Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر وائیٹ ہاؤس ٹیم کے سینئر مشیر

ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر وائیٹ ہاؤس ٹیم کے سینئر مشیر

کوشنر کوئی تنخواہ یا معاوضہ نہیں لیں گے، تقرری کو مخالف اقربا پروری قانون کے تحت چیلنج کا اندیشہ
واشنگٹن ۔ 10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام)  امریکی نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج اپنے داماد جارڈ کوشنر کو اپنا سینئر مشیر مقرر کیا ہے اور اس طرح وائیٹ ہاؤس میں اب جو ٹیم کام کرنے والی ہے، کوشنر اس ٹیم کے سب سے زیادہ بااختیار رکن بن جائیں گے۔ بہرحال اب یہ بھی کہا جارہا ہیکہ ٹرمپ کے ذریعہ اٹھائے گئے اس قدم کو ملک کے 50 سالہ قدیم مخالف اقربا پروری قانون کے تحت چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ جس وقت ملک میں صدارتی انتخابات کی گرماگرم مہمات چلائی جارہی تھیں، اس وقت اپنی متعدد ریالیوں میں ٹرمپ نے بغیر کسی پس و پیش کے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی انتخابی مہمات میں اگر کسی نے سب سے زیادہ اہم رول ادا کیا ہے تو وہ ان کے داماد کوشنر ہیں جو ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے شوہر ہیں۔ اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ کوشنر پارٹی کا اثاثہ ہیں اور انتخابی مہمات کے دوران ایک بااعتماد مشیر کا رول ادا کرچکے ہیں۔ لہٰذا مجھے اس بات پر فخر ہوگا کہ کوشنر جیسا قابل شخص ان کی حکومت کا حصہ ہوگا۔ کوشنر نہ صرف ایک کامیاب تاجر ہیں بلکہ اب ایک کامیاب سیاستداں کے طور پر بھی بام عروج پر ہیں۔

ٹرمپ ٹیم کے وہ ایک قابل قدر رکن ہوں گے۔ انہوں نے جو ایجنڈہ تیار کیا ہے اس میں امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ کوشنر کو بحیثیت ایک تاجر اور رئیل اسٹیٹ ڈیولپر، امریکہ کے علاوہ پوری دنیا میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے نومبر میں ٹرمپ کی فتح کیلئے ایک اہم رول ادا کیا تھا اور ایسی حکمت عملی تیار کی تھی جس سے ٹرمپ کی کامیابی یقینی ہوگئی تھی حالانکہ آخری لمحات تک لوگوں کو ہلاری کلنٹن کی کامیابی کا پورا پورا یقین تھا لیکن آخری میں جو پانسہ پلٹا ہے اس کے پس پشت کوشنر ہی کارفرما تھے۔ دریں اثناء صدارتی ٹرانزیشنل ٹیم کے ایک بیان کے مطابق کوشنر وائیٹ ہاؤس میں اپنی خدمات کے عوض کوئی تنخواہ یا معاوضہ نہیں لیں گے۔ دوسری طرف وائیٹ ہاؤس میں مستقبل کے چیف آف اسٹاف رینس پرائبس نے بھی کوشنر کی ستائش کرتے ہوئے انہیں ایک ’’بصیرت کا حامل اور قابل‘‘ شخص سے تعبیر کیا اور کہا کہ تاجر ہونے کی حیثیت سے ان کی طرزفکر وائیٹ ہاؤس ٹیم کیلئے زبردست فائدہ مند ثابت ہوگی۔ وہ ایک دوراندیش اور ذہین انسان ہیں۔

ٹرمپ کی ٹرانزیشن ٹیم کا یہ بھی کہنا ہیکہ کوشنر کے وائیٹ ہاؤس میں خدمات انجام دینے میں کوئی قانونی پیچیدگیاں نہیں ہیں کیونکہ 1967ء میں مخالف اقرباء پروری قانون سازی کا اطلاق ملک کے صدر کے اسٹاف پر نہیں ہوتا۔ دریں اثناء خود کوشنر نے کہا کہ ملک کی خدمت کرنا ان کیلئے ایک اعزاز ہے۔ نومنتخبہ صدر اور امریکی عوام نے مجھ پر جس اعتماد کا مظاہرہ کیا اس سے مجھے ایک نئی توانائی ملی ہے اور میں انتہائی انکساری کے ساتھ ٹرمپ کی قابل ٹیم  کے ساتھ کام کرنے تیار ہوں ۔ کوشنر کی تقرری کے بعد داخلہ اور خارجہ پالیسی سازی میں ان کا درجہ بلند ہوجائے گا۔ خصوصی طور پر مشرق وسطیٰ اور تجارتی معاملات میں ان کا قابل لحاظ عمل دخل ہوگا۔ سبکدوش ہونے والی اوباما انتظامیہ نے بھی کل ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ٹیم منتخب کرنے کا نومنتخبہ صدر کو پورا پورا اختیار ہے البتہ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے کوشنر پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وائیٹ ہاؤس میں وہ صرف ایسی ہی پالیسیوں کی حمایت کریں گے جن سے ان کا (کوشنر) تجارتی مفاد وابستہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT