Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹریفک پولیس کی سختی ، عوام کا آر ٹی اے دفاتر کا رخ

ٹریفک پولیس کی سختی ، عوام کا آر ٹی اے دفاتر کا رخ

لائسنس کے لیے درخواستوں کا انبار ، رشوت خوری اور دلالوں کا راج
حیدرآباد۔11اگسٹ(سیاست نیوز) شہر میں ٹریفک پولیس کی جانب سے چالانات کی مہم اور دستاویزات کی تنقیح کے عمل سے شہریو ںمیں موجود خوف کے سبب لائسنس یا موٹر گاڑیوں کے دیگر دستاویزات نہ رکھنے والے شہری آر ٹی اے دفاتر کا رخ کر رہے ہیں اور انہیں آر ٹی اے دفاتر میں درمیانی افراد اپنا شکار بنانے لگے ہیں۔ پرانے شہر کے آر ٹی اے دفتر واقع بندلہ گوڑہ میں گذشتہ چند یوم سے لائسنس کیلئے درخواستیں داخل کرنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور درخواست گذاروں کے ہجوم کے سبب دفتر میں دھاندلیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں ۔ بندلہ گوڑہ آر ٹی اے دفترپر درمیانی افراد کی اجارہ داری کے متعلق عوام کا کہنا ہے کہ کسی بھی عہدیدار سے راست ملاقات کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا جب تک کہ ایجنٹ سے رابطہ قائم نہیں کیا جاتا کیونکہ ایجنٹ کے ذریعہ پہنچنے والی درخواستوں کو ہی ترجیحی بنیادوں پر غور کرتے ہوئے ان درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کی جاتی ہے جبکہ راست یا آن لائن داخل کی جانے والی درخواستوں پر عہدیدار غور نہیں کرتے اور درخواست گذاروں کو دفتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ محکمہ آر ٹی اے کے اعلی عہدیداروں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شہر کے آر ٹی اے دفاتر میں رشوت کا چلن عام ہے اور اس عمل کو روکنے کیلئے سخت گیر اقدامات کی ضرورت ہے لیکن ایسا کرنا انتہائی دشوار ہے کیونکہ ان اعلی عہدیداروں کا ماننا ہے کہ سسٹم میں موجود اس خرابی کو دور کرنے کیلئے سخت گیر اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے اور ان اقدامات و اصلاحات کیلئے جرأت کا مظاہرہ کرنا پڑ تا ہے ۔محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کے پرانے شہر کے دفتر واقع بندلہ گوڑہ کے علاوہ ٹولی چوکی اور موسی رام باغ اور مرکزی دفتر خیریت آباد میں بھی رشوت اور درمیانی افراد کا کلیدی رول ہے ۔ بندلہ گوڑہ آر ٹی اے دفتر کا المیہ یہ ہے کہ محکمہ سے وابستہ ملازمین کے رشتہ دار اس دفتر میں ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور انہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے جبکہ سرکاری دفاتر عوامی خدمت کیلئے ہوتے ہیں لیکن اس دفتر میں عوام اگر راست رجوع ہوتے ہیں تو انہیں باضابطہ عہدیداروں کی جانب سے ایجنٹس کا پتہ حوالے کرتے ہوئے ان سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ گذشتہ دنوں لرننگ لائسنس کیلئے رجوع ہونے والے ایک درخواست گذار نے بتایا کہ انہوں نے جب لرننگ لائسنس کیلئے رہبری حاصل کرنے کی کاؤنٹر پر کوشش کی تو انہیں ایجنٹ کا پتہ دیا گیا اور ایجنٹ نے انہیں واضح طور پر یہ کہا کہ وہ راست طور پر رجوع ہوں گے تو انہیں لائسنس حاصل نہیں ہوگا اور انہوں نے راست کوشش بھی کی لیکن انہیں لائسنس جاری نہیں کیا گیا جب وہ ایجنٹ کے ذریعہ پہنچے تو لائسنس فیس کے علاوہ 350روپئے وصول کرتے ہوئے اندرون آدھا گھنٹہ لائسنس جاری کردیا گیا۔ یہ شکایت کسی ایک درخواست گذار کی نہیں ہے بلکہ بندلہ گوڑہ آر ٹی اے دفتر پہنچنے والے ہر شہری کی یہ شکایت ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بغیر کسی ایجنٹ کے لائسنس یا انشورنس کروانے کے متحمل ہی نہیں ہیں جس کے سبب انہیں بحالت مجبوری رشوت ادا کرنی ہی پڑتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT