Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹریفک جام پر قابو پانے ہائی ٹیک ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، نومبر سے عمل آوری

ٹریفک جام پر قابو پانے ہائی ٹیک ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، نومبر سے عمل آوری

 

وزیراعظم کے ہاتھوں افتتاح کی منصوبہ بندی
حیدرآباد ۔ 9 ستمبر (سیاست نیوز) شہر میں ٹریفک جام کے مسئلہ کو حل کرنے اور شہریان حیدرآباد کو راحت فراہم کرنے کیلئے انوکھے طریقہ کار کو رائج کیا جارہا ہے۔ ٹریفک جنکشن، سگنلس اور اہم چوراہوں پر اس منفرد ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے گا۔ ٹریفک پولیس حیدرآباد نے انٹلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے تحت ہائی ٹیک ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو حیدرآباد میں رائج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس نئے منفرد سسٹم کے تحت جوکہ امکان ہے نومبر میں عمل میں لایا جائے گا، اس کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور اس بات کے قوی امکانات ہیکہ اس باوقار ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح وزیراعظم کے ہاتھوں عمل میں لایا جائے گا جس کیلئے ریاستی حکومت کو سفارش بھی روانہ کردی گئی ہے۔ اس نئے ٹریفک سسٹم کے تحت اب ایسے چوراہے اور ٹریفک جنکشن پر طویل انتظار کی ضرورت نہیں پڑے گی چونکہ اس ہائی ٹیک سسٹم سے راستے خود بخود اشارہ کررہے ہوں گے۔ اکثر کسی جانب ٹریفک نہ ہونے پر بھی ٹریفک والے راہگیروں کو سگنل کے سبب انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اکثر چوراہوں پر شہریوں کو اس بات کا تجربہ ہوا ہوگا کہ سگنل پر لال بتی ہونے سے وہ ٹھہر جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب ٹریفک نہ ہونے پر بھی ہری بتی لگی رہتی ہے۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔ چوراہے کے جس راستہ پر ٹریفک نہیں ہے اور انتہائی کم ہے اور نہ کے برابر ہے اس جانب آٹومیٹک سسٹم ٹریفک کو روک دے گا اور دوسری جانب والے شہریوں کو ہری بتی کا اشارہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی اجازت دے گا۔ ٹریفک جام کیلئے اسی طریقہ کار کو کافی مفید تصور کیا جارہا ہے جبکہ ٹریفک جام ہر موسم میں اپنے ہر طریقہ کار سے علحدہ وجوہات کا سبب بنتا ہے خاص کر موسم برسات میں سڑکوں اہم راستوں اور چوراہوں پر برساتی پانی جمع ہوجاتا ہے جو ٹریفک بہاؤ میں خلل اور ٹریفک جام کا مسئلہ بنتا ہے۔ ایسے مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جارہا ہے اور اس واٹر ڈیکٹر کو اہم مقامات پر نصب کیا جائے گا جو آٹومیٹک خطرہ کا اعلان کرتے ہوئے الارم بجائے گا۔ اس کے علاوہ انٹلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے تحت صوتی آلودگی ساونڈ پولیوشن سے راحت فراہم کرنے اور اس کے خطرناک مضر اثرات سے شہریوں کو بچانے کیلئے بھی موثر و منفرد اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ 80 تا 100 ڈیزائبل ساونڈ والے آوازوں کی یہ سسٹم نشاندہی کرے گا اور کارروائی بھی ہوگی یہ جدید آلہ 500 میٹر کے فاصلہ کا احاطہ کرے گا۔ ذرائع کے مطابق شہر حیدرآباد میں ایسے 10 ساونڈیننگ ڈیوائز اور 20 وائر لاگنگ ڈیوائز کو باغ عامہ، خیریت آباد، چارمینار، جوبلی ہلز چیک پوسٹ، لمبنی پارک، ماڈل ہاؤز، لعل بنگلو، بشیرباغ و دیگر مقامات پر نصب کیا جائے گا۔

 

TOPPOPULARRECENT