Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کے سفری امتناع کو بحال کرنے سے امریکی عدالت مرافعہ کا انکار

ٹرمپ کے سفری امتناع کو بحال کرنے سے امریکی عدالت مرافعہ کا انکار

سان فرانسسکو 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی عدالت مرافعہ نے متفقہ طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کے پناہ گزینوں اور 7 مسلم غالب آبادی والے ممالک کے شہریوں کی امریکہ میں آمد پر امتناع کو بحال کرنے سے انکار کردیا۔ صدر امریکہ نے ایک ریاستی عدالت کے جج کے فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے اِسے ’’سیاسی فیصلہ‘‘ قرار دیا تھا۔ مرکزی عدالت مرافعہ سان فرانسسکو کی 3 رکنی بنچ کے فیصلہ کو ٹرمپ انتظامیہ کے لئے ایک کاری ضرب سمجھا جارہا ہے۔ انتظامیہ کی دلیل تھی کہ صدارتی حکمنامہ بنیاد پرست اسلامی دہشت گردوں کی امریکہ میں آمد کے انسداد کے لئے ایک بڑا اقدام ہے۔ ٹرمپ نے عدالت کے حکمنامہ پر اپنے ٹوئٹر پر فوری ردعمل ظاہر کیا۔ اُنھوں نے تحریر کیاکہ ’’آپ کو عدالت میں دیکھوں گا۔ ہمارے ملک کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے‘‘۔ اُن کے اِس تبصرہ سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ نویں عدالت مرافعہ کے فیصلہ سے کتنے مایوس ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے قبل ازیں عدالت سے رجوع ہوکر درخواست کی تھی کہ امتناعی احکام کو بحال کردیا جائے جبکہ مرکزی عدالت واقع سیاٹل نے قبل ازیں حکومت امریکہ کی اپیل کو مسترد کردیا تھا۔ سان فرانسسکو کی عدالت نے اِس مقدمہ کی جاریہ ہفتہ کے اوائل میں زبانی سماعت کی۔ بنچ ولیم سی کینبی جونیر، رچرڈ آر کلفٹن اور مشلٹی فریڈ لینڈ پر مشتمل تھی۔ تینوں ججس نے اپنے متفقہ حکمنامے میں کہاکہ ہم حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں کہ اُس نے اِس اپیل کی کامیابی کے لئے کوئی وجوہات بیان نہیں کئے ہیں اور نہ اِس نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر یہ حکمنامہ ناکام ہوجائے اور جن ممالک کے شہریوں پر امتناع عائد کیا گیا ہے وہ امریکہ میں داخل ہوکر یہاں مقیم ہوجائیں تو اِس سے امریکہ کو ناقابل تلافی نقصان کیسے پہونچے گا۔ اِس لئے ہم حکم التواء کو منسوخ کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ اُنھوں نے اپنے فیصلہ میں کہاکہ موجودہ ثبوت جن کی وضاحت کی ضرورت ہے کہ صدارتی حکمنامہ کیوں جاری کیا گیا، حکومت کا یہ موقف ہے کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظرثانی نہیں کرنا چاہتی۔ حکومت کے اِس موقف سے ہم اختلاف کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ حالانکہ عدالتوں کو قابل لحاظ دفاع حاصل ہے اور وہ صدر کے پالیسی فیصلوں کو جو ترک وطن اور قومی سلامتی کے بارے میں ہے، مسترد کرسکتی ہے لیکن یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مرکزی عدلیہ اپنے اختیارات کا دستوری چیلنجوں کے دائرہ کار میں ہی استعمال کرتی ہے۔ اخباری نمائندوں سے فیصلے کے بعد مختصر تبادلہ خیال میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اِس فیصلہ کو سیاسی فیصلہ قرار دیا۔

ٹرمپ کے سیاسی حریفوں اور انسانی حقوق کارکنوں نے عدالت کے فیصلہ پر جشن منایا۔ ہندوستانی نژاد امریکی خاتون رکن کانگریس پامیلا جئے پال جو ایک نامور ڈیموکریٹک رکن امریکی کانگریس ہے جو ٹرمپ کے صدارتی حکمنامے کی کھل کر مخالفت کررہی تھیں، کہاکہ آخرکار دستور کامیاب ہوا۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ ایک جمہوریت کی زبردست فتح ہے۔ ہمارے ملک میں اور دنیا بھر میں جو خاندان سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں، متفقہ طور پر صدر امریکہ کے نظریہ کو مسترد کرچکے ہیں کہ صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ وہ ملک کی سلامتی کو لاحق خطرے کا انسداد کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ امریکہ کا مقام پناہ گاہ کے طور پر دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ عدالت کے فیصلہ کے لحاظ سے میں صدر امریکہ پر زور دیتی ہوں کہ صدارتی حکمنامہ کی ناکامی کے پیش نظر وہ اِسے منسوخ کردیں اور امریکی عوام کو درد اور غیر ضروری اخراجات سے چھٹکارہ دے دیں جو اِس قانونی جنگ کو مزید جاری رکھنے کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ نفرت اور وہم صدر امریکہ کو بھی نہیں ہونا چاہئے۔ اُنھیں امریکی عوام کا زیادہ خیال ہونا چاہئے۔ اُنھیں نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے اور اپنے صدارتی حکمنامہ کو جو غیر دستوری ہے، منسوخ کردینا چاہئے۔ ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے وہپ اسٹینی ایچ ہائیر نے کہاکہ امریکہ کا عدالتی نظام پورے استحکام کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے غیر دستوری مسلمانوں پر امتناع پر اُس کی سرزنش کرچکا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تینوں ججس کا متفقہ فیصلہ جو نویں عدالت مرافعہ سان فرانسسکو سے تعلق رکھتے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کی سرزنش کے مترادف ہے۔ تینوں ججس نے متفقہ طور پر ٹرمپ کے امتناعی صدارتی حکمنامہ کو بحال کرنے سے انکار کردیا ہے۔ امریکی اسلامی روابط کی کونسل نے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT