Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس ، مجلس اور وقف مافیا سے مسلم عہدیداران ہراسانی کا شکار

ٹی آر ایس ، مجلس اور وقف مافیا سے مسلم عہدیداران ہراسانی کا شکار

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے ذریعہ سکریٹری اقلیتی بہبود کی کھلے عام توہین ، ترجمان تلنگانہ پی سی سی کا الزام
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : ترجمان تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر سید نظام الدین نے حکمران ٹی آر ایس کے علاوہ مجلس اور وقف مافیا کی جانب سے محکمہ اقلیت بہبود میں خدمات انجام دینے والے مسلم عہدیداروں کی خدمات میں بیجا مداخلت کرتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ توہین کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزراء ٹی آر ایس کے قائدین ، مجلس کے قائدین اور وقف مافیا کی بیجا مداخلت اور دباؤ سے محکمہ اقلیتی بہبود میں مسلم عہدیدار آزادانہ خدمات انجام دینے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے یا تو وہ طویل رخصت پر جارہے ہیں یا دوسرے محکمہ جات میں اپنا تبادلہ کرارہے ہیں ۔ ٹی آر ایس ، مجلس اور وقف مافیا کے دباؤ کا شکار ہو کر چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے طویل رخصت حاصل کرلی ہے ۔ آزادانہ کام کرنے میں تعاون کرنے کے بجائے ٹی آر ایس حکومت غیر سماجی عناصر کی راست و بلواسطہ تائید کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کی حوصلہ شکنی کررہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی نے برسر عام سکریٹری اقلیتی بہبود مسٹر سید عمر جلیل کی عوام کے سامنے توہین کی ہے ۔ ماضی میں صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ مسٹر اسد اویسی نے مبینہ طور پر ایماندار آفیسر ایم جے اکبر کا دباؤ ڈالتے ہوئے تبادلہ کرایا ہے ۔ اس طرح ٹی آر ایس و مجلس قائدین کی محکمہ اقلیت بہبود میں بیجا مداخلت بڑھ گئی ہے ۔ کام میں مداخلت ، دباؤ ، ہراسانی ، توہین آمیز سلوک سے محکمہ اقلیت بہبود میں کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور مسلم عہدیدار کام کے معاملے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ راست قرضوں کے لیے اقلیتوں سے 1.60 لاکھ درخواستیں وصول کی گئی ہیں ۔ درخواست گذار بیروز گار نوجوان قرضوں کے لیے منتظر ہے ۔ لیکن قرضوں کی اجرائی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ جس سے مسلمانوں میں حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ مسٹر سید نظام الدین نے کہا کہ وقف مافیا سرگرم ہوجانے سے وقف جائیدادوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں ۔ ٹی ار ایس حکومت نے سال 2014-15 اور 2015-16 میں منظورہ اقلیتی بجٹ میں 50 فیصد بجٹ بھی خرچ نہیں کیا ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں کئی جائیدادیں مخلوعہ ہیں انہیں پر کرنے کے لیے حکومت راضی نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی حلیف مجلس حکومت پر دباؤ بنانے کے لیے تیار ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT