Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حقیقی مسلم نمائندہ جماعت ، چیف منسٹر کے سی آر سیکولر قائد

ٹی آر ایس حقیقی مسلم نمائندہ جماعت ، چیف منسٹر کے سی آر سیکولر قائد

مسلمانوں کی فلاح و ترقی کیلئے سنجیدہ، اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار : محمد اعظم علی خرم
حیدرآباد۔ 16 اکتوبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد ٹی آر ایس کے جنرل سیکریٹری محمد اعظم علی خرم نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو سیکولر قائد اور ٹی آر ایس کو حقیقی مسلم نمائندہ جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر مسلمانوں کو ووٹ بینک بنانے کے بجائے ترقی و فلاح و بہبود میں حصہ دار بنارہے ہیں جس سے اپوزیشن جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ سستی شہرت کیلئے چیف منسٹر اور حکومت پر من گھڑت اور بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہیں۔ اعظم پورہ ٹی آر ایس آفس پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اعظم علی نے حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی ترقی و بہبود کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی دوسری ریاستیں اس کی تقلید کررہی ہیں۔ کے سی آر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی و بہبود کے معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ دسہرہ کے موقع پر تلنگانہ کے تمام اضلاع سے ٹی آر ایس کے مسلم قائدین کے ساتھ اپنی خوشیاں بانٹتے ہوئے گنگا جمنی تہذیب کا عملی نمونہ پیش کیا۔ مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں واقفیت حاصل کی اور مسلم قائدین نے بھی بلاجھجک کھلے ذہن سے اپنے مسائل چیف منسٹر کے سامنے پیش کئے جس پر کے سی آر نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ دسہرہ کے موقع پر چیف منسٹر تلنگانہ نے مسلمانوں کے ساتھ وقت گذارا۔ پڑوسی ریاستوں کے چیف منسٹر یا متحدہ آندھرا پردیش میں کبھی اس طرح کی کوئی مثال دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ریاست اور ملک پر حکمرانی کرنے والی سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا، لیکن ٹی آر ایس واحد سیاسی جماعت ہے جو مسلمانوں کو ترقی میں حصہ دار بنارہی ہے۔ چیف منسٹر نے بہت جلد اقلیتی اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا۔ ریاستی وزیر آئی ٹی کے تارک راما راؤ کے دورۂ امریکہ سے واپسی کے بعد قطعی فہرست تیار ہوجائے گی۔ چیف منسٹر وعدوں کو پورا کرنے کے معاملے میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ 12% مسلم تحفظات کیلئے بی سی کمیشن تشکیل دینے کو کابینہ میں منظوری دی گئی۔ جاریہ سال اقلیتی بجٹ 1200 کروڑ روپئے ہے۔ آئندہ سال 1500 کروڑ روپئے کرنے کا چیف منسٹر نے وعدہ کیا ہے۔ اقلیتوں کی تعلیم کے متعلق چیف منسٹر بہت سنجیدہ اقلیتی طلبہ کو کارپوریٹ طرز کی تعلیم فراہم کرنے کیلئے 71 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے گئے ہیں۔ آئندہ سال مزید 91 اسکولس کا اضافہ کیا جائے گا۔ بیرونی ممالک میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے اوورسیز اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔ فی طالب علم 20 لاکھ روپئے منظور کئے جارہے ہیں۔ شادی مبارک اسکیم انتہائی مقبول ہوگئی ہے۔ ہر سال 20,000 افراد شادی مبارک اسکیم سے استفادہ کررہے ہیں۔ 12% مسلم تحفظات کے بارے میں چیف منسٹر عملی اقدامات کررہے ہیں۔ سدھیر کمیشن سے رپورٹ وصول ہونے کے بعد بی سی کمیشن تشکیل دینے کے فیصلے کو کابینہ میں بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں تنقید برائے تنقید کرتے ہوئے بوکھلاہٹ کا اظہار کررہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT