Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹھیلہ بنڈی ،آٹو رکشا تک مسلمانوں کو محدود رکھنے میں سیاسی و سرکاری مسلمان ذمہ دار

ٹھیلہ بنڈی ،آٹو رکشا تک مسلمانوں کو محدود رکھنے میں سیاسی و سرکاری مسلمان ذمہ دار

کاروبار کیلئے پسماندہ طبقات کو 5 لاکھ روپئے سبسیڈی اور مسلمانوں کو صرف ایک لاکھ ، اس کیلئے بھی بجٹ نہیں
حیدرآباد /10 نومبر ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ کے مسلمان اپنی کھوئی ہوئی تاریخ کی تلاش اور نئی تاریخ کو رقم کرنے کی کوشش میں جدوجہد کر رہے ہیں ۔ وہ قوم جو کبھی جاگیر ، منصب اراضیات رتبہ عہدہ باغات اور ریاست کے امراء میں اپنا شمار رکھتی تھی ۔ آج اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کی تلاش میں جٹ گئی ہے ۔ جن شعبوں میں مسلمان اعلی عہدوں پر فائز تھے اور جن شعبوں کا قیام بھی مسلمانوں کی فراست سے  عمل میں لایا گیا تھا ۔ آج ان شعبوں میں مسلمان ڈھونڈنے سے نہیں ملتے 65 سالہ کی تاریخ میں مسلمان جن دفاتر سے قوانین جاری کرتے تھے آج ان دفاتر کے قوانین میں مسلمانوں کی حق تلفی اور ان سے امتیاز جاری ہے ۔ تعلیمی و معاشی طور پر مسلمانوں کو حد درجہ پسماندہ بنایا گیا اور وقت کی حکومتوں کے ساتھ ہمارے اپنوں نے بھی رہی باقی کسر کو پورا کردیا ۔ موجودہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کی ترقی کیلئے مختص بجٹ اور اسکیمات کا جائزہ لیں اور انہیں درجہ فہرست اقوام و قبائل سے انکا تقابل کریں تو حیرت ہوگی ۔ تقابل سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کیلئے سیاسی عہدوں پر فائز مسلمان مسلم قائدین یا پھر سرکاری مسلم افسراں ذمہ دار ہیں ۔ مسلمانوں کی حصار بندی صفائی مشاعروں اور ادبی پروگراموں کیلئے صرف کئے جاتے ہیں اور نئی حکومت کی نئی پالیسی رمضان المبارک میں افطار کروانا کپڑوں کی تقسیم جیسے اقدامات میں اس کے برعکس اگر تلنگانہ کے 10 اضلاع میں صرف ایک ہی ضلع رنگاریڈی میں 150 کروڑ روپئے کی 80 فیصد سبسیڈی اسکیم ایس سی طبقہ کیلئے رائج کی گئی جبکہ مسلمانوں کیلئے اسکیم تیار کرنے میں ہی سرکاری مسلمان ناکام رہے ۔ کسی طبقہ کے قائدین کی جانب سے مرضی و منشا کے خلاف سرکاری اسکیم پر اعتراض و احتجاج کیا جاتا ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی جانب سے ایسا نہیں ہوتا ۔ مسلمانوں کیلئے نئی اسکیم آٹو رکشا اسکیم کو 50 فیصد سبسیڈی پر رائج کیا گیا ۔ بے  روزگار مسلم نوجوانوں آٹو اسٹانڈ اور کشاؤں تک ہی محدود کھتے ہوئے اسکیم جاری کرنے کے الزامات اور بے چینی پائی جاتی ہے ۔ اسکیم کی تیاری میں سرکاری مسلم عہدیداروں کے علاوہ ان سے بڑھ کر سیاسی عہدوں پر فائز قائدین میں خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے ہیں۔ یا تو ان میں سرکاری اسکیم کی مخالفت و مشورہ کی ہمت نہیں یا پھر وہ خود نہیں چاہتے کہ قوم کا بے روزگار نوجوان خود روزگار کے موقع حاصل کرے اور خود مختار بنے ۔ تعلیم میں آگے برھے قوم و ملت کا نام روشن کریں ۔اقلیتوں کو صرف 3 لاکھ تک یونٹ کے قیام کی اجازت اور ایک لاکھ تک سبسیڈی کی فراہمی کا فیصلہ یقیناً ناانصافی کے مترادف ہے۔ گزشتہ دنوں ایس سی کارپوریشن نے خود روزگار اسکیم کے تحت جاریہ سال ایس سی طبقات سے درخواستیں طلب کی ہیں جن میں دیہی، نیم شہری اور شہری علاقوں کیلئے مختلف پیشہ جات اور کاروبار کی نشاندہی کی گئی اور ان کی مالیت کا تعین کیا گیا۔ ایس سی کارپوریشن کے تحت ایک لاکھ روپئے تک کے یونٹ کیلئے80ہزار روپئے سبسیڈی فراہم کی جاتی ہے جبکہ 20 فیصد رقم بینک بطور قرض جاری کرتا ہے۔ 2لاکھ روپئے تک اسکیم کیلئے 70فیصد سبسیڈی کی فراہمی کی گنجائش ہے اور 30فیصد رقم بینک بطور قرض جاری کرتا ہے۔ 2تا10لاکھ روپئے تک یونٹ کیلئے 60 فیصد سبسیڈی یا  5لاکھ روپئے تک کی سبسیڈی فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اسکیم سے استفادہ کیلئے آمدنی کی حد ایس سی طبقہ اور اقلیتوں کیلئے مساوی ہے لیکن کارپوریشن سے سبسیڈی کی فراہمی میں اقلیتوں کے ساتھ سراسر ناانصافی کی جارہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کم سبسیڈی کی موجودہ اسکیم پر عمل آوری کی رفتار انتہائی سست ہے اور اس اسکیم میں بھی کئی بے قاعدگیوں کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ حکومت اگر اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہو تو اسے ایس سی طبقہ کیلئے تیارکی گئی اسکیم کو اقلیتوں کیلئے بھی نافذ کرنا چاہیئے اس سے نہ صرف اقلیتی طبقات 10لاکھ روپئے تک کا کاروبار شروع کرسکتے ہیں بلکہ انہیں کارپوریشن سے 5لاکھ روپئے تک کی سبسیڈی حاصل ہوپائے گی۔ ایک لاکھ روپئے پر 80فیصد اور 2لاکھ کیلئے 70فیصد سبسیڈی سے اقلیتوں کو بھی استفادہ کا موقع فراہم کیا جانا چاہیئے۔ حکومت نے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک اس وعدہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ بجٹ کی اجرائی کی صورتحال بھی افسوسناک ہے۔ جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے 1130کروڑ روپئے مختص کئے گئے جن میں سے 335کروڑ روپئے جاری کئے گئے اور 245کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جس میں شادی مبارک اسکیم کے 100کروڑ شامل ہیں۔ صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو اقلیتی بہبود کی اسکیمات کیلئے صرف 145کروڑ روپئے ہی ابھی تک خرچ کئے گئے ہیں جبکہ مالیاتی سال کا تیسرا سہ ماہی چل رہا ہے۔ اب جبکہ مالیاتی سال کے اختتام کو صرف ایک سہ ماہی باقی ہے حکومت کی جانب سے مکمل بجٹ کی اجرائی ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کیلئے تیار کی جانے والی اسکیمات کو اقلیتوں کیلئے بھی قابل عمل بنانا چاہیئے۔ ایس سی کارپوریشن نے ایک تا 10لاکھ روپئے یونٹ کاسٹ کے جن 100کاروبار اور پیشہ جات کی نشاندہی کی ہے ان میں دیہی علاقوں میں اراضی کی خریدی، بورویل کی تنصیب، باؤلی کی کھدوائی، لفٹ اریگیشن اسکیم، بیل بنڈی کی خریدی جیسی اسکیمات شامل ہیں جبکہ شہری علاقوں کیلئے مختص کی گئی اسکیمات میں لیڈیز ایمپوریم، منی سوپر بازار، اسٹیشنری و بک اسٹال، ٹینٹ ہاوز، مصنوعی پھولوں کی فروخت، آٹو موبائیل شاپ، بیکری و سوئیٹس شاپ، چکن سنٹر، ریڈی میڈ گارمنٹس، کولڈرنکس و جوس، ڈیری فارم، الیکٹریکل شاپ، فیشن ڈیزائننگ شاپ، فلور مل، لیدر ورک، لائٹنگ و ڈیکوریشن، منرل واٹر پلانٹ، موٹر ری وائینڈنگ و ریپیرنگ، نرسری، سنیٹری مارٹ، ٹیلرنگ و ایمبرائیڈری، آٹو رکشاء، فور وہیلرس، ٹیکسی، ڈی سی ایم ویان، ٹریکٹر، آٹو موبائیل سرویسنگ یونٹ، سمنٹ بریکس یونٹ، ڈی جے ساؤنڈ سسٹم، ڈی ٹی پی زیراکس انٹرنیٹ کیف، جنرل انجینئرنگ ورک، جِم ، میڈیکل لیاب، میڈیکل شاپ، فوٹو اسٹوڈیو، فزیو تھراپی سنٹر، اسکرین پرنٹنگ، ویلڈنگ شاپ اور دیگر کاروبار شامل ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ ایس سی کارپوریشن کی جانب سے نشاندہی کردہ تمام 100 کاروبار مذکورہ رعایتوں کے ساتھ اقلیتوں کیلئے بھی شروع کرتے ہوئے اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں اپنی سنجیدگی کا ثبوت دے۔

TOPPOPULARRECENT