Tuesday , September 19 2017
Home / مضامین / ٹھہرے ہوئے پانی میں بھی طوفان اٹھادو

ٹھہرے ہوئے پانی میں بھی طوفان اٹھادو

شجاعت علی ۔آئی آئی ایس
حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ ’’ اچھی عادت کی نیک اور پارسا عورت اگر فقیر کے گھر بھی ہو تو اسے بادشاہ بنادیتی ہے۔‘‘ ہمارے سماج میں ہرروز عورت کے موضوع پر کوئی نہ کوئی مسئلہ بحث کا مرکز بن جاتاہے۔ کبھی عورت کی عظمت کا ذکر ہوتاہے تو کہیں اس کے نازک پن پر تبادلہ خیال ہوتاہے۔ تو کہیں اس کے کمزور ہونے کا گلہ کیا جاتاہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ عورت ہی اس کائنات کا سب سے حسین وجمیل شاہکار ہے۔ عورت کہیں ماں کا خوبصورت روپ ہے تو کہیں بھولی بھالی بٹیا کا چہرہ‘ کہیں وہ معصوم بہن ہے تو کہیں باوقار بہو۔ وہ کہیں مرد کی زندگی کو عروج پر پہنچانے والی رفیق حیات ہے‘ کہیں پائلٹ ہے تو کہیں آسٹروناٹ‘ کہیں وہ فوجی کپتان ہے تو کہیں پروفیسر‘ کہیں ٹیچر تو کہیں انجینئر‘ کہیں انسٹرکٹر تو کہیں ڈاکٹر۔ الغرض سماج کے تمام باعزت پیشوں میں اس کا عمل دخل ہے۔ مذہبی کتابوں میں بھی اسے غیر معمولی عزت دی گئی ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کسی عورت پر ظلم ہوتاہے تو خدائے برتر کا عرش دہل جاتاہے۔
مختلف مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان گھروں کی بیٹیاں تعلیمی اور مسابقتی امتحانوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کررہی ہیں جن کی مائیں مختلف دفتروں میں اپنی قابلیت کی مناسبت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یعنی Working Mothers کی بیٹیاں خوب سے خوب تر کی جستجو میں لگی ہوئی ہیں۔ آج کا دور Intellectual Property کا دور ہے یعنی جائیدادیں‘ گھر یا کاروبار ذہنی دولت کے مقابلہ میں غیراہم ہوگئے ہیں۔ آج ہماری بیٹیاں اگر پائلٹ بن رہی ہیں تو یہ ترقی کے نئے انقلاب کی گونج کے سوا اور کیاہے۔ ایسے زبردست عروج کے زمانے میں جب ہمیں یہ پتہ چلتاہے کہ ایک صاحب کی ڈاکٹر بہو جس نے ایم ڈی میں امتیازی کامیابی حاصل کی ہے‘ سسرالی دباؤ کے سبب امور خانہ داری تک محدود ہوکر رہ گئی ہے تو ہم آنسو بہانے کے علاوہ اور کیا کرسکتے ہیں۔

بتایا گیاہے کہ اس بیٹی کی تعلیم پر اس کے والدین نے لگ بھگ ایک کروڑ روپے کی رقم خرچ کی تھی۔ یہ رقم کوئی معمولی نہیں تھی سونے پہ سہاگا یہ کہ حکومت نے اس لڑکی پر لگ بھگ 20 لاکھ روپے صرف کئے تھے۔ یعنی والدین کے ساتھ ساتھ سرکار کی اتنی بڑی رقم ساس سسر کے غلط فیصلے کی وجہ سے چولہے کی نذر ہو گئی۔ ایک اور پوسٹ گریجویٹ لڑکی جس نے براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں اپنا ایک خاص مقام بنالیا تھا‘ ملازمت ترک کرنے پر مجبور کردی گئی۔ ماں باپ کی وہ محنت جس کے سبب اس نے اپنے سماج میں خود کا ایک مقام بنالیا تھا وہ بیکار چلی گئی۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جن جن گھروں میں میاں اور بیوی دونوں سرویس کرتے ہیں ان کے ہاں بڑی خوشحالی ہے اور ان کی ازدواجی زندگی بھی انتہائی خوشگوار دیکھی گئی۔عام طور پر ساس سسر بھی سرویس کرنے والی بہو کو بیحد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں حیرت اس وقت ہوئی جب ہم نے ایک ایسے شخص سے ملاقات کی جو صوم وصلواۃ کے پابند ہیں لیکن انہوں نے اپنی انجینئر بیٹی کو گوگل میں ملنے والی ملازمت پر اظہار فخر کیا اور کہا کہ وہ علم ہی کیا جس کا استعمال ہی نہ ہو۔؟ وہ خود بھی ماشاء اللہ معاشی طورپر غیرمعمولی مستحکم ہیں لیکن اپنی آنکھوں میں اظہار تشکر کے آنسو لئے یہ کہہ رہے تھے کہ میری بیٹی اس قدر قابل ہوگئی ہے کہ وہ اپنی شادی کا خرچہ خود برداشت کرسکے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں اس وقت عورتیں ہرشعبہ حیات میں اپنی قابلیت اور طاقت کے مطابق تیزی سے قدم بڑھا رہی ہیں۔ منظم شعبوں میں وہی عورتیں کام کرتی ہیں جن کو اپنے خاندان‘ اپنے مذہب اور اپنی ثقافت کا لحاظ بھی ہوتاہے۔ ریاستی اور مرکزی اسکولوں میں ہزاروں لیڈی ٹیچرس کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ صنف نازک مادر وطن کو ایک ترقی یافتہ قوم بنانے میں ممد ومعاون ثابت ہورہی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ساری دنیا میں 70 فیصد ٹیچرس عورتیں ہی ہیں۔ ماہرین کا یہ خیال ہے کہ عورت کے پڑھانے کے انداز میں ماں کی شفقت‘ بہن کا پیار اور ایک دوست کا دلار شامل رہتاہے۔ یہی وہ وجہ ہے جس کے سبب نوخیز نسل کسی خوف و خطر کے بغیر جوق درجوق مدرسوں میں Enrollment کیلئے دوڑ لگارہے ہیں۔ اسکولوں میں حاضری کے تناسب میں اضافہ کا سبب بھی لیڈی ٹیچرس ہی ہیں۔

ہماری اتنی عظیم جنس کے خلاف کچھ کچھ گوشوں سے بیہودہ‘ رکیک‘ نفرت انگیز اور شرمناک تبصرے آتے ہیں۔ تو ذہن میں ایک ہی جواب آتاہے کہ ان ’’جانور والی ذہنیت ‘‘رکھنے والوں کے خلاف کچھ نہ کہا جائے تو بہتر ہے کیونکہ یہ لوگ اس طرح کی گھناونی باتوں کے ذریعہ News میں بنے رہنا چاہتے ہیں۔ شیخ سعدیؒ نے ایک بار یہ بھی فرمایا تھاکہ ’’ آہستہ آہستہ چلنا اور منزل مقصود تک پہنچنا دوڑنے اور راستے میں رہ جانے سے بہتر ہے۔‘‘ آپؒ کا یہ قول ہندوستانی عورتوں پر پوری طرح صادق آتاہے کیونکہ مادر ہند کی یہ بیٹیاں خرامہ خرامہ چلتے ہوئے مقصد حیات حاصل کرتی جارہی ہے۔ اگر ماضی کی تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائی جائے تو آہنی عزائم رکھنے والی بے شمار خواتین، ناقابل تسخیر کارنامے انجام دیتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہیں۔ آنجہانی وزیراعظم محترمہ اندرا گاندھی کے بارے میں یہ کہا جاتاتھا کہ ان کی کابینہ میں ان کے سوا کوئی اور ’’مرد‘‘ نہیں تھا۔ عورتوں کے معاملہ میں تنگ نظری کا مظاہرہ کرنے والے خاندان ہمیشہ نقصان اٹھاتے رہے ہیں۔ روشن خیال خاندان متمول ہوتے جارہے ہیں جبکہ تنگ نظر لوگ غربت‘ افلاس اور تنگ دستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ ایک ہاتھ میں مذہب کا جھنڈا اور دوسرے ہاتھ میں معیشت کے سدھار کا ایجنڈا لیکر آگے بڑھا جاسکتاہے۔ شرم وحیا کا پردہ بھی آپ کے ساتھ رہے گا اور ترقی کا مژدہ بھی آپ کے ہاتھ ہوگا۔ تو آئیے ہم سب اس بات کا عہد کریں کہ اپنی بیٹیوں کو اس قدر مضبوط کردیں کہ وہ جہیز کی بھینٹ چڑھنے کے بجائے ’’بھینٹ‘‘ میں جہیز لیکر کسی گھر کی بہو بنیں۔ مضبوط ارادوں کے ساتھ ہماری بیٹیاں آگے قدم بڑھاتی ہیں تو یقین جانیئے ان کا مستقبل انتہائی تابناک رہے گا کیونکہ ان کے پاس انقلاب بپا کرنے کی طاقت اور صلاحیت دونوں ہی موجود ہیں۔ ان کیلئے کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ اسی پس منظر میں کسی شاعر نے کیا خوب کہاہے کہ
تم چاہو تو دشوار ہے کس بات کا ہونا
ٹھہرے ہوئے پانی میں بھی طوفان اٹھادو
fbshujathalisufi

TOPPOPULARRECENT