Friday , July 28 2017
Home / Top Stories / ٹریفک پولیس کی خصوصی مہم، جگہ جگہ چیک پوسٹ ، عوام برہم

ٹریفک پولیس کی خصوصی مہم، جگہ جگہ چیک پوسٹ ، عوام برہم

حیدرآباد ۔ /11 جولائی (سیاست نیوز) دونوں شہروں میں حیدرآباد ٹریفک پولیس نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے اور بڑے پیمانے پر بغیر ہیلمٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے ۔ اس خصوصی مہم کے تحت ٹریفک پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے متعلقہ انسپکٹران کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف منصوبہ بند کارروائی کی جائے اور اس کے تحت بیریکیٹس نصب کرتے ہوئے تلاشی لازم کردی ہے ۔ ٹریفک پولیس نے اپنی توجہ پرانے شہر (ساؤتھ زون) اور ویسٹ زون میں مرکوز کئے ہوئے ہے اور جگہ جگہ پر چیک پوسٹ قائم کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کی تلاشی لی جارہی ہے ۔ ٹریفک پولیس اس مہم کے تحت بغیر ہیلمٹ کے گاڑی چلانے والوں کی بالخصوص نشاندہی کرتے ہوئے انہیں روکا جارہا ہے اور ان سے لائسنس اور گاڑی کے دیگر دستاویزات طلب کئے جارہے ہیں ۔ تین سے زائد چالانات زیرالتواء ہونے پر گاڑی ضبط کرلینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔ اس مہم کے تحت موٹر سائیکل سواروں کو تلاشی کے دوران فرار نہ ہونے دینے کیلئے ’’کٹ آف پارٹیز‘‘ بھی متعین کئے جارہے ہیں ۔ جبکہ تلاشی کیلئے روکے گئے موٹر سائیکل سواروں کی گاڑیوں کو مکمل طور پر روکنے کیلئے ٹریفک ڈیوائیڈرس کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ تلاشی کے ہر چیک پوسٹ پر 8 تا 10 کانسٹبلس کو انسپکٹر یا سب انسپکٹر رتبہ کے عہدیدار کی نگرانی میں کارروائی کی جارہی ہے ۔ ٹریفک پولیس کی اس خصوصی مہم سے عوام پریشان ہیں اور ہر موٹر سائیکل سوار کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ٹریفک مسٹر اے وی رنگناتھ نے بتایا کہ اس خصوصی مہم کے دوران ان موٹر سائیکل سواروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے جو ٹریفک قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کررہے ہیں اور ہیلمٹ کے لزوم کے باوجود بھی اس کے استعمال سے گریز کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ ماہ جولائی میں یہ خصوصی مہم روزانہ کی اساس پر جاری رہے گی اور نئی نئی جگہوں پر ٹریفک پولیس اپنے چیک پوسٹ قائم کرتے ہوئے یہ کارروائی کرے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ماتحت عہدیداروں کو یہ بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ کوئی بھی موٹر سائیکل سوار کو روکنے پر اگر کوئی ایمجنسی حالات ہونے کا دعویٰ کرنے پر انہیں فی الفور جانے کی اجازت دی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT