Thursday , June 29 2017
Home / اداریہ / ٹی آر ایس حکومت کا مثالی عمل

ٹی آر ایس حکومت کا مثالی عمل

لائے اُس بت کو التجا کرکے
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے
ٹی آر ایس حکومت کا مثالی عمل
چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ تحریک اور پھر اسمبلی انتخابات سے قبل مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اسے انہوں نے پورا کرنے کی سمت ایک بہت بڑا اور تاریخی قدم بڑھایا ہے ۔ چیف منسٹر نے اپنے وعدہ اور حکمت عملی کے مطابق مسلمانوں کو فراہم کردہ تحفظات کے تناسب کو بڑھا کر 12 فیصد کرنے کی سمت پیشرفت کرتے ہوئے تلنگانہ اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں اس بل کو منظور کروالیا ہے ۔ حالانکہ اسمبلی میں ٹی آر ایس کو درکار اکثریت حاصل ہے تاہم ریاست کی تمام دوسری سیاسی جماعتوں نے ‘ سوائے بی جے پی کے ‘ اس بل کی تائید و حمایت کی ہے اور حکومت کے فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے اس بل کو عملی شکل دینے اور مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں تحفظات کے فوائد پہونچانے کیلئے حکومت کو مشورے دئے ہیں یہ سب قابل خیرمقدم ہے ۔ چندر شیکھر راؤ کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ وہ کافی غور و فکر کے بعد کوئی اعلان کرتے ہیں اور کوئی فیصلہ کرتے ہیں۔ جب وہ کوئی اعلان یا فیصلے کرلیتے ہیں تو پھران کو پورا کئے بغیر انہیں چین نہیں آتا اور مسلم تحفظات کے مسئلہ میںچیف منسٹر نے اس بات کو حقیقت میں ثابت بھی کردکھا یا ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ سارے ملک میںمسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کی منصوبہ بندیاں ہو رہی ہیں۔ جس ملک پر مسلمانوں نے صدیوں تک حکومت کی ہے اسی ملک میںمسلمانوں کو یا تو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی سازشیں ہو رہی ہیں یا پھر ملک یا ریاست چھوڑ دینے کیلئے دھمکیاں دی جا رہی ہیں ویسے میں کے چندر شیکھر راؤ نے سارے ملک کے چیف منسٹروں کیلئے اور خود مرکزی حکومت کیلئے ایک مثال پیش کرتے ہوئے مسلمانوں سے انصاف کی سمت پہل کی ہے جس پر وہ قابل مبارکباد ہیں اور مسلمان ان سے اظہار تشکر بھی کرتے ہیں۔ حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے اور ایوان مقننہ میں بل کی منظوری کو مسلمانوں کو حقیقی معنوںمیں تحفظات فراہم کرنے کی سمت اہم قدم قرار دیا جاسکتا ہے ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تحفظات کی فراہمی کی راہ میں جو کچھ بھی رکاوٹیں پیدا ہونگی ان کو دور کرنے کیلئے کمر کس لی جائے۔
قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ مقررہ حد سے زیادہ تحفظات فراہم کی ہمارے سامنے اورسارے ملک کے سامنے مثالیں موجود ہیں اور اسی راہ کو اختیار کرتے ہوئے تحفظات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے چاہے اس کی راہ میں کتنی بھی رکاوٹیں کیوں نہ پیدا کی جائیں۔ چندر شیکھر راؤ نے انتخابی مہم اور تلنگانہ تحریک کے دوران مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ان کے ووٹ جیتے تھے اور اب وہ اس وعدہ پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کے دل جیتنے کا کام کر رہے ہیں۔ اگر وہ مسلمانوں کو ان کا حق دلانے میں اپنی جدوجہد کے ذریعہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ مسلمانوں کو بھی ناشکر گذار نہیں پائیں گے ۔ تلنگانہ ریاست چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اور برسر اقتدار ٹی آر ایس کا قلعہ بن جائیگی اور یہ سارے ہندوستان کیلئے ایک مثال ہوگی ۔ ان کا یہ فیصلہ اور اقدام سارے ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے اور سارے ہندوستان میں اس کی تقلید کی جاسکتی ہے ۔ جس طرح ٹاملناڈو میں تحفظات کی حد کو مثال بنا کر چندر شیکھر راؤ نے یہ فیصلہ کیا ہے اسی طرح ان کے اس فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے دوسری ریاستوں میں بھی مسلمانوں کے ساتھ انصاف کی راہ ہموار ہوسکتی ہے اور جہاں کہیں بھی مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرتے ہوئے ان کی سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی اور تعلیمی حالت کو بہتر بنانے کی سمت پہل ہوگی اس کا سہرا چندر شیکھر راؤ اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سر جائیگا ۔ چیف منسٹر کیلئے اور ٹی آر ایس کیلئے یہ ایک ایسا اعزاز ہوگا جو دوسروں کے حصے میں نہیں آئیگا ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کی سمت ہم نے ایک مرحلہ ضرور پار کرلیا ہے اور آئندہ کا راستہ ہوسکتا ہے کہ مشکل بھی ہو لیکن جب کسی عزم کے ساتھ پیشرفت کی جائے تو راستے میں چاہے کتنی رکاوٹیں کیوں نہ آئیں ہم اپنی منزل پر ضرور پہونچ سکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے ایک ایسی مثال سارے ہندوستان کیلئے قائم کردی ہے جس کی نظیر ماضی میں ملنی ممکن نہیں ہے اور مستقبل کیلئے یہ دوسری ریاستوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل میں بھی مسلم تحفظات کا اہم رول ہوگا ۔ جب مسلمان تلنگانہ ریاست میں اپنی سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی اور تعلیمی صورتحال میں سدھار لانے میں کامیاب ہونگے تو یقینی طور پر تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ بنانے میں مسلمانوں کا بھی اپنا حصہ ہوگا اور وہ بھی تلنگانہ کے قابل فخر سپوت بنیں گے ۔ ریاست کی جن اپوزیشن جماعتوں نے مسلم تحفظات کی تائید کی ہے وہ بھی قابل مبارکباد ہیں اور ان کی تائید بھی اہمیت کی حامل ہے ۔ انہیں مستقبل میں بھی اس سلسلہ میں حکومت کے شانہ بہ شانہ جدوجہد کرنی چاہئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT