Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ٹی آر ایس حکومت میں بغاوت کے آثار ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ میں سرد جنگ

ٹی آر ایس حکومت میں بغاوت کے آثار ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ میں سرد جنگ

ٹی ہریش راؤ کے بشمول وزراء اور 25 ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کی نقل و حرکت پر کڑی نظر
حیدرآباد ۔ 12 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت ہریش راؤ کے بشمول چند وزراء اور 25 سے زائد ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے ۔ بغاوت کے خدشہ کو محسوس کرتے ہوئے دوسری جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو حکمران جماعت میں شامل کرنے کے لیے کافی اہمیت دی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ٹی آر ایس میں کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے درمیان سرد جنگ جاری ہے ۔ جس کی وجہ سے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر عملاً سرگرم ہوگئے ہیں ۔ یقینا وہ اپنے فرزند ریاستی وزیر کے ٹی آر کو اپنے سیاسی وارث کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔ کے سی آر کی دختر و رکن پارلیمنٹ نظام آباد مسز کویتا نے جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی تاریخ ساز کامیابی پر اپنے بھائی کے ٹی آر کو اپنے والد کا سیاسی وارث قرار دیا تھا ۔ جس سے ٹی آر ایس کے حلقوں میں سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی تھی ۔ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے کے ٹی آر کو بھی وضاحت کرنی پڑی تھی ۔ جی ایچ ایم سی کی کامیابی کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اپنے فرزند کے ٹی آر کو انعام کے طور پر وزارت بلدی نظم و نسق کا قلمدان سپرد کیا جب کہ ورنگل اور نارائن کھیڑ میں تمام ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے والے ہریش راؤ کو نظر انداز کردیا گیا ۔

یہاں تک وزارتی قلمدانوں کی تبدیلی میں کے ٹی آر کو صنعت سے متعلق اہم وزارت سونپی گئی جب کہ ہریش راؤ سے معدنیات کا قلمدان چھین لیا گیا ۔ زمینی سطح سے سیاسی قوت رکھنے والے ہریش راؤ کی حکومت میں قدر گھٹائی جارہی ہے اور کے ٹی آر کے موقف کو دن بہ دن مستحکم کیا جارہا ہے ۔ ساتھ ہی دوسری جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے کے بعد ان اسمبلی حلقوں کے ٹی آر ایس انچارجس میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ آئندہ ان کا پارٹی میں رول صفر رہے گا ۔ کئی سینئیر ایسے ارکان اسمبلی ہیں جنہیں نظر انداز کر کے وزارت میں جونیرس کو اہمیت دی گئی ہے ۔ بورڈ و کارپوریشن کے نامزد عہدوں پر پارٹی کے سیکنڈ گریڈ قائدین کو موقع فراہم کرنے کے بجائے چند ارکان اسمبلی کو عہدے سونپے جارہے ہیں ۔ چیف منسٹر کی ہدایت پر انٹلی جنس سرگرم ہوگئی ہے ۔ وزراء اور ارکان اسمبلی کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ 28 ارکان اسمبلی ہریش راؤ کے گروپ میں شامل ہے ۔ ان پر ہریش راؤ کا مکمل کنٹرول ہے ۔ ہریش راؤ کے ایک اشارہ پر وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہے ۔ حکومت کو امکانی بحران سے بچانے کے لیے ایک منظم منصوبہ بندی کے ذریعہ دوسری جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کیا جارہا ہے تاکہ بغاوت کے اثر کو زائل کیا جاسکے ۔ وزراء اور ارکان اسمبلی کو بھی نظر رکھنے کا علم ہے ۔ اس لیے وہ ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھا رہے ہیں ۔ جلد بازی یا عجلت پسندی کا مظاہرہ کرنے سے احتراز کررہے ہیں ۔ ٹی آر ایس حلقوں میں تحریک کے ابتداء سے ٹی آر ایس کے ساتھ رہنے والے قائدین میں پارٹی قیادت کی جانب سے نظر انداز کرنے کا احساس پایا جاتا ہے اور کئی قائدین کئی مسائل پر پارٹی قیادت سے مایوس ہونے کے علاوہ ناراض ہے ۔ سیاسی داؤ پیچ کے ماہر چیف منسٹر کے سی آر ہر آہٹ پر چوکنا ہونے کا پارٹی کے اجلاسوں اور بند کمروں کی ملاقاتوں میں پارٹی قائدین کو باور کرارہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT