Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹریڈ یونینوں کی ہڑتال سے عام زندگی متاثر

ٹریڈ یونینوں کی ہڑتال سے عام زندگی متاثر

تلنگانہ و اے پی میں بس سرویس ٹھپ، بینک و دیگر تجارتی ادارے بندرہے

حیدرآباد۔/2ستمبر، ( سیاست نیوز/ پی ٹی آئی) ٹریڈ یونینس کی جانب کی گئی آج ملک گیر ہڑتال سے ٹرانسپورٹ اور بینک خدمات دونوں ریاستوں تلنگانہ و آندھرا میں شدید طور پر متاثر ہوئیں۔ یہاں عام زندگی مفلوج رہی۔ آر ٹی سی بسیں، آٹو رکشا نہیں چلائے گئے جس سے خاص طور پر طلبہ، دفاتر کو جانے والوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مزدور قوانین میں ترمیم کے فیصلہ کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا دس ٹریڈ یونینس نے اعلان کیا تھا۔ آٹو یونینوں کے ہڑتال میں شامل ہونے پر ہزاروں آٹوز کو سڑکوں سے ہٹالیا گیا تھا۔ بائیں بازو ٹریڈ یونینس نے دونوں ریاستوں تلنگانہ و آندھرا کے بس ڈپوز کے روبرو احتجاجی مظاہرہ منظم کیا۔ ٹرک اونرس، ڈرائیورس نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ پٹرول بینکس بند رہے، مہاتما گاندھی بس اسٹیشن ( ایم جی بی ایس ) حیدرآباد اور جوبلی بس اسٹیشن سکندرآباد پر ہڑتالی مظاہرین جمع ہوگئے تھے جس کے سبب بسوں کی خدمات کو منسوخ کردیا گیا۔ بائیں بازو ٹریڈ یونینس کے کارکنوں نے تلنگانہ کے دس اضلاع اور آندھراپردیش کے 13اضلاع کے بس ڈپوز کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کئی شہروں میں بس اسٹیشنس سنسان دکھائی دے رہے تھے۔ تقریباً اٹھارہ ہزار بسوں کو جو دونوں ریاستوں سے تعلق رکھتی ہیں کو سڑکوں سے ہٹالیا گیا تھا۔ اے پی ایس آر ٹی سی کرنول کے ذرائع نے بتایا کہ بس اسٹیشن میں آر ٹی ورکرس کا احتجاج شدت اختیار کرگیا۔ احتجاجی ملازمین بسوں کو روکنے کی کوشش کررہے تھے جبکہ کنٹراکٹ اسٹاف کی مدد سے بسوں کو چلانے کی کوشش کی جارہی تھی۔

دونوں ریاستوں میں بس خدمات مفلوج رہیں۔ حیدرآباد اور ریاست تلنگانہ کے دیگر مقامات اور آندھرا پردیش کے بیشتر شہروں میں بینک ملازمین نے ہڑتال میں حصہ لیا جس کے سبب عوامی شعبہ کے بینک یہاں بند رکھے گئے۔ تلنگانہ میں سنگارینی کوئلہ پیداوار ہڑتال کے سبب متاثر رہی کیونکہ تین اضلاع میں سنگارینی کالریز لمیٹیڈ کے ملازمین نے ہڑتال میں حصہ لیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ 45ہزار ٹن  پیداوار متاثر رہی جبکہ کمپنی کو اس سے 9کروڑ روپئے کا نقصان ہوا۔ وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ شپ یارڈ اور دیگر عوامی شعبہ جات کے ملازمین نے بھی ہڑتال میں حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کی اطلاع کے بموجب دونوں ریاستوں کے قریباً 52ہزار بینک ملازمین نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ صرف سات ہزار ملازمین نے خدمات انجام دی۔ سکریٹری اے آئی بی ای اے رام بابو نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ تمام کمرشیل، خانگی، گرامینا اور کوآپریٹیو بینکوں نے ہڑتال میں حصہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ تمام 15ٹریڈ یونینوں نے ہڑتال میں حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT