Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / ٹرین حادثہ اور اخلاقی ذمہ داری

ٹرین حادثہ اور اخلاقی ذمہ داری

تم ابھی شہر میں کیا نئے آئے ہو
رک گئے راہ میں حادثہ دیکھ کر
ٹرین حادثہ اور اخلاقی ذمہ داری
ہندوستان کا ریلوے سسٹم دیا بھر میں چوتھا سب سے بڑا ریلوے سسٹم ہے۔ برطانوی دور کے انفراسٹرکچر کے ذریعہ ہی اس ریلوے نیٹ ورک کو ’’کام چلاؤ‘‘ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ریلوے سیفٹی کے معاملہ میں اس وقت چوکسی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جب ملک میں کوئی بڑا ریلوے حادثہ رونما ہوتا ہے۔ اندور۔ پٹنہ ایکسپریس، اترپردیش کے کانپور (رورل) علاقہ میں ’’مشتبہ ریل فریکچر‘‘ حادثہ کا شکارہوگئی جس میں 127 سے زائد مسافرین ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ گذشتہ 6 سال کے دوران یہ سب سے بڑا ریل حادثہ ہے۔ ہندوستان میں ٹرین سرویس میں غریب مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچانے کا واحد کفایتی ذریعہ ہے۔ اس روٹ سے روزانہ زائد از 20 ملین افراد سفر کرتے ہیں۔ حادثہ میں بچ جانے والوں نے پٹنہ ایکسپریس کی بوگیوں کے پٹریوں سے اترنے سے قبل گڑگڑاہٹ کی آواز سنی جس کے فوری بعد کئی کوچ پٹریوں سے اتر گئے اور ایک دوسرے میں پیوست ہوگئے۔ اس حادثہ کو حکومت کی لاپرواہی اور خرابیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ہر سال پارلیمنٹ میں پیش ہونے والے ریلوے بجٹ میں ریل مسافروں کی سلامتی اور سیفٹی سے متعلق متعدد اقدامات کرنے کے ادعاجات کے ساتھ بجٹ پیش کیا جاتا ہے لیکن کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے تو تب ہی عوام کو پتہ چلتا ہیکہ ہمارے ملک کے ریلوے نیٹ ورک نظام کے ساھت کس طرح لاپرواہی سے نمٹا جاتا ہے۔ بلاشبہ کوئی بھی مرکزی وزیر یا حکومت ذمہ دار نہیں ہوتی مگر ریلوے ٹریکس کی دیکھ بھال کیلئے جب ریلوے میں عملہ موجود ہے تو اس طرح کے حادثات کو روکنے کیلئے اصول بنائے گئے ہیں۔ ریلوے پٹریوں کی وقتا فوقتا جانچ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگر ہر تیز رفتار ٹرین کے گذرنے کے بعد دوسری تیز رفتار ٹرین کے آنے کے وقفہ میں پائلٹ انجن کے ذریعہ ریلوے ٹریکس کی پائیداری کی جانچ کروائی جائے تو انسانی جانوں کے بڑے اتلاف کو روکا جاسکتا ہے۔ افسوس تو یہ ہیکہ ریلوے نیٹ ورک کو ایک عرصہ سے نظرانداز کردیا گیا ہے۔ پٹنہ ۔ اندور ایکسپریس کو پیش آیا حادثہ شاید ایسی ہی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ حالیہ عرصہ کا یہ بدترین حادثہ ہے جو صبح کے 3 بجے کے بعد پیش آیا۔ جب مسافرین محوخواب تھے۔ ٹرین کو شدید جھٹکے لگے تو مسافروں نے خود کو بوگیوں میں پھنسا ہوا پایا۔ یہ حادثہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب وزیر ری لوے نے ایک سالہ ’’زیرو ایکسڈنٹ مشن‘‘ کا آغاز کیا تھا۔ اس مشن کے درمیان میں ہی ریلوے کو شدید جھٹکہ لگا ہے۔ انڈین ریلویز میں تمام حادثات میں نصف حادثات پٹریوں سے اترنے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ اس حادثہ کے بعد یہ کئی سوال بھی اٹھ  کھڑے ہیں کہ آخر ٹریک کی تبدیلی کے بشمول ریلوے لائن کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے والی خطیر رقم کا کیا مصرف ہورہا ہے۔ ریلوے میں زیرو حادثہ مہم کی کوشش پر ضرب لگی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ وزارت ریلوے کی کارکردگی صرف سطحی رہ گئی ہے۔ ایسی ناقص کارکردگی کو اخلاقی ذمہ داری سمجھ کر وزارت سے استعفیٰ دیدینے کا رواج اب ہندوستانی سیاست میں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ یہ حادثہ ایک نہایت ہی المناک حادثہ ہے۔ سریش پربھو ہندوستان کے 43 ویں وزیر ریلوے ہیں جنہوں نے نومبر 2014ء میں قلمدان حاصل کیا تھا۔ ان کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہیکہ وہ اتنے بڑے حادثہ کے بعد کابینہ سے استعفیٰ دیدیں۔ انڈین ریلویز کی شاندار تاریخ اور ماضی کو دیکھتے ہیں تو ملک کے پہلے وزیر ریلوے آصف علی تھے۔ 2 ستمبر 1947 تا 14 اگست 1947 کے انچارج وزیر تھے۔ اس طرح کے بڑے ٹرین حادثوں کے بعد اب تک صرف دو وزرائے ریلوے نے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دیا تھا۔ نومبر 1956 میں ٹاملناڈو میں ٹرین حادثہ ہوا تھا جس میں 142 مسافر ہلاک ہوئے تھے اس کے فوری بعد اخلاقی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے وزیر ریلوے لال بہار شاستری نے استعفیٰ دیا تھا۔ اس کے 43 سال کے طویل وقفہ کے بعد اگست 1999ء میں آسام میں ہولناک ٹرین حادثہ پیش آیا تھا جس میں 290 مسافر ہلاک ہوئے تھے اور اس وقت کے وزیر ریلوے نتیش کمار نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرکے استعفیٰ دیدیا تھا۔ اب سریش پربھو کو بھی اخلاقی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT