Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور سزائیں

ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور سزائیں

 

=     تیز رفتار ڈرائیونگ         1 تا 4 ہزار روپئے جرمانہ
=     حالت نشہ میں ڈرائیونگ     10 ہزار جرمانہ
=     ٹکر دے کر فرار         2 لاکھ جرمانہ
=     بنا انشورنس ڈرائیونگ     2 ہزار جرمانہ/ 3 ماہ قید
=     بنا ہیلمٹ ڈرائیونگ     2 ہزار جرمانہ /3 ماہ کیلئے
لائسنس معطل
=     کمسن کی ڈرائیونگ     سرپرست ذمہ دار ہوں گے
=     خطرناک حادثہ اور اموات     10 لاکھ روپئے معاوضہ

موٹر وہیکلس ترمیمی بل مجوزہ بجٹ سیشن میں پیش کرنے کی تجویز ، ہر منٹ ایک حادثہ اور ہر چار منٹ میں ایک موت، گڈکری کا اظہار افسوس
نئی دہلی۔9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے مجوزہ بجٹ سیشن میں موٹر وہیکلس (ترمیمی) بل پیش کرنے کی کوشش کرے گی جس میں ٹریفک قواعد کی خلاف ورزیوں پر انتہائی بھاری جرمانے عائد کرنے کی تجویز ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز نتن گڈکری نے کہا کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ سیلکٹ کمیٹی (جے اے سی) سے یہ بل موصول ہوتے ہی اسے پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسے مجوزہ بجٹ سیشن میں ہی پیش کیا جائے گا۔ وہ آج روڈ سیفٹی ویک کے آغاز کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ موٹر وہیکلس (ترمیمی) بل 2016ء میں ٹریفک قواعد کی خلاف ورزیوں پر انتہائی سخت جرمانے عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جن میں حالت نشہ میں ڈرائیونگ پر 10 ہزار روپئے اور ٹکر دے کر فرار ہونے پر 2 لاکھ روپئے معاوضے تک کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس بل میں سڑک حادثے میں بھاری جانی نقصانات کی صورت میں 10 لاکھ روپئے تک معاوضے کی بھی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ تیز رفتار ڈرائیونگ پر 1000 تا 4000 روپئے اور بغیر انشورنس ڈرائیورنگ پر 2000 روپئے جرمانہ اس کے ساتھ ساتھ تین ماہ کی قید کے علاوہ بنا ہیلمٹ ٹو وہیلر چلانے پر 2000 روپئے جرمانے کے علاوہ تین ماہ کی لائسنس کی معطلی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور گنجائش یہ بھی فراہم کی گئی ہے کہ کمسن شخص کی ڈرائیونگ کے نتیجہ میں سڑک حادثے کی صورت میں سرپرست یا مالک کو مجرم قرار دیا جائے گا اور گاڑی کا رجسٹریشن منسوخ کردیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن 31 جنوری سے شروع ہونے کا امکان ہے۔ آج روڈ سیفٹی ویک کے موقع پر انڈیا گیٹ کے قریب پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں گڈکری کے علاوہ وزیر شہری ہوا بازی اشوک گجپتی راجو، منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ ہنس راج گنگارام اہیر اور دیگر موجود تھے۔ گڈکری نے کہا کہ ہر سال تقریباً 5 لاکھ سڑک حادثات پیش آتے ہیں جن میں تقریباً 1.5لاکھ افراد کی موت واقع ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جاریہ سال سڑک حادثات میں 4.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ اس میں کمی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک منٹ میں ایک سڑک حادثہ اور ہر چار منٹ میں ایک موت واقع ہوتی ہے۔ مستقبل میں بڑے پیمانے پر دیہی علاقوں میں ڈرائیونگ سنٹرس کھولنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت ملک بھر میں انٹلیجنٹ ٹریفک سسٹم متعارف کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT