Wednesday , September 20 2017
Home / اداریہ / ٹرمپ کے نام طالبان کا کھلا خط

ٹرمپ کے نام طالبان کا کھلا خط

افغانستان میں جنگ ہارنے کا اعتراف کرنے والے صدرا مریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے نام اپنے کھلے مکتوب میں طالبان نے منگل کے دن وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اپنی ہاری ہوئی جنگ کو جاری رکھنے کی نیت سے افغانستان میں مزید امریکی فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے سابق کی طرح پھر تلخ تجربات اور نقصانات سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ افغانستان کو زیادہ سے زیادہ فوج روانہ کرنے کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا بلکہ اس سے امریکی فوج اور اس کی طاقت کی تباہی یقینی ہوگی ۔ افغانستان میں جنگ کی صورتحال بھیانک ہے ۔ امریکہ اپنی پوری فوجی طاقت جھونک کر بھی ناکام ہے اس لیے وائٹ ہاوز میں امریکی صدر پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے کہ ناکام جنگ پر کھربوں ڈالر خرچ کر کے امریکی معیشت پر بوجھ ڈالا جارہا ہے ۔ ٹرمپ نظم و نسق نے اپنی علاقائی حکمت عملی کو وضع کیا ہے تو اس میں وہی غلطی دہرائی جارہی ہے جو ٹرمپ کے پیشرو صدور نے دہرائی تھی ۔ سابق صدر نے افغانستان میں زیادہ سے زیادہ فوج روانہ کر کے بھی اس ملک میں امن و سلامتی کی فضا کو قائم نہیں کیا ۔ امریکی زیر قیادت فوجی کاروائی کا 2001 سے آغاز ہوا مگر ان تمام برسوں میں جنگ کی صورتحال حقائق سے زیادہ تباہ کن ہے ۔ امریکی فوج نے صرف بڑے شہروں میں انسانی جانوں کو تباہ کردیا ہے ۔ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے بیان میں افغانستان میں تعینات امریکی جنرل جان نیکلسن کی کارکردگی پر ناراضگی ظاہر کی تھی جس کے بعد امریکی حکومت میں طاقتور آواز سمجھے جانے والے ری پبلکن سینیٹر جان میکن کے بشمول کئی سینیٹرس نے افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کو ختم کرنے پر زور دیا ۔ سمجھا تو یہی جارہا ہے کہ امریکہ کو اب افغانستان سے اپنی فوج کا تخلیہ کرلیا جانا چاہئے ۔ ٹرمپ بھی سابق صدور کی طرح غلطیاں کرتے ہوئے مزید 5 ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کرنے والے ہیں ۔ امریکی سیاسی و سفارتی گوشوں میں افغانستان کی صورتحال اور امریکہ کی ناکام کوششوں کے بارے میں کافی تشویش رکھتے ہیں ۔ امریکی فوج کی مزید تعیناتی سے بنیادی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ جب کامیابی کے امکانات معدوم ہوں تو امریکہ کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانا ہوگا ۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں دنیا بھر میں امریکی برتری قائم رکھنے کے نعرے لگا کر وائٹ ہاوز تک پہونچے ہیں ۔ مگر جب افغانستان کی صورتحال کا مشاہدہ کیا تو افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کا احساس ہوا سچ تو یہ ہے کہ اس تلخ احساس کے باوجود وہ امریکہ کی برتری کے لیے فوجی اخراجات میں 54 بلین ڈالر کے اضافہ کا اعلان کیا ۔ صدر ٹرمپ کو یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ امریکی فوج کی حالت کافی نازک و خستہ ہے اور اس کو زیادہ طاقتور بنانے کے لیے فنڈس کا خرچ کرنا لازمی ہے ۔ امریکہ صرف ان ملکوں میں اپنی فوجی برتری چاہتا ہے جہاں جنگیوں نے تباہ کن نقوش چھوڑے ہیں ۔ ملکوں کو کمزور کر کے وہاں اپنی فوجی برتری کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مگر امریکہ کو افغانستان میں فوجی برتری حاصل کرنے کی کوشش تصور سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہوسکے گی ۔ طالبان کے خاتمہ کی ہر کوشش کے باوجود امریکی فوج اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ طالبان کو شکست نہیں دیا جاسکتا ۔ لہذا جنگ زدہ ملک میں مسائل کا حل بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے ۔ لیکن اتنی طویل جنگ کے بعد طالبان بات چیت کی میز پر نہیں آئیں گے ۔ اب بات چیت کا وقت نکل گیا ہے تو اب امریکہ کو مزید فوج بھیج کر غیر ضروری مسائل پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ افغانستان میں امریکی فوج میں اصافہ سے ملک کے اندر بدامنی کی کیفیت مزید ابتر ہوگی اور امریکی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوگا ۔ ایسے میں امریکی برتری اور طاقت کا نشہ ٹرمپ کے لیے مہنگا ثابت ہوگا ۔ جب جنگ کے اخراجات میں اضافہ ہوگا تو اندرون امریکہ ٹرمپ نظم و نسق کو تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT