Thursday , August 24 2017
Home / اداریہ / ٹی آر ایس حکومت پر تنقیدیں

ٹی آر ایس حکومت پر تنقیدیں

دنیا نہ جیت پاؤ تو ہارو نہ خود کو تم
تھوڑی بہت تو ذہن میں ناراضگی رہے
ٹی آر ایس حکومت پر تنقیدیں
تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی چیرمین ایم کوڈنڈا رام کے خلاف ٹی آر ایس حکومت کے وزراء اور قائدین نے شدید تنقید کی ہے ۔ کوڈنڈا رام کا قصور اتنا تھا کہ انھوں نے ریاستی حکومت کے خلاف نازک ریمارکس کئے تھے ۔ کوڈنڈارام تلنگانہ تحریک کے روح رواں سمجھے جاتے ہیں ، کے سی آر نے اپنی علحدہ ریاست تلنگانہ کی جدوجہد کے دوران کوڈنڈا رام یا ان کی طرح کئی تحریک کے حامیوں سے بھرپور استفادہ کیا تھا ۔ تلنگانہ کے حصول اور اقتدار پر فائز ہونے کے بعد ٹی آر ایس نے اپنی علحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک اصولوں ، وعدوں اور نئی ریاست کے قیام کے اصل مقاصد کو فراموش کردیا اور اس کی ان فریبی نظروں کی جانب جب توجہ دلائی گئی تو حکمراں پارٹی سے وابستہ افراد کو بُرا لگا ہے ۔ اتوار کے دن کوڈنڈا رام نے ٹی آر ایس حکومت کے خلاف سنگین الزامات عائد کئے تھے اور کہا تھا کہ یہ پارٹی اپنے وعدہ کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ حکومت میں آنے کے دو سال بعد تک بھی ریاست تلنگانہ کی صورت گیری نہیں کی گئی بلکہ پہلے سے زیادہ ابتری پیدا کردی گئی ۔ ریاست میں زرعی شعبہ سے لیکر ہر طرح کے عوامی ضرورتوں سے مربوط محکموں کی ترقی کیلئے گزشتہ دو سال کے دوران کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ۔ ٹی آر ایس کابینہ کے وزراء کو کوڈنڈا رام کی اس طرح کی کھری کھری پسند نہیں آئی ۔ گویا کوڈنڈا رام نے ان کی عزت نفس پر ضرب لگائی ہو ۔ حقائق سے واقف کاروں کو اندازہ ہے کہ ٹی آر ایس حکومت میں اس وقت کیا کھچڑی پک رہی ہے اور ابتری کی حالات کس حد تک نازک ہوچکے ہیں ۔ تلنگانہ کے کئی وزراء نے اپنے خلاف الزامات اور تنقیدوں کا سامنا کرنے کا سنجیدہ مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ان دنوں ٹی آر ایس سربراہ سے لیکر ان کی پارٹی سے وابستہ ادنیٰ ورکر بھی خود کو ماورائے دستور اتھاریٹی متصور کرنے لگا ہے ۔ ماضی کی سیاسی تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی حکمراں پارٹی کا ہر رکن خود کو ماورائے دستور اتھاریٹی متصور کرنے لگتا ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ پارٹی اور اقتدار کا زوال شروع ہوا ہے ۔ ٹی آر ایس ابھی بہتر طریقہ سے کھلی ہوا میں سانس بھی نہیں لے سکی تھی کہ اس کے اطراف مفاد پرستی اور خودغرضی کی ایسی آلودہ فضاء پھیل گئی کہ حکومت کی کارکردگی پر انگلیاں اُٹھنے والے اسباب و حالات پیدا ہونے لگے ۔ کوڈنڈا رام کے ریمارک پر اسی لب ولہجہ میں چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے رفقاء نے بھی ریمارک کیا ہے۔ٹی آر ایس حکومت کے کئی وزراء نے کوڈنڈا رام کے الزامات کو غلط قرار دیا ۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد اس کے حامیوں نے نئی ریاست کے قیام کے مقاصد کے برعکس کام کرنا شروع کیا اور مخالفین نے اس سے بھرپور فائدہ اُٹھاکر حکومت اور تلنگانہ تحریک کو کمزور کرنے والے واقعات کو ہوا دینی شروع کی ہے ۔ کوڈنڈا رام سیاسی سرگرمیوں سے دور ہیں لیکن ٹی آر ایس نے تلنگانہ تحریک کے دوران ان کی جدوجہد علحدہ ریاست تلنگانہ کے حوالے سے عوام کے ووٹ حاصل کئے ۔ تلنگانہ کے قیام کے لئے ہر سطح اور ہر شعبہ سے وابستہ تلنگانہ قائدین اور عوام نے مضبوطی کے ساتھ کام کیا تھا ۔ اب اس کے عوض عوام اور قائدین بہتری ، ترقی اور خوشحالی کی آرزو رکھتے ہیں تو حکومت کا کام ہوتا ہے کہ وہ ان کے مسائل حل کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے ۔ تلنگانہ پولیٹکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اگر اپنی سرگرمیاں کسی سیاسی پلیٹ فارم سے شروع کی تو ہوسکتا ہے کہ آئندہ مہینوں میں تلنگانہ کے اندر حکمراں پارٹی کے اندر سے ہی کوئی طاقت علحدہ ہوکر اسی پلیٹ فارم پر نمودار ہوجائے ، کیوں کہ کوڈنڈا رام بھی گزشتہ دو سال تک چپ رہنے کے بعد اب حکومت پر شدید تنقیدیں شروع کی ہیں تو ریاست تلنگانہ کی سیاسی کیفیت میں تبدیلی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ بلاشبہ ٹی آر ایس متواتر طورپر انتخابات میں کامیاب ہورہی ہے اور دیگر پارٹیوں سے وابستہ اہم قائدین بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوکر پارٹی کو پہلے سے زیادہ مضبوط بناچکے ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کوئی بھی چیز زیادہ مضبوط ہوتی ہے تو اس کے ٹوٹ پھوٹ کا اندیشہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ ٹی آر ایس کے ایک ایم پی نے کوڈنڈا رام پر الزام عائد کیا کہ وہ کانگریس کے ایجنٹ کے طورپر کام کررہے ہیں تو پھر انھیں یا ٹی آر ایس کے سربراہ اور دیگر قائدین کو یہ اندازہ ضرور ہونا چاہئے کہ ٹی آر ایس میں اب تک جتنے بھی بیرونی قائدین نے شمولیت اختیار کی ہے کیا وہ ٹی آر ایس میں رہ کر اپنی اپنی متعلقہ پارٹیوں کے ایجنٹ کا کام نہیں کرسکتے ؟ کسی طاقت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کا مقصد اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کرنا بھی ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT