Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹولی چوکی میں خستہ حال مساجد کی باز آبادکاری ، گیٹیڈ کمیونٹی میں عالیشان تعمیر

ٹولی چوکی میں خستہ حال مساجد کی باز آبادکاری ، گیٹیڈ کمیونٹی میں عالیشان تعمیر

ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی نمائندگی پر ادتیہ بلڈرز کا مثبت ردعمل
سیاست کی مہم کا مثبت اثر
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : ٹولی چوکی علاقہ میں موجود دو خستہ حال مساجد کی باز آبادکاری میں روزنامہ سیاست کی مہم نے کامیاب اثر دیکھایا ہے ۔ گیٹیڈ کمیونٹی میں موجودہ ان مساجد کو عالیشان مساجد کی طرز پر تعمیر کردیا گیا ہے اور یہ مساجد نمازوں کی ادائیگی کے لیے تیار ہیں ۔ خستہ حال ان قدیم مساجد کو ان کی اصل حالت میں لانے کے لیے بہترین کاریگروں کا استعمال کرتے ہوئے بلڈرز نے خصوصی دلچسپی دکھائی ہے ۔ قدیم ڈی ایم پٹیل باغ علاقہ سے موسوم ان باغ میں اب گیٹیڈ کمیونٹی تعمیر ہوچکی ہے ۔ جو گنبدان قطب شاہی روڈ روبرو اذاں انٹرنیشنل اسکول واقع ہے ۔ روزنامہ سیاست نے پہلی مرتبہ اس علاقہ میں مساجد کی موجودگی کا سال 2008 میں انکشاف کیا تھا اور مساجد کو لاحق خطرہ سے اپنے قارئین و شہریان حیدرآباد کو واقف کروایا تھا ۔ سیاست نے اپنی مہم کو جاری رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً ان مساجد کا مسئلہ اٹھایا ۔ روزنامہ سیاست کی اس مہم سے خوف زدہ بلڈرز نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے رجوع ہو کر مساجد کی عالیشان پیمانے پر تعمیر کا وعدہ کیا تھا ۔ آدتیہ بلڈرز کے ایک وفد نے ایڈیٹر سیاست کو تیقن دلایا تھا کہ وہ ان مساجد کی تعمیر کریں گے تاہم ایڈیٹر سیاست نے اس وفد سے کہا تھا کہ ان مساجد کی نہ صرف عالیشان پیمانے پر تعمیر ہونی چاہئے بلکہ ان مساجد میں عبادتوں کو یقینی بنایا جائے ۔ وفد نے وعدہ کے مطابق ان مساجد کو عالیشان پیمانے پر تعمیر کردیا ہے ۔ معروف آدتیہ بلڈرز کے وفد نے اس بات کا تیقن دلایا ہے کہ 6 تا 8 ماہ میں پراجکٹ مکمل ہوجائے گا اور اس گیٹیڈ کمیونٹی میں موجودہ عوام کے لیے ان مساجد کو بحال کردیا جائے گا جو پورے اخلاص کے ساتھ اپنی عبادتوں کو یہاں ان مساجد میں انجام دے سکتے ہیں ۔ اس گیٹیڈ کمیونٹی میں تقریبا 63 ویلاس تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ روزنامہ سیاست نے مارچ سال 2013 اور مارچ سال 2015 میں بھی مساجد کی تعمیر کے لیے آواز بلند کی تھی ۔ 17 ایکڑ اراضی پر محیط یہ باغ گجراتی خاندان کے قبضہ میں تھا جو دراصل ایک نواب کی جائیداد بتائی گئی ہے ۔ اس گجراتی خاندان سے آدتیہ گروپ نے معاہدہ کرلیا اور ویلاس کی تعمیر شروع کردی ۔ سارے علاقہ کو عملاً اپنے گھیرے میں لیتے ہوئے بلڈرز نے تعمیر کا آغاز کیا تاہم اس راستے سے گذرنے والی اکثریت کو مساجد کی موجودگی کا علم نہیں تھا ۔ روزنامہ سیاست کے انکشاف کے بعد مساجد کے وجود کو لاحق خطرہ ٹل گیا اور اب ڈی ایم پٹیل باغ میں موجودہ دو مساجد عالیشان انداز میں تعمیر ہوچکی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT