Tuesday , September 19 2017
Home / عرب دنیا / ’’ٹیم اروناچل ‘‘ ریاست کی ترقی کیلئے کام کرے گی

’’ٹیم اروناچل ‘‘ ریاست کی ترقی کیلئے کام کرے گی

چیف منسٹر اتراکھنڈپیما کھنڈو کی تقریب حلف برداری ، ریاست میں جاری ڈرامائی صورتحال ختم

ایٹانگر ۔17جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) پیما کھنڈو جنہوں نے اروناچل پردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے عہدہ اور راز داری کا آج حلف لیا ‘ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آنجہانی والد ڈورجی کھنڈو اور سابق وزرائے اعلیٰ نابم توکی اور کالی کھوپُل کے شروع کئے ہوئے تمام پراجکٹس کی تکمیل کیلئے جدوجہد کریں گے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنہیں ڈرامائی حالات میں کل ریاستی کانگریس کا قائد منتخب کیا گیا کہا کہ جتنے بھی پراجکٹس سابق حکومتوں نے شروع کئے تھے تیز رفتار سے مکمل کئے جائیں گے ۔ سیاحت ‘ ہائیڈرو پاؤر ‘ زراعت ‘ باغبانی ‘ صحت ‘ تعلیم اور مواصلات پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹیم ارونا چل کا جذبہ منتخبہ قائدین میں بھی اُن کی پارٹی وابستگی کا لحاظ کئے بغیر ریاست کی بحیثیت مجموعی ترقی کیلئے پیدا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام منتخبہ قائدین کو ترقی کے عمل کا بلالحاظ سے سیاسی وابستگی حصہ  بنایا جائے گا ۔ 37 سالہ کھنڈو ملک کے سب سے کم عمر چیف منسٹر ہیں ۔ وہ دو مرتبہ بلامقابلہ اسمبلی کیلئے منتخب ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خصوصی کوشش کریں گے تاکہ سرحد پار علاقوں سے نقل مقام کرنے والوں کو روکا جاسکے ۔ وہ مرکز کی مدد سے سرحدی علاقوں کی ترقی کیلئے جدوجہد کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ لوگ نقل مقام کرنا بند کردیں ۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری میڈیا کو پٹرولیم کے وسائل اور ہائیڈرو پاؤر کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کی کوششوں کو اُجاگر کرنا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ 2000میگاواٹ ہائیڈرو الکٹرک پراجکٹ گرومکھ میں قائم کیا جائے گا جو ایک طویل عرصہ سے تعطل کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت مجموعی ہائیڈرو پاؤر پراجکٹس جن سے عوام پر اثر مرتب ہوتا ہو ان کو اعتماد میں لئے بغیر شروع نہیں کئے جائیں گے ۔ ریاستی حکومت اس کے بغیر کارروائی میں پیشرفت نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ وہ سابق حکومت کی تیار کردہ تجاویز کا جائزہ لیں گے اور مالی امداد کیلئے مرکز کو پیش کریں گے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اُن کی کابینہ میں توسیع صرف گورنر کی ریاست واپسی کے بعد کی جائے گی۔ قبل ازیں پیما کھنڈو نے اروناچل پردیش کے نویں چیف منسٹر کی حیثیت سے اپنے عہدہ کا حلف لے لیا ۔جس کے ساتھ ہی اس شمال مشرقی ریاست میں جاری تیز رفتار ڈرامائی تبدیلیوں کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ ان واقعات میں سپریم کورٹ کے کلیدی فیصلہ سے بی جے پی اور اس کے زیرقیادت مرکزی حکومت کو بدترین ہزیمت ہوئی اور کانگریس نے اپنے طاقتور سیاسی گڑھ میں اقتدار پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ نئے چیف منسٹر پیما کے ساتھ چاؤنا میین کو ڈپٹی چیف منسٹر کا حلف دلایا گیا۔ اس ریاست کے چیف منسٹر ڈورجی کھنڈو کے فرزند  37 سالہ پیما کھنڈو ملک کے اب تک کے سب سے کم عمر چیف منسٹر بن گئے ہیں۔ گورنر تتھاگتا رائے نے ان دونوں کو یہاں راج بھون میں حلف دلایا۔ گورنر نے گزشتہ روز چیف منسٹر نابم ٹکی کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت کی تھی اور عددی طاقت کا مظاہرہ کے امتحان سے چند گھنٹے قبل ایک انتہائی ڈرامائی صورتحال میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی نے ٹکی کے بجائے پیما کو اپنا قائد منتخب کرلیا۔

اس سوال پر کہ کیا وہ سینئر کابینی ساتھیوں سے مخالفت کا رویہ اختیار کریں گے ‘ انہوں نے کہا کہ تمام سینئر ارکان اسمبلی نے انہیں اپنی تائید فراہم کی ہے اور وہ اُن سے مشورہ لیتے رہیں گے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر چونامائین جو ڈورجی کھنڈو کے ساتھ کابینہ میں شامل تھے کہا کہ ہمارے تمام سینئر قائدین کو چیف منسٹر پر بھرپور اعتماد ہے اور ہم انہیں ہر ممکن تائید فراہم کریں گے ۔ متنازعہ گرین فیلڈ ایئرپورٹ کے مسئلہ پر کھنڈو نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر کابینہ کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے اور اسی کے بموجب فیصلہ کیا جائے گا ۔ اس سوال پر کہ کیا موجودہ موقف خود اختیار کونسل اور پائیکل خوداختیار کونسل کا برقرار رکھا جائے گا جس کی منظوری قانون ساز اسمبلی سے حاصل ہوچکی ہے اور اسے مرکز کو روانہ کیا جائے گا ۔ کھنڈو نے کہا کہ یہ مسئلہ مرکزی وزارت داخلہ کے پاس ہے اور اس کا فیصلہ وہی کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT