Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت کی مقبولیت پر سروے بوگس

ٹی آر ایس حکومت کی مقبولیت پر سروے بوگس

چیف منسٹر کو خوش فہمی کا شکار بنانے ٹیم کا منظم سروے ، محمد علی شبیر کی کھری کھری
حیدرآباد۔ 8مئی (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کے سی آر حکومت کی جانب سے حکومت کی مقبولیت کے بارے میں جاری کردہ سروے کو بوگس قرار دیا اور کہا کہ چیف منسٹر اور ان کی ٹیم نے خود کو خوش فہمی کا شکار رکھنے کے لیے اس طرح کا سروے منظم کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ بنگلور کے ایک ادارے کے ذریعہ سروے رپورٹ میڈیا کے مخصوص گوشوں میں جاری کی گئی اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ عوام حکومت کے ساتھ ہیں اور آئندہ انتخابات میں بھی ٹی آر ایس کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی مقبولیت کا اندازہ عوام کی ناراضگی سے لگایا جاسکتا ہے۔ دراصل کے سی آر عوامی ناراضگی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر اس طرح کے فرضی اور گمراہ کن سروے رپورٹس کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو ریاست میں کوئی ایسا ادارہ نہیں ملا جس سے اس طرح کا سروے کرایا جاسکے۔ اگر حکومت کو عوام میں اپنی مقبولیت کا اندازہ کرنا ہے تو چیف منسٹر اور وزراء کو عوام کے درمیان جانا چاہئے۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کو چیلنج کیا کہ وہ ریاست کے مارکٹ یارڈس کا دورہ کریں جہاں انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ عوام حکومت سے کس حد تک برہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر تو کجا کوئی وزیر اور برسر اقتدار پارٹی کا عوامی نمائندہ مارکٹ یارڈس کا دورہ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ وہ مسائل کا شکار کسانوں کا سامنا نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بوگس اور فرضی سروے کے ذریعہ نہ صرف حکومت خوش فہمی کا شکار ہے بلکہ اپنے کیڈر کو بھی دھوکے میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تین سالہ کارکردگی سے عوام سخت مایوس ہیں اور اگر وسط مدتی انتخابات کرائے جائیں تو زمینی حقیقیت کا پتہ چلے گا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دیگر جماعتوں سے شامل کئے گئے ارکان اسمبلی کو مستعفی ہوکر دوبارہ ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہونا چاہئے۔ کانگریس دورِ حکومت میں جب ٹی آر ایس ارکان نے اپنی مرضی سے شمولیت اختیار کی تھی تو کے سی آر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ منتخب ہونے کا چیلنج کیا تھا۔ لیکن اب وہ دیگر دجماعتوں کے ارکان اسمبلی کو استعفی کے بغیر ہی پارٹی میں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ فرضی سروے لاکھ منظر عام پر لائے جائیں، عوام کی برہمی کو دور نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سروے کی رپورٹ کے ذریعہ قائدین اور کارکنوں کو کچھ دیر کے لیے خوش فہمی کا شکار رکھا جاسکتا ہے لیکن حقیقی صورتحال کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مرچ کے کسان حکومت کے وعدوں پر عمل آوری کے منتظر ہیں اور انہیں بھاری نقصان ہورہا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر حکومت کو عوامی ناراضگی کا مشاہدہ کرنا ہو تو اسے چاہئے کہ دھرنا چوک بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو سروے میں کمزور ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر نے دراصل اپنے خوف کا اظہار کردیا ہے۔ ٹی آر ایس کانگریس پارٹی سے خوفزدہ ہے کیوں کہ 2019ء کے انتخابات میں کانگریس کے امکانات روشن ہیں۔

TOPPOPULARRECENT