Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کے سفری امتناع سے بعض رشتے داروں کو راحت

ٹرمپ کے سفری امتناع سے بعض رشتے داروں کو راحت

دادا ، دادی، نانا ، نانی ، پوتا، پوتی، نواسہ اور نواسی پر امتناع لاگو نہیں

واشنگٹن ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کو تازہ جھٹکہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا متنازعہ سفری امتناع دادا، دادی، نانا، نانی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی اور دیگر قریبی رشتہ داروں پر جو امریکہ میں ساکن افراد کے ہوں، فی الحال لاگو نہیں ہوتا۔ عدالت نے کل ہوائی کے وفاقی جج کے فیصلہ کو جو گذشتہ ہفتہ دیا گیا ہے، تسلیم کرلیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے قریبی خاندانی رشتہ داروں کی بہت محدود تعریف کا تعین کیا ہے جسے 6 مسلم غالب آبادی والے ممالک ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن پر لاگو کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے جج ڈیریک واٹسن وسیع تر تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ دادا، دادی، نانا، نانی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی، بھانجہ، بھانجی، بھتیجہ، بھتیجی اور امریکہ میں مقیم افراد کے چچازاد اور تایازاد بھائی بہن پر یہ امتناع عائد نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اپنے مختصر حکمنامہ میں عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ واٹسن کے فیصلہ کا ایک جز امتناع کی توسیع کا طالب ہے اور تمام پناہ گزینوں پر 120 دن کے امتناع کو تسلیم کرتا ہے۔ حکمنامہ میں کہا گیا ہیکہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ عارضی ہے اس کے خلاف مسئلہ پر نظرثانی کرنے کیلئے وفاقی عدالت مرافعہ میں اپیل کی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے قبل ازیں تنازعہ کو جزوی قرار دیتے ہوئے جون کے اواخر میں 90 دن کے امتناع کی تائید کی تھی جس کا مقصد امکانی صیانتی خطرات کی بہتر اسکریننگ تھا تاکہ ان سے بچا جاسکے کیونکہ امریکہ میں ساکن کسی بھی شخص کے ساتھ رشتہ داری ثابت کرنے کو ضروری قرار نہیں دیا گیا ہے۔ چند دن بعد حکومت نے تاویل کرتے ہوئے کہاکہ اس کا مقصد قریبی خاندانی رشتہ داروں کو استثنیٰ دینا تھا جو اس کی تعریف کے بموجب والدین، شریک زندگی، بچے، داماد اور بہوئیں تھیں۔ چھوٹے بھائی بہن، سوتیلے بھائی بہن جو امریکہ میں مقیم افراد کے ہوں، استثنیٰ کے مستحق تھے۔ ہوائی ان کئی ممالک میں سے ایک ہے، جو امتناع کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ جنوری میں ڈونالڈ ٹرمپ نے جب امتناع کا اعلان کیا تھا تو ایک عدالت میں تحریر پیش کرتے ہوئے دلیل دی گئی تھی کہ دادا، دادی، نانا، نانی، پوتہ، پوتی، نواسہ اور نواسی قریبی خاندانی رشتہ دار ہیں۔ واٹسن نے اس دلیل کو قبل کرلیا تھا۔ محکمہ انصاف نے اس مسئلہ پر سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی اور عدالت سے خواہش کی تھی کہ اس کی اپنی تعریف حقیقی رشتہ داروں اور قریبی خاندانوں کی رشتہ داروں کے بارے میں مقرر کی جائے۔ کل کے اپنے حکمنامہ میں ہائیکورٹ نے اس سے انکار کردیا تھا۔ واٹسن نے حکم دیا ہیکہ انتظامیہ 120 دن کا استثنیٰ تمام پناہ گزینوں پر لاگو کرے اور کوئی بھی پناہ گزین جو پہلے ہی سے امریکہ میں بازآباد کاری کیلئے درخواست دے چکا ہو مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

 

ٹرمپ کا اسد مخالف باغیوں کو اسلحہ نہ دینے کا فیصلہ
واشنگٹن، 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ٹرمپ انتظامیہ نے شامی صدر بشار لاسد کی حکومت سے لڑنے والی بعض باغی تنظیموں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے کے خفیہ پروگرام کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ بات دو امریکی افسران نے بتائی ہے ۔اسد کا اتحادی روس بھی یہی چاہتاہے ۔ایک افسر نے بتایا کہ امریکہ کے اس فیصلہ کا مقصدروس کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرناہے جو چھ سالہ خانہ جنگی کے دوران ایران حامی گروپوں کے ساتھ کافی حد تک اسد کی حکومت کو بچانے میں کامیاب رہا ہے ۔سی آئی اے کا یہ پروگرام 2013 میں شروع ہوا تھا جس کے ذریعہ اس وقت کے صدر بارک اوباما اسد کا تختہ پلٹنا چاہتے تھے مگر اس میں انہیں کامیابی نہیں ملی۔ دونوں افسران پروگرام سے واقف تھے اور انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کی ہے ۔

 

جیف سیشنس کو اٹارنی بنانے کا فیصلہ غلط تھا : ٹرمپ
واشنگٹن، 20 جولائی، (سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر انہیں پتہ ہوتا کہ جیف سیشنس روسی معاملے میں جانچ کرنے کے لئے قانونی طور پر نااہل ہوں گے تو وہ انہیں کبھی بھی اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز نہیں کرتے ۔نیو یارک ٹائمز نے ٹرمپ کے حوالے سے کہاکہ، ”آپ کیسے ایک ملازمت حاصل کرتے ہیں اور پھر خود قانونی طور پر نااہل رہتے ہیں۔ اگر کام سے پہلے ان کے نااہل ہونے کے بارے میں پتہ چلتا تو میں کہتا، شکریہ جیف لیکن میں آپ کو یہ کام نہیں دے ہا ہوں.یہ مکمل طور پر غیر مناسب ہے ۔جیف نے سینیٹ عدالتی کمیٹی کو بتایا تھا کہ 2016 میں صدارتی انتخابات کے دوران انہوں نے کسی بھی روسی افسر سے ملاقات نہیں کی تھی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا تھا کہ انہوں نے روسی سفیر سرجئی کسلک سے دو بار ملاقات کی تھی۔ اس پر ٹرمپ نے جیف کی سرزنش بھی کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT