Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / ٹرین حادثہ لاپرواہی کا نتیجہ، 8 عہدیداروں کیخلاف کارروائی

ٹرین حادثہ لاپرواہی کا نتیجہ، 8 عہدیداروں کیخلاف کارروائی

 

٭ پٹریاں کٹی ہوئی پائی گئیں ، فش پلیٹ اور نٹ بولٹ لگے ہوئے نہیں تھے، ابتدائی تحقیقات
٭ پٹریوں پر مرمت کے آلات اور دیگر ساز و سامان پڑا ہوا ملا ‘ ریلوے بورڈ
٭ حادثہ میں 21 اموات اور 97 افراد زخمی ۔ ریلوے حکام کا دعوی

 

مظفر نگر / نئی دہلی 20 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) اتکل ٹرین حادثہ کے سلسلہ میں یہ اندازہ کیا جارہا ہے کہ لاپرواہی کے سبب سانحہ پیش آیا ۔ اس ضمن میں کارروائی کرتے ہوئے ریلویز نے آج 3 اعلیٰ عہدیداروں بشمول سکریٹری سطح کے ریلوے بورڈ عہدیدار کو رخصت پر روانہ کردیا ، 4 عہدیداروں کو معطل اور ایک کا تبادلہ کیا گیا ہے ۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جبکہ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے آج کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ کل جس وقت اتکل ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتری تھیں اس وقت پٹریوں پر مرمت کا کام کیا جا رہا تھا ۔ رکن ٹریفک ریلوے بورڈ محمد جمشید نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان پٹریوں پر کچھ مرمت کا کام کیا جا رہا تھا اور شائد اس وجہ سے اتکل ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتری ہوں۔ محمد جمشید نے خود بھی حادثہ کے مقام کا دورہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ پٹریوں پر مرمت کے آلات اور دوسرا ساز و سامان بھی پایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک آڈیو کلپ بھی برآمد ہوا ہے جو بات چیت سے متعلق ہے اور ہم اس کی بھی تحقیقات کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے حادثہ کے مقام کا دورہ کیا تو ہم نے دیکھا کہ وہاں کچھ ایسے آلات اور سامان موجود تھا جو پٹریوں کی مرمت اور دیکھ بھال میں استعمال ہوتا ہے ۔ ریلویز کا کہنا ہے کہ اس حادثہ میں جملہ 21 افراد فوت ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 97 ہے ۔ ریلویز کے بموجب 26 زخمیوں کی حالت نازک ہے ۔ریلوے بورڈ کے رکن (انجنیئر) آدتیہ کمار متل ، ناردرن ریلوے جنرل منیجر آر کے کلشرستا اور ڈیویژن ریلوے منیجر (دہلی) آر این سنگھ کو رخصت پر روانہ کردیا گیاہے ۔

وزارت ریلوے نے ایک بیان میں کہا کہ حادثہ کے بعد یہ کارروائی کی گئی ۔ عہدیداروں کو عام طور پر اس وقت تک رخصت پر بھیجا جاتا ہے جب تک تحقیقات پوری نہیں ہوجاتی اور ذمہ داروں کا پتہ نہیں چلتا۔ کلشرستا اور آر این سنگھ نے کل مقام حادثہ کا دورہ کیا تھا اور وہ ریلوے پٹریوں کا مشاہدہ کرنے والی پہلی مرکزی ٹیم کا حصہ تھے ۔ عہدیدار نے کہا کہ داخلی رپورٹ کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے پٹریاں کٹے ہوئے پائے گئے جس کی وجہ سے درمیان میں کافی شگاف آگیا تھا ۔ پٹریوں کے ایک حصے پر فش پلیٹ اور نٹ بولٹ بھی صحیح طور پر لگے ہوئے نہیں تھے ۔ مسٹر جمشید نے بتایا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ان پٹریوں پر کچھ مرمتی کام کیا جا رہا تھا اور اس کام کیلئے جو احتیاط برتی جانی چاہئے تھی وہ نہیں برتی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر ریلوے کی ہدایات کے مطابق ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی جو اس واقعہ کیلئے بادی النظر میں ذمہ دار قرار پائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر سیفٹی اپنی تحقیقات میں پتہ چلائیں گے کہ پٹریوں پر کس نوعیت کا مرمتی کام کیا جا رہا تھا ۔ وہ اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ آیا جو اصول و قوانین اس سلسلہ میں موجود ہیں ان کی پابندی کی گئی ہے یا نہیں۔ ریلویز نے ایک بیان میں مزید بتایا کہ کل کے حادثہ میں جو افراد زخمی ہوئے تھے ان میں سے بیشتر کو دواخانوں میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسچارچ کردیا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں اترپردیش کے ایک سینئر عہدیدار نے آج کہا کہ اتکل ٹرین حادثہ میں زخمیوں کی تعداد 156 ہے ۔ اترپردیش کے پرنسپل سکریٹری ( انفارمیشن ) نے کہا کہ کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کی جملہ تعداد 156 ہے ۔ زخمیوں کو میرٹھ اور مظفر نگر کے مختلف دواخانوں میں شریک کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے اور کچھ زخمیوں کو ڈسچارچ بھی کردیا گیا ہے ۔ وزیر ریلوے مسٹر سریش پربھو نے کہا کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پٹریوں پر رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے ٹریفک بحال کرنا ان کی ترجیح ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT