Monday , April 24 2017
Home / اداریہ / ٹرمپ ‘گن کلچرختم کرنے توجہ دیں

ٹرمپ ‘گن کلچرختم کرنے توجہ دیں

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا
دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا
ٹرمپ ‘گن کلچرختم کرنے توجہ دیں
امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ وہاں دوسرے ممالک کے باشندوں اور خاص طور پر ہندوستانیوں کو نفرت پر مبنی جرائم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہیں نہ صرف امریکہ چھوڑ دینے کیلئے کہا جا رہا ہے بلکہ ان پر ہلاکت خیز آور جان لیوا حملے کئے جا رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے تین افراد ان حملوں میں اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ حملہ آور مقامی افراد ہیں اور وہ اعلامیہ طور پر تارکین وطن کو امریکہ چھوڑ دینے کیلئے کہہ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران سے شروع ہوئی تھی جو ان کی صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ ٹرمپ بھی اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلم ممالک پر سفری امتناع عائد کرنے میں ہی مصروف ہیں حالانکہ انہیں دو مرتبہ عدالت کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے اور عدالت نے ان کے احکام پر حکم التوا بھی جاری کیا تھا اس کے باوجود ٹرمپ اپنی اس ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ مسلم ممالک کے مسافرین پر سفری امتناع عائد کرنا ہی چاہتے ہیں۔ انہوںنے گذشتہ دنوں کچھ تحدیدات بھی عائد کی ہیں جن کے ذریعہ اب ان ممالک کے مسافرین پر الیکٹرانک آلات اپنے ساتھ رکھتے ہوئے سفر کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ ایک طرف ٹرمپ مسلم ممالک اور ان سے تعلق رکھنے والے مسافرین کو نشانہ بنانے اور ان پر تحدیدات عائد کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف امریکہ میںگن کلچر کا فروغ ہوتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ اوباما کے دور حکومت میں بھی امریکہ میں بندوق برداروں کی فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے اور ان کی مذمت بھی ہوئی تھی لیکن ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں ہے ۔ یہاں ہنوز ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جہاں بندوق بردار بے گناہ افراد کو بندوق کی گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کی زندگیاں تلف کی جا رہی ہیں۔ یہ حملہ آور کسی مسلم ملک سے تعلق رکھنے والے مسلمان نہیں ہیں بلکہ خود امریکہ سے تعلق رکھنے والے عیسائی باشندے ہیں۔ ٹرمپ کو اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور انہیں امریکہ میں گن کلچر کو ختم کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پہلے امریکہ میں حالات کو سدھارا جانا چاہئے ۔
امریکہ میں ایک ایسا معاشرہ فروغ پا رہا ہے جہاں دوسروں کو برداشت کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے ۔ وہاں مقامی اور غیر مقامی ‘ گورے اور کالے کے مابین نفاق کو ہوا دیدی گئی ہے ۔ وہاں تارکین وطن کے تعلق سے نفرت پیدا کردی گئی ہے ۔ معاشرہ میں نفرت انگیز جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ امریکی عوام پہلے انتہائی دوستانہ جذبات والے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے والے ہوا کرتے تھے لیکن حالیہ عرصہ میں ان کے مزاج میں واضح تبدیلی دکھائی دے رہی ہے اور یہ تبدیلی خاص طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران سے شروع ہوئی تھی ۔ اب اس میں مزید شدت آتی جا رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو اور دو دن قبل ہی آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک ماں اور اس کے کمسن بیٹے کو قتل کردیا گیا ۔ تلنگانہ کے نوجوان کو ہلاک کرنے والے مقامی فرد نے تو اسے امریکہ چھوڑ دینے کا مشورہ دینے کے بعد گولی ماردی تھی ۔ یہ ایسے واقعات ہیں جن سے امریکہ معاشرہ کی حقیقی صورتحال دنیا کے سامنے آ رہی ہے ۔ دوسرے ممالک اور خاص طور پر مسلمان ممالک اور عالم اسلام کو نشانہ بنانے کا منصوبے رکھنے والے ڈونالڈ ٹرمپ کو پہلے خود اپنے ملک میں حالات کو بہتر بنانے اور وہاں گن کلچر کو ختم کرتے ہوئے نفرت انگیز جرائم پر قابو پانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ دوسروں کو پابند قانون بنانے سے پہلے خود اپنے آپ کو سدھارنے پر توجہ دی جانی چاہئے ۔ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ امریکہ میںتشدد کے واقعات پیش نہ آئیں۔
آج پیش آئے تازہ ترین واقعہ میں سنسناٹی میں ایک نائیٹ کلب میںفائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص ہلاک اور 13 دوسرے زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ امریکہ میں پیش آنے والے اسی نوعیت کے واقعات کا تسلسل ہے ۔ یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اس واقعہ کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ایسے واقعات امریکی معاشرہ کا حصہ بنتے جارہے ہیں اور ان میں اضافہ بھی ہو رہا ہے ۔ اس طرح کے واقعات دنیا بھر میں اپنی بالا دستی منوانے کیلئے کوشاں امریکہ جیسے ملک میں پیش نہیں آنے چاہئیں اور بحیثیت صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دوسروں کو راہ راست پر لانے کی بجائے خود اپنے ملک اور اپنے معاشرہ کو سدھارنے پر توجہ دیں۔ جب تک وہ امریکہ میں گن کلچر کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوجاتے اور اس طرح کے واقعات کا تدارک نہیں کیا جاتا اس وقت تک انہیں دوسروں کو تلقین کرنے کا کوئی حق نہیں پہونچتا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT