Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت پر ریمارک کا شاخسانہ، ڈگ وجئے سنگھ پر معلومات کی کمی کا الزام

ٹی آر ایس حکومت پر ریمارک کا شاخسانہ، ڈگ وجئے سنگھ پر معلومات کی کمی کا الزام

تلنگانہ ترقی کے میدان میں ملک میں سرفہرست، ٹی آر ایس قائدین کا شدید ردعمل

حیدرآباد۔/4مارچ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی نے الزام عائد کیا کہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ معلومات کی کمی کے باعث ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں خاندانی حکمرانی سے متعلق ڈگ وجئے سنگھ کے ریمارک پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لیجسلیچر پارٹی کے ارکان نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ اس طرح اپنی کم عقلی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ارکان قانون ساز کونسل فاروق حسین، ڈی وینکٹیشورلو اور جی گنگادھر گوڑ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی اور فلاحی اسکیمات میں ریاست ملک میں سرفہرست ہے۔ کانگریس قائدین اس حقیقت سے واقفیت کے باوجود بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔ ارکان نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے ڈگ وجئے سنگھ نے کیا کارنامے انجام دیئے اس کی وضاحت کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ اپنی ریاست میں کانگریس پارٹی کو اقتدار میں واپس لانے میں ناکام ہوچکے ہیں لیکن اب تلنگانہ میں کانگریس کی ساکھ بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تلنگانہ کے عوام پوری طرح ٹی آر ایس کے ساتھ ہیں اور وہ اپوزیشن کے بہکاوے میں آنے والے نہیں۔ گذشتہ 15 برسوں سے مدھیہ پردیش میں بی جے پی برسراقتدار ہے اور آگے بھی کانگریس پارٹی کیلئے کوئی امکانات نظر نہیں آتے۔ ارکان قانون ساز کونسل نے کہا کہ ایک ناکام سیاستداں ڈگ وجئے سنگھ کو تلنگانہ حکومت پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ کے سی آر نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر تلنگانہ ریاست کے حصول کیلئے جدوجہد کی۔ ہریش راؤ، کے ٹی آر اور کویتا نے بھی کئی برسوں تک تلنگانہ جدوجہد میں حصہ لیا اور مصائب و مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے مقدمات کا سامنا کیا ہے۔ ایسے قائدین پر خاندانی حکمرانی کا الزام عائد کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ملک میں کانگریس پارٹی خود بھی خاندانی حکمرانی کی مثال ہے۔ جواہر لعل نہرو، اندراگاندھی، سنجے گاندھی، راجیو گاندھی، سونیاگاندھی اور راہول گاندھی جیسے قائدین نے کانگریس کی باگ ڈور سنبھالی اور آج اسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈگ وجئے سنگھ خاندانی حکمرانی کی بات کررہے ہیں۔ ارکان کونسل نے کہا کہ اگر 2004 میں متحدہ آندھرا پردیش میں کے سی آر کانگریس کا ساتھ نہ دیتے تو اسے اقتدار حاصل نہ ہوتا۔ ارکان کونسل نے کہا کہ اس طرح کے قائدین کے سبب ہی کانگریس زوال پذیر ہے اور ملک کے کئی علاقوں میں کانگریس امیدواروں کی ضمانت بھی نہیں بچ سکی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ترقیاتی اور فلاحی اقدامات میں رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے کانگریس عدالت سے رجوع ہورہی ہے۔ کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو بحال کرنے کے معاملہ میں عدالت سے رجوع ہوکر رکاوٹ پیدا کی گئی۔ مشن بھگیرتا کے ذریعہ ہر گھر کو پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیم ملک میں اپنی نوعیت کی منفرد اسکیم ہے۔ کسی بھی ریاست میں اس طرح کی اسکیم شروع نہیں کی گئی۔ فاروق حسین نے قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر پر تنقید کی اور کہا کہ  تلنگانہ میں ایک بھی روزگار فراہم کرنے میں ناکامی سے متعلق الزام بے بنیاد ہے۔ کانگریس پارٹی میں اپنی شناخت اور ساکھ برقرار رکھنے کیلئے محمد علی شبیر اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جائیدادوں پر تقررات کی تفصیلات محمد علی شبیر اور جانا ریڈی کو روانہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ فاروق حسین نے کہا کہ وہ 39 برسوں تک کانگریس میں رہ چکے ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کانگریس قائدین کے قول و فعل میں کس قدر تضاد ہے اس کے برخلاف چیف منسٹر کے سی آر اپنے وعدوں کی تکمیل پر ایقان رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT