Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر لائسنس منسوخی کا انتباہ

ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر لائسنس منسوخی کا انتباہ

بنگلور ۔ 16 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : اڈیشنل کمشنر آف پولیس برائے ٹریفک ڈاکٹر ایم اے سلیم نے بتایاکہ عقبی سواروں کیلئے ہلمیٹ کے لزوم میں 20 جنوری سے سختی لائی جائے گی۔ ایسے میں عوام کو چاہئے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں۔ اردو اخبارات کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے علمائے کرام سے درخواست کی کہ وہ خطبۂ جمعہ کے دوران اس خصوص میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں، تاکہ عوام قانون شکنی کا شکار نہ ہونے پائیں۔ ان کے مطابق عقبی سواروں کیلئے ہلمیٹ کے لزوم سے متعلق 1980میں ہی قانون مرتب کیا گیا تھا، جس پر عمل نہ کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس قانون کے نفاذ کیلئے 31 دسمبر 2015تک مہلت دی تھیـ۔ عقبی سواروں کیلئے ہلمیٹ کے لزوم کا فیصلہ ٹریفک پولیس کا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا ہے ، ایسے میں ہر شہری کا فرض بنتا ہے کہ وہ قانون پر عمل کرے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ شہریان بنگلور نے ہمیشہ سے ہی قانون کی پاسداری کا لحاظ رکھا ہے۔ اس مرتبہ بھی وہ قانون شکنی کے مرتکب نہیں بنیں گے۔ جناب سلیم نے بتایاکہ جب 2005 میں ٹو وہیلر سواروں کیلئے ہلمیٹ کا لزوم عائد کیا گیاتھا، اس وقت بھی یہی خیال کیا جارہاتھاکہ اس پر عمل مشکل ہوگا۔ مگر عوام نے پوری طرح قانون کی پاسداری کی ، اس کے بعد 2012 میں سیٹ بلیٹ کا لزوم ہوا ، اس پر بھی عمل کیاگیا۔ جب مئی 2012میں کاروں وغیرہ سے بلاک فلم نکالنے کے احکامات صادر ہوئے تب بھی اس پر عمل میں عوام نے کوئی کوتاہی نہیں برتی ، جس کے سبب انہیں توقع ہے کہ عقبی سواروں کیلئے ہلمیٹ کے لزوم کے فیصلے پر بھی عوام عمل کریں گے۔ انہوں نے بتایاکہ شہر میں ٹریفک قوانین کی پامالی پر نظر رکھنے کیلئے فی الحال 331سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں، عنقریب محکمۂ پولیس کے ذریعہ 600 اور نجی افراد کے تعاون سے 500 کیمرے نصب کئے جائیں گے۔جس کے بعد سڑکوں پر ٹریفک اہلکار گاڑیوں کو روک کر مقدمات درج کرنا بند کردیں گے، اور کیمروں کی مدد سے ٹریفک قوانین کی پامالی کی نشاندہی کرتے ہوئے آن لائن کے ذریعہ مقدمات درج کئے جائیں گے۔ عقبی سواروں کیلئے ہلمیٹ کے لزوم سے متعلق انہوںنے بتایاکہ 20 جنوری سے اس پر سختی سے عمل کیا جائے گا،اور اگر پہلی مرتبہ قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو گاڑی چلانے والے پر 100 روپے ، دوسری مرتبہ خلاف ورزی پر 300روپے اور تیسری مرتبہ خلاف ورزی پر ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی کے ساتھ 300 روپیوں کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ڈاکٹر سلیم نے بتایاکہ ٹریفک قوانین کی پامالی کے واقعات پر قابو پانے کیلئے ڈرائیونگ لائسنس پر پنچنگ کا نظام متعارف کرانے کی پہل کی گئی ہے۔ جس کے تحت پہلی خلاف ورزی پر ایک مرتبہ پنچنگ ہوگی، اسی طرح اگر تین مرتبہ خلاف ورزی کی گئی تو آسانی کے ساتھ پتہ چل سکتاہے، لائسنس ہولڈر تین مرتبہ قوانین کی پامالی کی ہے جس کی بنیاد پر اس کا ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کردیا جائے گا ۔ ٹریفک اژدہام سے متعلق انہوں نے بتایاکہ حکومت کو اس خصوص میں کئی تجاویز پیش کی گئی ہیں ، جس کے تحت شہر میں دن کے اوقات میں ٹرکوں کے داخلے پر پابندی ، رنگ روڈ کے باہر سے سرکاری اور پرائیویٹ بسوں کی روانگی ، شہر میں ٹریکٹروں پر پابندی کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں سدھار کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پیدل چلنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ قانون کا لحاظ کریں ، اگر ان کے ذریعہ قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو ان پر بھی مقدمات عائد کئے جائیں گے۔ اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر سلیم نے بتایاکہ گزشتہ ایک سال کے عرصہ میں ٹریفک پولیس نے تقریباً76 لاکھ مقدمات درج کرتے ہوئے 70 کروڑ روپیوں کا جرمانہ وصول کیا ہے جو ایک عالمی ریکارڈ ہے جبکہ شہر میں صرف 59.2لاکھ گاڑیاں ہیں، اسی طرح بی ایم ٹی سی کی 6.5ہزار بسیں ہیں، جن پر گزشتہ سال 54ہزار مقدمات درج کئے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT