Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹیکسٹائیل شعبہ کا جی ایس ٹی کے خلاف احتجاج

ٹیکسٹائیل شعبہ کا جی ایس ٹی کے خلاف احتجاج

سورت میں یومیہ 150تا200کروڑ کا نقصان، تلنگانہ میں بھی اثر
حیدرآباد۔/9 جولائی، ( سیاست نیوز) ٹیکسٹائیل مینو فیکچررس ہول سیل ڈیلرس اور چلر فروخت کنندگان کے جی ایس ٹی کو تسلیم کرنے سے انکار کی وجہ صرف سورت شہر میں یومیہ 150 تا200 کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے۔ شعبہ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ملک کی تاریخ میں کبھی ملبوسات پر ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ ایسا پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ حکومت نے اس شعبہ پر کئی ٹیکس متعارف کئے ہیں۔ ٹیکسٹائیل مینو فیکچررس ریٹیلرس اور ہول سیلرس نے بطور احتجاج اب تک جی ایس ٹی رجسٹریشن نہیں کرایا ہے ۔ انہوں نے احتجاج کو ملک گیر سطح پر وسعت دینے کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں بہت جلد لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی۔ تلنگانہ اسٹیٹ فیڈریشن آف ٹیکسٹائیل اسوسی ایشن کے صدر اے پرکاش نے بتایا کہ دہلی میں آل انڈیا ٹیکسٹائیل ٹریڈرس کا اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد مرکزی وزیر سے نمائندگی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت کے جواب کا انتظار ہے اور اگر منفی ردعمل سامنے آئے تو پھر ملک گیر سطح پر احتجاج شروع کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس ادا کرنے کے ہم خلاف نہیں لیکن ڈیجیٹل لین دین زبردستی مسلط کرنے کے نتیجہ میں تقریباً 25فیصد تجارت بند ہوجائیگی اور بے شمار افراد روزگار سے محروم ہو۔گے۔ انہوں نے مثال ذ؁ آؤڑ کہا کہ ایک ساری کی تیاری میں کئی مراحل ہوتے ہیں ، مینو فیکچررس جب دھاگے خریدیں گے انہیں ٹیکس ادا کرنا ہوگا، اسکے بعد ڈیزائنس کا مرحلہ ہے جہاں پھر سرویس ٹیکس ادا کرنا ہوگا، اسکے بعد ایمبرائیڈری کا کام کیا جاتا ہے اس کیلئے بھی ٹیکس ادا کرنا ضروری ہے ۔اس طرح ایک ساری کی تیاری کیلئے تین تا چار مراحل پر ٹیکس ادا کرنے ہوں گے جو ناقابل برداشت ہیں۔ اس طرح ڈیجیٹل لین دین کاجہاں تک تعلق ہے 85 فیصد عوام کے پاس کمپیوٹر نہیں اور اکثریت ناخواندہ ہے جو کمپیوٹر سسٹم چلا نہیں سکتی۔ چنانچہ صرف تلنگانہ میں جہاں اس وقت 30تا35ہزار دکانات ہیں ان میں 25فیصد دکانات کو بند کردینا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT