Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / ٹرمپ کے ترمیم شدہ امتناعی حکم نامہ کی مذمت

ٹرمپ کے ترمیم شدہ امتناعی حکم نامہ کی مذمت

۔130سے زیادہ ماہرین خارجہ پالیسی کا بیان ‘ مکتوب کی نقول تمام اہم وزراء کو روانہ
واشنگٹن ۔ 12مارچ ( سیاست ڈاٹ کام)  130سے زیادہ خارجہ پالیسی کے ماہرین نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ترمیم شدہ سفری امتناع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی سلامتی اور مفادات درحقیقت مسلم غالب آبادی والے ممالک کے شہریوں پر امریکہ کے سفر پر اور پناہ گزینوں کی آمد پر امتناع کی وجہ سے خطرہ میں پڑگیا ہے ۔ مسلمانوں کیلئے جن میں یہ متاثرین بھی شامل ہیں جن پر دولت اسلامیہ کے خلاف جدوجہد کا الزام عائد کیا جاتا ہے ۔ ماہرین نے کہا کہ اس امتناع سے امریکہ کا یہ دعویٰ ثابت ہوجائے گا کہ وہ اسلام کے ساتھ جنگ کررہا ہے ۔ سابق سرکاری عہدیداروں اور ماہرین خارجہ پالیسی نے اپنے مکتوب میں تحریر کیا ہے کہ وہ مسلم پناہ گزینوں اور سیاحوں کا خیرمقدم کرتے تھے لیکن اس کے برعکس دہشت گردوں اور اُن کے غلط نظریہ کو بے نقاب بھی کرتے تھے ۔ 134 دستخط اس مکتوب پر موجود ہیں ۔ یہ تمام افراد جن میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک انتظامیہ میں برسرکار رہنے والے افراد شامل ہیں ۔ سابق سینئر سفارت کار نکولس برنس‘ سابق قومی سلامتی مشیر ‘ انسداد دہشت گردی کے ڈائرکٹر رچرڈ کلاک اور سابق انڈرسکریٹری دفاع مشل فلورنوائے نے دستخط کئے ہیں ۔ بیشتر افراد ڈیموکریٹک صدور کے دور میں سرکاری ملازم تھے ۔ ان میں سابق وزیر خارجہ مڈلن البرائٹ ‘ سابق وزیر داخلی سلامتی جینٹ نیپولی ٹانو ‘ سابق قومی سلامتی مشیر سوسن رائس اور سابق قومی انسداد دہشت گردی ڈائرکٹر میتھواولسن بھی شامل ہیں ۔ اُن کے تبصرے امریکی عدالت کے اجلاس پر بھی پیش کئے جاچکے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ترمیم شدہ اقدامات مسلمانوں سے تعصب برتتے ہیں اور ملک کے مفادات کے خلاف ہیں ۔ اس طرح کے امتناع کا حکم امریکی قومی سلامتی کیلئے مضر ہے اور امریکہ کے وقار کے خلاف ہے ۔ امتناعی حکم نامہ سے ملک کی عالمی قیادت کا دعویٰ متاثر ہوتا ہے اور قومی صیانتی مفادات خطرہ میں پڑ جاتے ہیں ۔ ملک کا استحکام اور حلیف ممالک کا استحکام داؤ پر لگ جاتا ہے جو وسیع پناہ گزینوں کی وسیع تعداد کے میزبان بنے ہوئے ہیں ۔ یہ مکتوب ٹرمپ کے وزیر خارجہ ریکس فلرسن ‘ وزیر دفاع جیمس مٹیز ‘ اٹارنی جنرل جیف سیشنس ‘ وزیر داخلی سلامتی جان کیلی اور کارگذار ڈائرکٹر محکمہ خفیہ مشل ڈیمپسی کو بھی روانہ کیا گیا ہے ۔

وائٹ ہاؤس کے دراندازکو 10 سال سزا
واشنگٹن، 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )  وائٹ ہاؤس’ کے میدانی احاطے میں نقب لگا کر دراندازی کرنے والے شخص کو امریکہ کی ایک عدالت نے 10 سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ امریکہ کے محکمہ خفیہکے ملازمین نے پیٹھ پر بیگ لادے ہوئے اس درانداز کو وائٹ ہاؤس کے دروازے کے قریب ہی گرفتار کر لیا تھا۔ دراندازی کرنے والے شخص کی شناخت 26 سالہ کیلی فورنیا کے متوطن جناتھن ٹران کے طور پر کی گئی ہے ۔ اس واقعہ کے وقت صدر ڈونالڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ہی موجود تھے ۔ تاہم اس واقعہ سے صدر امریکہ کیحفاظت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔دراندازی کرنے والے شخص کو فی الفور گرفتار کرنے پر ڈونالڈ ٹرمپ نے انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کی تعریف کی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT