Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کی نئی افغان اور جنوب ایشیاء پالیسی کا آج اعلان

ٹرمپ کی نئی افغان اور جنوب ایشیاء پالیسی کا آج اعلان

افغانستان میں 16 سالہ انتہائی مہنگی اور ہلاکت خیز امریکی جنگ کے خاتمہ کیلئے ہندوستان کو اہم رول دینے کی توقع

l سابق صدر اوباما نے اندرون 100 دن پالیسی کا
اعلان کیا تھا
l ٹرمپ انتظامیہ نے آٹھ ماہ لگادیئے

واشنگٹن ۔ 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ آج افغانستان پر نئی امریکی پالیسی کا اعلان کریں گے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس مہنگے اور مہلک تصادم کو جلد ختم کرنے کی کوششوں میں ٹرمپ انتظامیہ ہندوستان کو اہم رول دے سکتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے امریکہ میں پیر کو 9 بجے شب (ہندوستان میں منگل کو صبح 7:30 بجے) پہلی مرتبہ قوم سے خطاب کریں گے جس میں امریکہ کی نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔ افغانستان میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف 16 سال سے جاری امریکہ کے خاتمہ کیلئے ٹرمپ نے اپنے انتظامیہ سے سرگرم مشاورت کے بعد نئی پالیسی تیار کی ہے۔ وہائیٹ ہاؤز کی پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے کہا کہ ’’جنوبی ایشیاء اور افغانستان میں امریکی اقدامات کے بارے میں صدر (ٹرمپ) اہم امور اور نکات کا تفصیلی تذکرہ کریں گے‘‘۔ ڈونالڈ ٹرمپ آرلنگٹن، ورجینیا میں واقع فورٹ مائرملٹری بیس سے امریکی فوج سے خطاب کریں گے جس سے وزیردفاع جم میاٹس کی اس توثیق کو تقویت مل رہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کافی تگ ودو اور طویل مباحثہ کے بعد افغانستان پر اپنی نئی پالیسی کا بالآخر اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہیکہ افغانستان پر امریکہ کی نئی پالیسی کا حالانکہ عرصہ دراز سے انتظار کیا جارہا تھا لیکن یہ توقعات بھی تھیں کہ صدر ٹرمپ کے اقتدار حاصل کرنے کے اندرون کچھ ماہ اس پالیسی کا اعلان ہوگا تاہم آٹھ ماہ کا طویل عرصہ گذرنے کے بعد اب یہ اعلان کیا جائے گا جبکہ ٹرمپ کے پیشرو سابق صدر بارک اوباما نے وائیٹ ہاؤس منتقل ہونے کے اندرون 100 دن افغانستان پر امریکہ کی اس وقت کی نئی پالیسی کا اعلان کردیا تھا۔ دلچسپی کی بات یہ ہیکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغانستان پر امریکہ کی نئی پالیسی کے اعلان میں تاخیر سے بوکھلاکر سینیٹر جان میک کین نے خود اپنی شخصی حکمت عملی کا 10 اگست کو اعلان کردیا تھا جس میں انہوں نے (جیسا کہ توقع کی جارہی تھی) پاکستان کو انتباہ دیا تھا کہ اگر اس نے دہشت گرد گروپس کی تائید اور تعاون کا سلسلہ مسدود نہیں کیا تو اس پر (پاکستان) مرحلہ وار مصارف مسلط کئے جائیں گے۔ اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے میک کین نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں ہار رہا ہے، طاقتور سینیٹ آرمڈ سرویس کمیٹی کے صدرنشین میک کین نے جنگ زدہ افغانستان میں امریکی افواج کی قابل لحاظ تعداد کی موجودگی کی بھی وکالت کی تھی۔ 18 اگست کو ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں قومی سلامتی کے عہدیداروں سے تبادلہ خیال کیا تھا جہاں ان کا موضوع افغانستان تھا جبکہ ہفتہ کو ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں ہوئی بات چیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے باصلاحیت جنرلس اور قومی قائدین سے بات چیت کے بعد کئی اہم فیصلے کئے گئے جن میں افغانستان پر امریکہ کی نئی پالیسی کا فیصلہ بھی شامل ہے۔
جم میاٹس نے کل کہا تھا کہ امریکہ کی نئی افغان پالیسی صرف افغانستان کا ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کا احاطہ کرتی ہے۔ اوباما کی پالیسی جہاں افغانستان اور پاکستان پر مرکوز تھی وہیں ٹرمپ انتظامیہ اپنی پالیسی میں ہندوستان سے بھی ایک اہم رول ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ کچھ ماہ قبل پنٹگان نے افغانستان میں مزید 3800 امریکی فوج بھیجنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ وہاں موجود افغانی فوج کو مستحکم کیا جاسکے کیونکہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق افغان فوج اب بھی طالبان کی شورش پسندی سے نمٹنے میں ناکام ہورہی ہے۔ یاد رہیکہ 9/11 حملوں کے بعد امریکہ نے طالبان اور القاعدہ کے قلع قمع کیلئے افغانستان پر فوج کشی کی تھی اور اس طرح اب یہ جنگ امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے جبکہ طالبان نے جاریہ سال موسم گرما میں افغانستان کی مغرب کی پشت پناہی والی حکومت کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT