Tuesday , May 30 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹیکس کے ذریعہ آمدنی ، تلنگانہ ملک میں سرفہرست ریاست

ٹیکس کے ذریعہ آمدنی ، تلنگانہ ملک میں سرفہرست ریاست

متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں آمدنی میں بھاری اضافہ ریکارڈ
حیدرآباد۔8فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹیکس کے ذریعہ آمدنی ملک کی دیگر ریاستوں میں سرفہرست قرار دی جانے لگی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں ٹیکس کے ذریعہ آمدنی میں سال گذشتہ کے اعتبار سے 19.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کسی بھی ریاست کا نہیں ہے بلکہ 17ریاستوں کی مجموعی آمدنی میں تلنگانہ کو حاصل ہونے والا یہ مقام ٹیکس کی آمدنی میں اضافہ کے فیصد کے اعتبار سے بہتر ہے لیکن دیگر ایسی ریاستیں بھی ہیں جن کی آمدنی تلنگانہ سے کافی زیادہ ہے۔ اعدادو شمار کے بموجب سال 2015-16 کے دوران ویاٹ‘ سیلس ٹیکس اور سروس ٹیکس کے علاوہ اسٹامپس و رجسٹریشن کے ذریعہ 23ہزار 719کروڑ روپئے حاصل ہوئے تھے اور سال 2016-17کے دوران ان امور میں ریاست تلنگانہ کی آمدنی بڑھ کر 28ہزار 339تک پہنچ گئی ہے جو کہ 19.5 فیصد اضافہ ہے اسی طرح اترکھنڈ کی ٹیکس کے ذریعہ آمدنی میں 16.1فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کرناٹک تیسرے نمبر پر جہاں 11.4فیصد ٹیکس آمدنی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ کی ٹیکس کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں اضافہ کے اس ریکارڈ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ ریاست کی تقسیم کے بعد یہ بھاری اضافہ تصور کیا جا رہا ہے جبکہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں 11.3فیصد ٹیکس کی آمدنی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے بموجب ریاست آندھرا پردیش میں سال 2015-16کے دوران ریاستی ٹیکس ‘ ویاٹ اور اسٹامپ و رجسٹریشن کے ذریعہ 24ہزار289کروڑ کی آمدنی ریکارڈ کی گئی تھی اور سال 2016-17کے دوران یہ آمدنی بڑھ کر 27ہزار 42کروڑ تک پہنچ گئی ہے اور اس اعتبار سے آندھرا پردیش کی آمدنی میں 11.3کروڑ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ریاست گجرات کی ٹیکس کے ذریعہ آمدنی میں 1.1فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن 2016-17کے دوران یہ آمدنی 33ہزار 323کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اسی طرح ریاست مہاراشٹرا کی آمدنی میں 10.8فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اس اعتبار سے سال 2016-17کی آمدنی 74ہزار 835کروڑ تک پہنچ چکی ہے جبکہ سال 2015-16کے دوران مہاراشٹرا کی ٹیکس کے ذریعہ آمدنی 67ہزار 514کروڑ ریکارڈ کی گئی تھی۔اڈیشہ اور بہار ایسی ریاستوں کی فہرست میں شامل ہیں جن کی ٹیکس کے ذریعہ آمدنی میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے بہار میں اس مدت کے دوران 18.5فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ اڈیشہ میں 2.8فیصد آمدنی میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT