں بھی  ٹرمپ کے اعلان کے بعد مظاہرے ہوئے۔ لندن میں ہزاروں افراد نے ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کیے جبکہ پیرس، برلن، سٹاک ہوم اور بارسیلونا میں بھی مظاہرے ہوئے۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے ان مظاہروں کی مخالفت میں مظاہرے کیے۔ صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد تقریباً 60 ہزار ویزے منسوخ کر دیے گئے تھے لیکن جج جیمز روبارٹ کے عبوری فیصلے کی رو سے فوری طور پر ملک گیر سطح پر اس حکم نامے کو معطل کر دیا ہے۔ گذشتہ روز صدر ٹرمپ نے جج روبارٹ کے فیصلے کو ‘مضحکہ خیز’ قرار دیتے ہوئے پابندی کو لاگو کرنے کا عزم کیا تھا۔ خیال رہے کہ سیئٹل کے ایک جج نے جمعے کو سات مسلم اکثریت والے ممالک کے لوگوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ نے یہ قدم فیڈرل جج کے فیصلے کو پلٹنے کے مقصد سے اٹھایا ہے لیکن اب یہ معاملہ نائنتھ سرکٹ کورٹ آف اپیل کے ہاتھوں میں ہے اور مسٹر ٹرمپ اپنے ٹویٹس یا آرڈر سے اب اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایگزیکٹیو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ عراق، شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے کوئی بھی شخص 90 دنوں تک امریکہ نہیں آ سکے گا۔ اسی حکم کے تحت امریکہ میں پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام کو 120 دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی شامی پناہ گزینوں کے امریکہ آنے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔ لیکن جج کے فیصلے کے بعد امریکی کسٹمز کے حکام نے امریکی فضائی کمپنیوں سے کہا ہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے، وہ پابندی سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کو امریکہ لا سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد بہت سی فضائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان سات ملکوں سے مسافروں کو امریکہ لے جانے کے لیے پروازیں شروع کر دی ہیں۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ اگر اس فیصلے کے خلاف ہنگامی حکمِ امتناعی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ سلسلہ پھر رک سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT